حکومت کون بنائے گا؟
22 جولائی 2018 2018-07-22

کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ایک دن بعد یعنی 25 جولائی کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انتخابات کے لیے انتظامات مکمل کرلیے گئے، اسلامی نہ جمہوریہ نیا پاکستان وجود میں آئے گا، نیا پاکستان بنانے کے اتنے اشتہارات چلے ہیں کہ یقین ہونے لگا ہے کہ 70 سال پہلے ہمارے آباء و اجداد نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر جو پاکستان بنایا تھا اس کا آخری جمعہ گزر گیا نئے پاکستان کا پہلا جمعہ 27 جولائی کو ہوگا، پرانے لوگ، پرانا پاکستان، پرانے قائدین سب کتابوں میں بند، نیا پاکستان کیسا ہوگا اس کی فکر کیجیے، 1970ء میں آدھا پاکستان کٹ کر نیا پاکستان بنا تھا اس وقت بھی حالات کم و بیش ایسے ہی تھے، متاع کارواں لٹ گیا کسی کو احساس زیاں نہ ہوا، لوگ نئے پاکستان کے لیے دھمال ڈالتے رہے، اب ایک اور نئے پاکستان کے لیے انتخابی میدان سجنے جا رہا ہے، انتخابات سے قبل تمام سیاسی جماعتیں دھڑا دھڑ اپنی جیت کے دعوے کر رہی ہیں، سروے کرائے گئے، نقشے بنوائے گئے، سادہ لوح بھائی فضل دین نے کہا ’’اوئے سارے ہی جیت گئے تو ہارے گا کون کسی کو تو ہارنا ہے‘‘ پھر آہ بھر کر بولے ’’عوام ہی ہاریں گے۔‘‘ یاد آیا اس بار ہارنے کی بار ی ن لیگ کی ہے جو گزشتہ پانچ سالوں سے صرف بھگت رہی ہے اور بھگتا رہی ہے ’’جو تیری بزم سے نکلا سو پریشان نکلا ‘‘کی تصویر بنے سارے ن لیگی رہنما ہارنے کے لیے میدان میں نکلے ہیں ،کاہے کی انتخابی مہم کہاں کی ریلیاں بقول ن لیگی لیڈر سب کی چھٹی ایک کو کھلی چھٹی، سارے لیگی لیڈروں پر مقدمات، پیشیاں، فیصلے، جیل میں لوہے کی چارپائیاں پہلی رات زمین پر بستر، خدا یاد آیا ہوگا ،718 امیدواروں کی طرف سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں، ضابطہ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں ،کارکنوں کو گدھا اور طوائف کے بچے تک کہہ دیا گیا اخلاقی تنزلی انتہا کو پہنچ گئی، ایاز صادق ، مولانا فضل الرحمن، پرویز خٹک اور دیگر کو ناشائستہ زبان استعمال کرنے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس ملیا۔ ککھ نہ ہلیا پیشی کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی وکیل پیش ہوئے فرمایا استاد اپنے شاگردوں کو گدھا کہہ دیتا ہے ہمارے لیڈر نے گدھا کہہ دیا تو کیا برا کیا۔الیکشن کمیشن غالبا خجل ہوا کہا کہ آئندہ نہ کہنا، مسئلہ ختم، متعدد کو نوٹس موصول، ذاتی حیثیت میں طلب، عدالتوں اور الیکشن کمیشن کے چکر لگا لگا کر نڈھال ہونے والے امیدوار انتخابی مہم کیا خاک چلائیں گے؟ لیڈر کے استقبال کے لیے ریلی نکالی تو دہشت گردی کے مقدمات درج، سیاسی انجینئرنگ اپنے جوبن پر، دن میں چار چار جلسے کرنے والے لیڈر کی جیت یقینی بنانا مقصود،سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں ن لیگ کو پچھاڑنا اولین ترجیح، ن لیگ کی ساری تدبیریں الٹی، میر کارواں جیل میں پڑا ہے قائد کے بغیر منزل کہاں ملے گی، اس پر یہ دعوے کہ نون اور جنون میں کانٹے کا مقابلہ ہوگا ، ن لیگ والے تو مسلسل کانٹوں پر چل رہے ہیں ہاتھ زخمی، پاؤں فگار، مگر حوصلے بلند، ووٹ کو عزت دو، خدمت کو ووٹ دو کے نعرے، عوام کا کیا موڈ ہے؟ایک محترم نے کہا کہ لاہوریوں کا موڈ تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے، لاہوریے لاکھوں کی تعداد میں نواز شریف کو دیکھنے نکلے تھے ایک جھلک نہ دیکھ سکے مایوس تو ہوں گے، نواز شریف کا بیانیہ اپنی جگہ لیکن عمران کا دورانیہ بھی تو کام کر رہا ہے۔ 5 سال سے کرپشن کے الزامات دہرا رہے ہیں کرپشن ثابت ہو نہ ہو الزامات تو کانوں میں رس گھولتے رہے ہیں لاکھوں نے یقین کرلیا، جنہوں نے 11 سال قید با مشقت کی سزا سنائی انہوں نے اعتراف کیا کہ سابق وزیر اعظم کرپشن، بد دیانتی سے بری ہیں تاہم فلیٹس کی خریداری کی وضاحت میں ناکام رہے ماحولیاتی شہادتوں پر سزا سنا دی گئی، نواز شریف بھی عجیب مٹی کے بنے ہیں لندن سے بھاگے بھاگے جیل جانے کے لیے واپس آگئے، رضاکارانہ گرفتاری دے رہے تھے اتنے انتظامات کی کیا ضرورت تھی کہ مریم نواز کے ہوش اڑ گئے، 1999ء کے مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم گئے، وزیر اعظم بار بار ایک ہی انجام سے کیوں دوچار ہوتے ہیں؟ اسے چھوڑیے عوام کا موڈ کیا ہے خدمت کو ووٹ دیں گے یا خدمت گاروں کو ،گزشتہ پانچ سالوں سے خدمت گزاری میں لگے ہوئے ہیں، خدمت کا صلہ تو ملنا چاہیے چنانچہ کچھ تو طے کرلیا گیا ہوگاحکومت کون بنائے گا؟ جسے پیا چاہے وہی سہاگن ہو۔پنجاب پر مکمل انحصار جو یہاں سے جیتا وہی با مراد، نا مراد آئندہ پانچ سال چیختے چلاتے رہیں گے، ایک مبصر نے کہا پنجاب ٹوٹ رہا ہے دوسرے نے گرہ لگائی لیکن ٹوٹ پھوٹ نہیں رہا، وفاق میں حکومت بنانے کے لیے 173 سیٹیں درکار ساری سیٹیں مل گئیں تو سمجھو دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی، جیپ میں سوار اکثر دوست احباب اور کلاس فیلو بھاگے چلے آئیں گے اتنی بڑی کامیابی کے بعد خدمت گزاری کہاں رہے گی، وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے، اقتدار کے بعد وفاداری مشکوک ہوگئی تو کیا ہوگا ؟ ممکن ہے آنے والا بھی نواز شریف کی طرح ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے لگے ساری محنت اکارت گئی، ابتدا ہی میں کوئی ولی عہد کوئی وارث کوئی متبادل ڈھونڈنا پڑے گا اس لیے یا ایھا الناس طے پایا کہ دوتہائی اکثریت دلانے کی غلطی نہ دہرائی جائے بلکہ سب کو حصہ بقدر جثہ دیا جائے سارے ممنون احسان رہیں گے، جنہیں عدم سے وجود میں لائے انہیں ثابت قدمی کی نعمت سے بھی مالا مال کیا جانا ضروری ہے ورنہ ’’طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں‘‘ سارے اپنے ہوں گے تو آئندہ پانچ سال تک کسی کو اڈیالہ جیل نہیں بھیجنا پڑے گا، رہی ملکی ترقی کی بات تو پھر کسی وقت نواز شریف کو جھاڑ پونچھ کر جیل سے نکالا جائے گا اس وقت تک کس بل نکل چکے ہوں گے اسے انصاف کی بھٹی میں ڈال کر صادق اور امین کا لیبل لگا کر منظر عام پر لایا جائے گا صادق اور امین نواز شریف پھر سے موٹرویز، بجلی کے کارخانے اور سی پیک جیسے ترقیاتی منصوبوں میں جت جائے گا پھر ضد پر اترے تو پانامہ اور اقامہ موجود ہیں، بندے کی اہمیت نہیں ملکی ترقی کا پہیہ چلتے رہنا چاہیے۔
ان حالات میں ایک دن بعد انتخابات ہو رہے ہیں نگراں حکومتوں کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود غیر یقینی کی فضا برقرار، انتخابی مہم کے دوران پتھراؤ، فائرنگ، بم دھماکے، اموات، اسٹیج ٹوٹ گئے ریڑھ کی ہڈی میں چوٹیںآئیں، خالی کرسیوں پر اظہار برہمی ،کتنے لوگ ووٹ ڈالنے نکلیں گے پسندیدہ جماعتوں کو جتوانے میں کس حد تک کامیابی ہوگی؟ حقوق انسانی کمیشن نے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کھلی کوششوں پر تشویش ظاہر کردی کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کو پولنگ اسٹیشنز کے اندر مجسٹریٹ کے اختیارات دینا باعث تشویش ہے، غیر ملکی مبصرین بھی کھلی آنکھوں سے نظارہ کر رہے ہیں، عام انتخابات کے نتائج کس حد تک اندرون اور بیرون ملک قابل قبول ہوں گے اس کا پتا نتائج آنے پر چل سکے گا، ووٹوں کا تناسب، دھاندلی کی کوششیں سب طشت از بام ہوں گی اندر نفسانفسی، باہر افراتفری، اندرون خانہ دباؤ، بیرون خانہ بھانت بھانت کے تبصرے، جانبداری کے الزامات سے بچنے کے لیے کچھ تو کرنا ہوگا ،عمران خان اور بلاول بھٹو کو ان خطرات کا احساس ہوگیا ہے انہوں نے بیک زبان معلق پارلیمنٹ ملک کی بد قسمتی کا راگ الاپنا شروع کردیا، پنجاب میں زیادہ ٹوٹ پھوٹ نہ ہوئی تو 173 سیٹیں کہاں سے آئیں گی؟ سیاسی جماعتوں سے اتحاد منافقت قرار حکومت کیسے بنے گی؟ بھان متی کا کنبہ بر سرا قتدار آیا تو ساجھے کی ہنڈیا اسلام آباد کی سڑکوں پر پھوٹے گی، دیسی اور ولایتی جوتیوں میں دال بٹنے لگی تو ملکی استحکام کہاں رہے گا، درجنوں خطرات، عمران خان کی بے چارگی، کیا نیا پاکستان ابتر سیاسی صورتحال کا متحمل ہوسکے گا؟


ای پیپر