تبدیلی اور ہمارے حکمران
22 جولائی 2019 2019-07-22

مایوسی اس وقت بہت زیادہ ہونے لگتی ہے جب آپ کسی شخص سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں اور وہ شخص آپ کی توقعات پر پورا نہ اترے یہی سب کچھ اس وقت عمران خان کے ساتھ وابستہ لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جلسے جلسوں میں بڑے بڑے نعرے لگوانے والا عمران خان عملی میدان میں مکمل طور پر فیل ہو چکا ہے یہی وہ بات ہے جو زبان زد عام ہے۔ بسا اوقات ایسی باتیں پڑھ کر حیرانی اور بڑھ جاتی ہے جب بڑے بڑے دانشور بھی عمران خان کو ناکام قرار دے رہے ہو تے ہیں جانتے ہوئے کہ کامیابی اور تبدیلی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ہر دور کے لیڈر کی جلسے جلوسوں کی سیاست اور عملی میدان کی کارکر دگی میں ایک سو اسی ڈگری کا فرق رہا ہے ۔اگر عمران خان کو ناکام تصور کر لیا جائے تو وہ شخص بھی ناکام ہوا جو اپنے جلسے جلسوں میں زرداری کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت باہر نکالنے کی بات کرتا تھا۔ اس طرح وہ سیاسی لیڈر بھی ناکام ہوا جو لاہور کو پیرس بنانے کی بات کر تا تھا۔ اسی پیرس کو پچھلی دنوں بارش نے وینس بنا دیکھا۔اگر عمران خان ناکام ہے تو وہ بی بی بھی ناکام ہو ئی جو الیکشن سے پہلے عمران اور زرداری کو بھائی بھائی کہتی تھی اور پھر اسی زرداری کے بیٹے کو جمہوریت بچا نے کے لیے ملنے پر مجبور ہوئی۔ ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر دور کے ہر لیڈر نے سیاست کی ہے۔کامیابی اور تبدیلی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا اگر ایسا ہوتا تو اقتدار کا ھما 22 سال پہلے عمران خان کے سر پر سج جاتا مگر ایسا نہ ہوا۔

ہر شخص تبدیلی چاہتا ہے مگر خود کو تبدیل کرنے سے ڈرتا ہے عمران خان سے تبدیلی کی توقع رکھنے والے تاجر اپنے بینک بیلنس میں تبدیلی سے ڈرتے ہیں۔ آج کل ہر شخص تبدیلی کے انتظار میں عمران خان کے چہرے کو یوں دیکھ رہا ہے جیسا بھوکا روٹی کو دیکھتا ہے۔ تبدیلی کا یہی چورن ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کی شکل میں بیچا ۔ تبدیلی کا یہی لڈو شہباز شریف اور نواز شریف نے لاہور کو پیرس بنا نے کی شکل میں بیچا۔ سالہا سال کے ان نعروں اور وعدوں کے بعد صرف ایک جگہ تبدیلی دیکھنے میں آئی وہ تبدیلی حکمرانوں کے بینک بیلنس اور طرز زندگی میں تھی تبدیلی کے اس سفر میں بھٹو خاندان کی جاِئیدادیں پو ری دنیا میں پھیل گئیں تبدیلی کی اس گنگا میں شریف خاندان نے بھی خوب ہاتھ دھوئے ۔

عمران خان بھی اپنی زندگی میں تبدیلی لے آئے ایک کرکٹر سے وزیراعظم بن گئے مگر ہر دور میں عوام آسودہ زندگی کے حصول کا کشکول اٹھائے ہر حکمران کے چہرے کی طرف ہی دیکھتی رہی بنا جانے کہ تبدیلی ہر انسان کے بدلنے سے ہے ہر شخص اپنی ذات میں تبدیلی لاتا ہے تو قوموں کی زندگی بدلتی ہے۔ ہمارے ملک میں بھٹو آج تک اسی لیے نہیں مرا کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھٹو خاندان ان کی زندگی میں روٹی کپڑا اور مکان دے کر تبدیلی لائے گا ۔

تبدیلی وہ ٹرک کی بتی ہے جس کے پیچھے ہر حکمران نے عوام کو لگایا اور تو اور تبدیلی کے اس سفر میں ہماری فوج (جس کی ذمہ داری سرحدوں کی حفاظت تھا) نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ تبدیلی کے معاملے میں قدرت کے قوانین ہمیشہ سے اٹل رہے ۔قرآن کی سورہ رعد میں خداوند تعالیٰ نے تبدیلی کا قانون بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیںبدل لیتے‘‘ ۔

آلِ فرعون اور ان سے پہلے کی قوموں کا ذکرکرتے ہوئے بھی اسی اصول کو اسی طرح بیان کیا گیا ہے:’’یہ اللہ کی اِس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِعمل کو نہیں بدل دیتی، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والاہے‘‘۔

ہم اپنا طرز عمل نہیں بدلتے مگر تبدیلی چاہتے ہیں جبکہ ایسا سوچنا بھی قانون قدرت کے خلاف ہیں۔قرآن نے قوموں کے خیروشر کا دارومدار خود اس قوم کے اعمال پر رکھ دیا ہے۔ جس ملک میں مسجدوں کے باہر لوگوں کے جوتے محفوظ نہ ہوں جہاں پانی والے کولر کے ساتھ گلاس کو زنجیر سے باندھا جا تا ہو جب اس ملک کے لوگ تبدیلی کے لئے حکمرانوں کی طرف دیکھتے ہیں تو حیرانی بھی ہوتی ہے اور پریشانی بھی ۔اوپر بیان کی گئی دونوں آیات میں تبدیلی کا دارو مدار ’نفس‘ کی تبدیلی کو قرار دیا گیا ہے۔ گویا ’’نفس‘‘ ہی وہ زمین ہے جہاں عروج و زوال کی تخم ریزی ہوتی ہے یہی وہ جگہ ہے جہاں بیج بویا جاتا ہے اور پھر یہی بیج تبدیلی اور انقلاب کا تناور درخت بنتا ہے۔ تبدیلی محض بیرونی عوامل کا کرشمہ نہیں ہوتی۔ یہ نفس کے خلاف جدوجہد اور اعلیٰ کردار کے حامل لوگوں کی زندگی میں آتی ہے ۔

اس لیے میری اپنی عوام سے بھی یہی گزارش ہے کہ عمران خان کی طرف سے تبدیلی کا انتظار کرنے کی بجائے اپنی ذات میں تبدیلی لائیں، اپنے کردار میں تبدیلی لائیں۔ جب ہر پاکستانی اپنی ذات اور کردار میں تبدیلی لے آئے گا تو اسے پاکستان خود بخود بدلا ہوا دکھائی دے گا ۔


ای پیپر