مہاتیر کے دیس میں .... (قسط 2 )
22 جولائی 2019 2019-07-22

اس ورکشاپ کے تےن سےشن تھے۔ اےک سےشن مےں جرمنی سے آئے ڈاکٹر اولےور نے تحقےقی مضامےن لکھنے، انہےں اےڈٹ کرنے اور کانفرنسز کے انعقاد ، وغےرہ کے حوالے سے طوےل لےکچر دےا۔ زندگی مےں شاےد پہلی بار مجھے کسی پروفےسر کو مسلسل دو گھنٹے تک سننااچھا لگا۔ بعد مےں معلوم ہوا کہ شعبہ تعلےم مےں آنے سے پہلے ڈاکٹر اولےور صحافی ہوا کرتے تھے اور سفارتکار بھی۔انکا صحافتی اور سفارتی تجربہ انکی گفتگو سے عےاں تھا۔ جامعات کی عالمی درجہ بندی مےری دلچسپی کا موضوع ہے۔ مےں نے سوال کےا کہ جب درجہ بندی اےک کمرشل معاملہ ہے۔ اسکا طرےق کار (methodology) بھی تنقےد کی زد مےں رہتا ہے۔ اس کے باوجود ےہ اس قدر اہم کےوں ہے؟ ڈاکٹر اولےور نے تصدےق کی کہ ےہ واقعتا اےک تجارتی معاملہ بن چکا ہے اور اسکی جانبداری مشکوک سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے بتاےا کہ بہت سے ممالک عالمی درجہ بندی کی پروا نہےں کرتے۔ مثال کے طور پر مےرا ملک جرمنی اس دوڑ مےں شامل ہونے کی ضرورت محسوس نہےں کرتا۔ جرمنی مےں ہماری توجہ نظام تعلےم کو جدےد عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے پر مرکو ز رہتی ہے۔ ہمےں ہرگز پروا نہےں کہ ہماری ےونےورسٹےاں کسی درجہ بندی مےں آتی ہےں ےا نہےں۔ مےں نے کہا کہ اس بے نےازی کے باوجود جرمنی کی پےنتالےس (45) جامعات QS ranking 2019 کا حصہ ہےں۔ ڈاکٹر اولےور نے کندھے اچکائے اور کہا ۔۔ who cares ( اس کی پرواہ کسے ہے)۔

چائے کے وقفے مےں ، ڈاکٹر لطےفہہ اور ڈاکٹر نکول سے ملائشےا کے نظام تعلےم کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی۔ معلوم ےہ ہوا کہ وہاں بھی استاد کی ترقی تحقےقی مضامےن لکھنے سے مشروط ہے۔وہاں بھی ےہ معاملہ زےر بحث رہتا ہے کہ تحقےقی سرگرمےوں کو وجہ سے استاد کی توجہ طالب علموں پر کم ہوتی جا رہی ہے۔ وہاں بھی درجہ بندی کی ظالم دوڑ مےں شرےک رہنے کی خواہش، اساتذہ کو سخت دباو مےں رکھتی ہے۔ تاہم تحقےقی سرگرمےوں کے علاوہ ، فارغ التحصےل طالب علموں کی شرح روزگار (employment rate) کسی تعلےمی ادارے کی اصل کامےابی سمجھا جاتا ہے۔

اگلی صبح کانفرنس کا پہلا روز تھا۔ کلےدی تقرےر(Keynote speech) ڈےجےٹل مےڈےا کے متعلق تھی۔ وہی باتےں جو ہم پاکستان مےں بھی اکثر وبےشتر سنتے اور دہراتے ہےں۔کہ ٹےکنالوجی کی وجہ سے انسان روبوٹ بن کر رہ گےا ہے۔ اےک مشےن کی طرح زندگی گزارتا ہے۔ اپنے قرےبی رشتوں سے دن بدن دور ہوتا جا رہا ہے۔ ٹےکنالوجی کا بے جا استعمال بچوں کو نفسےاتی اور جسمانی طور پر متاثر کر رہا ہے۔ وغےرہ وغےرہ۔ پتہ ےہ چلا کہ جدےد ٹےکنالوجی کے مثبت اور منفی پہلو باہر کی دنےا مےں بھی اسی طرح زےر بحث ہےں جےسے ہمارے ہاں۔ اےک خصوصی لےکچر مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر تھا۔ ےہ ٹےکنالوجی کا جدےد تصور ہے۔ اس کے مطابق مستقبل مےں انسانوں کی جگہ روبوٹ سنبھال لےں گے اور مختلف شعبوں مےں کام کرتے نظر آئےں گے۔ اےک امرےکی پروفےسر نے "آرٹیفشل انٹےلی جنس اور مےڈےا " کے موضوع پر طوےل تقرےر کی۔ لب لباب انکی گفتگو کا ےہ تھا کہ آنے والے برسوں مےں مےڈےا انڈسٹری مےں اصل صحافےوں کی جگہ مشےنی صحافےوں (Robot journalists) کا راج ہو گا۔روبوٹ ہی اخبارات کےلئے خبرےں بنائےں گے اورٹےلی وےژن پر پروگرام کےا کرےں گے۔ انسانوں کا عمل دخل بتدرےج کم ہوتا جائے گا۔ اس خطاب کے دوران ہال مےں انتہائی خاموشی تھی۔ حاضرےن مبہوت ہو کر روبوٹ کے ممکنہ کمالات سن رہے تھے۔لےکن مجھے ان پروفےسر کی باتےں انتہائی غےر دلچسپ اور بےزار کن لگےں۔ بھلا اس مےں کےا خاص بات ہے کہ مستقبل مےں مےڈےامےں مشےنی صحافی کام کےا کرےں گے۔ ےہ بھی کوئی کما ل کی بات نہےں کہ چےن نے دنےا کا پہلا "روبوٹ ٹی وی اےنکر" متعارف کروا ےا ہے۔ جو دےکھنے مےں تو انسان لگتا ہے۔ مگر اصل مےں اےک مشےن( ےعنی روبوٹ) ہے۔

مےں نے سوچا کہ پاکستان مےں ہم جدےد ٹےکنالوجی کے بغےر بھی ےہ کام بحسن و خوبی کر رہے ہےں۔ خاص طور پر ہمارے نےوز چےنلز پر درجنوں روبوٹ صحافی اور تجزےہ کار موجود ہےں۔ جنہےں لکھے ہوئے پرچے ملتے ہےں اور وہ ٹی ۔وی پر بےٹھ کر اےک مشےنی انداز مےں حرف بہ حرف ان پرچوں کو پڑھ کر سنا دےتے ہےں۔ اےسے بھی ہےں جنہےں با قاعدگی سے طوطے مےنا کی کہانےاں فراہم ہوتی ہےں۔ اوروہ اپنے نام اور تصوےر کے ساتھ ان کہانےوں کو اخبارات کے ادارتی صفحات پر چھپوا تے ہےں۔ وہ بھی ہےں جنہےں شواہد کے نام پر جھوٹ سچ پر مبنی کاغذات کے پلندے مہےا ( فےڈ) کےے جاتے ہےں ۔ جنہےں وہ تحقےقاتی خبر (Investigative report) کے نام پر اخبار مےں چھپوا تے ہےں ےا ٹی۔وی پروگرام مےں انکشاف کا نام دے کر اگل ڈالتے ہےں۔ مےں نے سوچا کہ ےہ لوگ اپنے مےڈےا مےں مشےنی صحافی (robot journalists)متعارف کروانے کےلئے دن رات محنت کر رہے ہےں۔ جبکہ ہم اپنے روبوٹ صحافےوں سے اس قدر عاجز آ چکے ہےں کہ نےوز چےنل دےکھنے سے دل اچاٹ ہواجاتا ہے۔ اس سے کہےں بہتر ےہ لگتا ہے کہ چند گھنٹے کارٹون نےٹ ورک ےا پھر Animal planet دےکھ لےا جائے، جہاں کم ازکم معےاری تفرےح اور مستند معلومات تو دستےاب ہوتی ہےں۔

اس دن مےری ملاقات امرےکی پروفےسرڈاکٹر جےن سے ہوئی۔ڈاکٹر جےن ، کانفرنس مےں مےڈےا سنسرشپ کے حوالے سے مقالہ پڑھنے والی تھےں۔ کہنے لگیں کہ مجھے ےہ جاننے مےں نہاےت دلچسپی رہتی ہے کہ دنےا کے مختلف ممالک مےں آزادی اظہار رائے کی کےا صورتحال ہے۔ اور ٹےکنالوجی کے اس زمانے مےں نا مطلوب معلومات کا سےلاب کےسے روکا جاتا ہے۔ وہ چاہتی تھےں کہ مےں انہےں پاکستان مےں آزادی صحافت کے حالات سے متعلق بتاوں۔ مےںکےا بتاتی کہ ہمارے ملک مےں آئےن کا آرٹےکل 19 (جو آزادی اظہار رائے سے متعلق ہے) کن مشکل حالات سے دوچار ہے۔ کس طرح سرکش صحافےوںکی زبان بندی ہو رہی ہے اور انہےں نوکرےوں سے نکلواےا جا رہا ہے۔ کس طرح اچانک ٹی۔وی پروگراموں کو روک دےا جاتا ہے۔کس طرح راتوں رات ٹی۔وی چےنلوں کو بند کر دےا جاتا ہے۔ انگرےزی محاورے کے مطابق اپنے گندے کپڑے(dirty lenin) اےک امرےکی کے سامنے دھونا مجھے گوارا نہےں تھا ۔ لہٰذا مےں نے الٹا ان سے سوال کر ڈالاکہ آپ کا پاکستانی مےڈےا کے بارے مےں کےا تاثر ہے؟ ڈاکٹر جےن نے کہا کہ پاکستان اےک قدامت پرست اسلامی ملک ہے۔ مجھے ےقےن ہے کہ پاکستانی مےڈےا مےں سخت سنسر شپ ہو گی۔ خاص طور پر مغربی نظرےات و افکار کو روکنے کے لئے بھرپور کوشش کی جاتی ہو گی۔ مےں نے سوچا کہ ہمےں بھلا مغربی افکار کی روک تھام سے کےا غرض۔ ہمارا زور باز و تو جمہوری اور آئےنی افکار کی بندش پر صرف ہوتا ہے۔ بہرحال مےں نے ڈاکٹر جےن کو بتاےا کہ پاکستانی مےڈےا بہت آزاد ہے۔ اور ےہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ہم مغربی مواد (western contents) پر پابندی لگانے کے لئے کوشاں رہتے ہےں۔عام طور پر ہم اپنے مےڈےا پر صرف دو طرح کا مواد روکتے ہےں۔ اےک تو وہ جو ہماری مذہبی تعلےمات اور عقائد سے متصادم ہوتا ہے۔خاص طور پر گستاخانہ مواد(blaspemous material)۔ بطور مسلمان ہم اس بارے مےں بے حد حساس ہےں۔ اسلامی ملک ہونے ہی کی وجہ سے ہم فحش مواد (Pornographic contents) کو بھی ناپسند کرتے ہےں اور اس پر پابندی لگاتے ہےں۔ ڈاکٹر جےن اپنی چھوٹی سی ڈائری مےں ےہ باتےں نوٹ کرنے لگیں۔ جب مےں امرےکی پروفےسر کو ےہ بھاشن دے رہی تھی تب مےرا ذہن 2015 مےں جاری ہونے والی گوگل کی اےک رپورٹ کی طرف چلا گےا۔اس مےں ان ممالک کی درجہ بندی کی گئی تھی جن مےں سب سے ذےادہ فحش مواد تلاش (search) کےا جاتا ہے۔ فہرست کے مطابق دنےا کے پہلے آٹھ (porn-searching) ممالک مےں چھ مسلمان ملک شامل تھے۔ جبکہ ہمارا ملک پاکستان سر فہرست تھا۔ ےعنی دنےا بھر کے ممالک مےں پہلے درجے پر کھڑا تھا۔ (جاری ہے)


ای پیپر