فواد چوہدری یہ کام آسان نہیں
22 جولائی 2019 2019-07-22

1512ءمیں سلطنت عثمانیہ میں سلیم اول حکمران ہوا۔ ا±س نے اپنی فتوحات کا ر±خ مشرق کی طرف کرلیا اور ساری زندگی مسلمان حکومتوں کو فتح کرتا رہا۔ 1517ءمیں سلیم اول نے مصر اورحجاز پر بھی قبضہ کرلیا اور وہاں سے واپسی پر وہ عباسی خلیفہ متوکل سوم کو اپنے ساتھ استنبول لے گیا۔ وہاں متوکل ایک تقریب کے دوران میں سلیم اول کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگیا۔ اس کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کو خلافت عثمانیہ کا نام دیا گیا۔ اگلے دوسو برسوں میں یہ سلطنت پورے آب وتاب سے جاری رہی، حتیٰ کہ 1699ءمیں معاہدہ کارلووٹز کے تحت یورپ میں ترکوں کی پیش قدمی رک گئی۔ اس دور میں 1737ء میں استنبول میں پہلا چھاپہ خانہ قائم ہوا۔ یہ اسلامی دنیا کا پہلا چھاپہ خانہ تھا، لیکن مفتی اعظم نے اس شرط پر اس کو قائم کرنے کی اجازت دی کہ اس میں قرآن مجید اور دینی کتابوں کو شائع نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ مفتی صاحب کے خیال میں چھاپہ خانہ بنیادی طور پر ایک شیطانی مشین کی حیثیت رکھتا تھا۔

سلطان عبدالحمید اول کے زمانے میں 16جولائی 1774ءکو ترکی کو معاہدہ کوچک کناری پر مجبور ہونا پڑا۔ اس معاہدے کی رو سے کریمیا کو ایک آزاد مملکت قرار دیا گیا اور روس کو یہ حق دیا گیا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کی عیسائی رعایا کی حقوق کی حمایت کرسکتا ہے۔ گویا اس معاہدے کے ذریعے روس کو سلطنت عثمانیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق مل گیا۔ چنانچہ اس معاہدے کے آخری نتیجے کے طور پر اگلی صدی میں ترکی کو اپنے تمام مقبوضات سے دستبردار ہونا پڑا۔

اس مکمل دورِ زوال کو سلطنت عثمانیہ کے حکمران سلطان سلیم ثالث نے روکنے کی بہت کوشش کی۔اس نے تعلیم اور جدید سائنسی علوم کی طرف توجہ دی۔ اس نے جنگی فنون سے متعلق یورپی کتابوں کا ترکی زبان میں ترجمہ بھی کیا اور فرانسیسی انجینئروں کی مدد سے توپ ڈھالنے کے جدید طرز کے کارخانے بھی قائم کیے۔ سلطان سلیم نے جاگیرداری نظام کو بھی ختم کردیا۔ ایک ایسے اہم وقت میں ترکی کے صوفیوں اور علماء نے مذہب کے نام پر ان سب اصلاحات کی مخالفت کی۔ انہوں نے یورپی طرز پر فوج کی تنظیم کو بے دینی سے تعبیرکیا، جدید فوجی وردیوں کے متعلق فتویٰ دیا کہ یہ دراصل نصاریٰ کی مشابہت اختیار کرنا ہے۔ انھوں نے یہ فتویٰ بھی دیا کہ کافروں کے ایجاد کردہ اسلحے کو استعمال کرنا گناہ ہے۔ چنانچہ سلطان سلیم کے خلاف یہ کہہ کر نفرت پھیلائی گئی کہ وہ کفار کے طریقے رائج کرکے اسلام کو خراب کررہا ہے۔ بالآخر شیخ الاسلام کے فتوے پر عمل کرتے ہوئے 1807ءمیں سلطان سلیم کو معزول کرکے قتل کردیا گیا۔

علما نے فتویٰ دیا کہ پرنٹنگ مشین حرام اور بدعت ہے اس پر قران اور اسلامی کتابوں کا چھاپنا حرام ہے۔

مسلم ممالک پر یہ پابندی 362 سال برقرار رہی۔ ہاتھ سے لکھے نسخے چھاپہ خانہ کا مقابلہ کیسے کرتے؟ کتابوں رسالوں کی فراوانی نے مغرب کو جدید علوم کا سمندر اور مسلم تہذیب کو بنجر سوچ کے جوہڑ میں تبدیل کر دیا۔ جاگے تو فکری بینائی کھو چکی تھی۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری شاید ا±سی کھوئی ہوئی بینائی کو واپس لانے کے لئے کام کر رہے، چوہدری صاحب جانتے ہیں کہ یہ راستہ خاصا پ±ر خطر اور دشوار ہے مگر وہ پ±ر عزم ہیںکہ سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر معاشرے ترقی نہیں کرتے۔ فوادچوہدری کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ جس معاشرے میں تعویذ اور گنڈے کا کاروبار کرنے والا ایک پی ایچ ڈی سے زیادہ پیسے کما لیتا ہے ا±ن عقل کے ماروں کو جدیدیت کی طرف مائل کرنا کوئی آسان کام نہیں مگر جناب پ±رعزم ہیں کہ ا±ن کے قمری کیلنڈر کو پوری دنیا مانے گی اور بلاشبہ چوہدری صاحب نے جو پانچ سال کو قمری کیلنڈر اور ایپلیکشن تیار کی ہے ا±س کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ جب ہلال کمیٹی کو ختم کرنے کی بات ہوئی تو علما کرام سب اس عمل کے خلاف ہوگئے انھیں لگا کہ یہ عمل اسلام کے خلاف ہے جب علما کرام اس کی مخالفت کر رہے تھے تو مجھے پھر وہی فتویٰ یاد آ گیا جو ا±س وقت کے مفتی نے پرنٹنگ پریس کے حوالے سے دیا تھا اور مجھے لگا کہ ہم آج بھی باقی دنیا سے تین سو سال پیچھے ہیں۔جہاں ساری دنیا چوہدری صاحب کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے لئے اقدامات کو ستائش کی نظر سے دیکھ رہی ہے مگر ہم اپنی دکانداری بند ہونے کے ڈر سے ہمہ وقت تنقید میں لگے ہوئے ہیں۔ یو اے ای اور سعودی عرب قمری کیلنڈر اور موبائل ایپ کی تعریف کر رہے ہیں جہاں یورپی یونین کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون شروع ہو رہا ہے ، ترکی کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھ رہا ہے امریکہ ہمیں 10 انکیوبیشن سینٹرز بنا کر دے چکا ہے مگر ہم آج بھی فواد چوہدری کو اس بات پرکوس رہے ہیں کہ ا±س نے ہلال کمیٹی کو ختم کرنے کی بات کیوں کی۔ پرنٹنگ مشین ہو یا ٹی وی کی ایجاد سے لیکر لاو¿ڈ سپیکر ہو ہمارے کچھ حلقوں نے بغیر سمجھے اور جانے اس کی مخالفت کی مگر تاریخ گواہ ہے کہ بعد میں ان ایجادات سے سب سے زیادہ فائدہ اور اسکا استعمال اول الذکر طبقے نے ہی کیا۔ چوہدری صاحب پے منٹ کی دنیا میں ایک اور انقلاب برپا کرنے جا رہے ہیں وہ ہے پاکستان میں ا?سان ادائیگیوں کے لیے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کو موبائل فون پیمنٹ سے تبدیل کرنے کا جس میں بس کے کرایوں سے لیکر گاڑی خریدنے تک تمام ادائیگیاں موبائل فون سے ممکن ہو سکیں گی۔ مگر ڈر یہ ہے کہ اس کو بھی کہیں غیر شرعی عمل کا نام دیکر متنازعہ نہ بنا دیا جائے کیونکہ ہمارا مزاج ہے کہ ہر نئے آنے والی چیز چاہے وہ ہمارے فائدے کی ہو ہم نے ا±سکی مخالفت ضرور کرنی ہوتی ہے اور بقول فواد چوہدری پاکستان کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں سوائے فتویٰ باز مولوی کے۔


ای پیپر