افغانستان: انڈیا قونصل خانے ڈرگ مافیا کی پناہ گاہیں
22 جولائی 2018 2018-07-22

دہشت گردی کی طرح منشیات پر قابو پانا بھی دنیا بھر کے ملکوں کی ریاستی مشینریوں کے لئے گذشتہ دو عشرے سے ایک کھلا چیلنج بنا ہوا ہے۔ نشہ در حقیقت فنا کی ایک علامت ہے۔ یہ انسانی شخصیت کے ذہنی و عصبی نظام کو سبوتاژکر کے رکھ دیتا ہے۔ نشہ کسی بھی قسم کاہو یہ ایک انسان کی زرخیز ترین اہلیتوں اور افادہ رساں صلاحیتوں کا بتدریج اور بالاقساط قتل ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات کا نکتۂ نظر ہے کہ عام طور پر انسانی معاشروں اور مملکتوں میں اکثر وہ افراد ہی منشیات کے غار میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں جو یا تو بدترین قسم کے احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں یا وہ ذہین ترین افراد بھی ان گراں بار اور بوجھل زنجیر کے اسیر بن جاتے ہیں جو حد درجہ حساس ہوتے ہیں۔ حساسیت اور جذباتیت جب انتہاؤں کو چھوتی ہے تو انسانی عقل مفلوج اور فکر مصلوب ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسے انسان کی مثال تیز ہواؤں میں گھری کٹی ہوئی پتنگ کی سی ہوتی ہے۔ وہ سہاروں کی تلاش میں ہوتاہے۔ نشہ ایک ایسا ’’رنگین سہارا‘‘ بن کر اس کے رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے کہ اسے اس کے علاوہ ہر مشفق اور ہمدردناصح اپنا دشمن دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ ایک مخصوص لیکن خطرناک ترین نفسیاتی حالت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں نشہ کے عادی افراد کو جرائم پیشہ افراد کی طرح نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ توجہ اور مدد کے مستحق ہوتے ہیں۔ خالی خولی جارحانہ نفرت اور ظالمانہ سماجی مقاطعہ نشہ کے عادی افراد کو اس تاریک دلدل میں مزید دھنسا دیتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد بلا شبہ خاندان، معاشرے اور مملکت پر ایک بوجھ بن کر رہ جاتے ہیں لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ منشیات کا بے پناہ استعمال طبی سائنسی ترقی کے دور میں ایک ناقابل علاج مرض ہے۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم منشیات کے عادی افراد کو مہلک بیماری میں مبتلا مریض کی طرح شفقت اور ہمدردی کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کی شخصیت کوریزہ کاری سے بچانے کے لئے’’ تنہائی‘‘ اور منشیات کے عادی افراد کے ٹولے سے رہائی دلوائیں۔ محض کسی ایک شخص کو نشے کی لت میں مبتلاپا کر اسے گھر سے نکال دینا یا اسے سوسائٹی میں اچھوت کا درجہ دینا کسی بھی طور مناسب اور مستحسن رویہ نہیں۔ دنیا بھر میں مہلک ترین نشوں کے عادی افراد کی تعداد کروڑوں سے متجاوز ہے۔ ہر سال عالمی ادارے اور مقامی این جی اوز اس ضمن میں خوفناک رپورٹس مرتب کرتی ہیں لیکن ان کا یہ کام صرف اور صرف زبانی جمع خرچ اور کاغذبازی تک محدود ہے۔ زمین پر ان کی خدمات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کسی بھی برائی، بیماری یا معذوری کی روک تھام کے لئے محض زبانی جمع خرچ اور کاغذ بازی حوصلہ افزاء نتائج کی کاشت کا موجب نہیں بن سکتی۔ محض سیمینارز، واکس، سٹیج ڈرامے اور مباحثے درشنی ، آرائشی اور نمائشی عمل سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسداد منشیات کے خلاف کام کرنے والی اکثر تنظیمیں بین الاقوامی عطیاتی اداروں سے اس آڑ میں بھاری بھر کم عطیات وصول کرتی ہیں لیکن انہیں منشیات کے عادی افراد کے علاج معالجے یا بحالی پر صرف کرنے کے بجائے محض بے ثمر پیپر ورک اور لا حاصل ورکشاپس پر اڑا دیتی ہیں۔ آج تک ان این جی اوز نے بین الاقوامی عطیاتی اداروں سے انسدادِ منشیات کے لئے جتنے عطیات وصول کئے ہیں اگر ان کا درست استعمال کیا جاتا تو ہر قصبے اور چھوٹے شہر میں نہ سہی کم از کم ہر بڑے شہر میں منشیات کے عادی مریضوں کے لئے جدید علاج معالجے کی سہولیات سے آراستہ اور مزین شفا خانے قائم کئے جا سکتے تھے۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ اگر ہمارے گرد و پیش ایک خس پوش جھونپڑی جل رہی ہو توآگ بجھانے کے لئے سوسائٹی کے افراد جملہ توانائیوں اور وسائل کو بروئے کار لانے میں ایک لحظہ کی بھی تاخیر گوارا نہیں کرتے لیکن چرس، ہیروئن اور مارفیا کے انجیکشن کی آگ میں زندہ وجود جل رہا ہوتو ہم اس کے قریب سے آنکھ بند کر کے گزر جاتے ہیں۔ انسان خواہ منشیات ہی کا عادی کیوں نہ ہو، ہے تو وہ اشرف المخلوقات۔ اس ناطے وہ گھاس پھوس اور تنکوں سے بنی جھلستی جھونپڑی سے کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ہوتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد کے لئے شفا خانے قائم کر نا ، الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے شعور اجاگر کرنا، انہیںآغوشِ ہمدردی کی حرارت پہنچانا اور ذہن سازی اور رائے عامہ سازی کے عمل کو آگے بڑھانا من حیث القوم ہر بارسوخ اور باشعور شہری کا نصب العین ہونا چاہیے۔ ایک اندازے کے مطابق وطن عزیز میں نشے کے عادی افراد کی تعداد70لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان70لاکھ افراد میں سے 72 فیصد کی عمر 15 سے 35 برس کے درمیان ہے۔ ایسے میں جبکہ وطنِ عزیز میں نشے کے عادی افراد میں سالانہ 7فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے محض ایک دن کو منشیات کے خلاف عالمی دن قرار دے کر یہ تصور کر لینا کہ اس سے منشیات کی غیر قانونی نقل و حرکت اور اس کے مہلک استعمال کی وبا پر قابو پایا جا سکے گا بجز خوش فہمی کے اور کچھ نہیں۔ منشیات کے فروغ اور استعمال سے معاشرے میں گوناں گوں حوادث اور سانحات جنم لے رہے ہیں۔ مقامِ حیرت ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے زیر نگرانی قائم حکومت کے سخت ترین مانیٹرنگ نظام کے قیام کے دعوے کے باجود گذشتہ ایک سال میں اربوں مالیت کی اشیاء سمگل ہو کر پاکستان پہنچتی ہیں۔ اربوں مالیتی یہ سمگل شدہ سامان صوبہ سرحد کے علاوہ دیگر صوبوں کی مارکیٹ میں بھی کھپایا جا رہا ہے۔ اگر پاکستانی حکام افغانستان سے متصلہ سرحد پر سمگلنگ کی روک تھام کے لئے سخت گیر انتظامات کریں تو یقیناًپاکستانی انڈسٹری کے لئے پیامِ مرگ ثابت ہونے والا یہ سمگل شدہ سامان پاکستانی حدود میں داخل نہ ہو سکے۔ پہلے ہی سمگلنگ کی وجہ سے صوبہ سرحد کی تجارت کو مہلک قسم کے خطرات کا سامنا ہے اور اس پر بھارت کو پاکستان کے راستے افغانستان سے تجارت کی اجازت دینے کا عمل نہ صرف صوبہ سرحد کی صنعت و معیشت کے لئے مضر ت رساں ہوگا بلکہ اس کے دوررس منفی اثرات ملکی صنعت و تجارت پر بھی پڑیں گے۔ امریکہ کی زیر نگرانی قائم افغان حکومت پہلے ہی بھارت کے حوالے سے اس حد تک نرم گوشہ رکھتی ہے کہ اسے دنیا میں بھارت نواز حکومت کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس حکومت کے بعض ذمہ دار عمال متعدد بار پاکستان کے بارے انتہائی منفی تاثرات کا اظہار کر چکے ہیں۔ افغانستان میں رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے اور سازگار بنانے کے لئے بھارت سرکار نے خصوصی بجٹ بھی مختص کر رکھا ہے۔ افغانستان ایسے پسماندہ اور چھوٹے ملک میں بھارت کی جانب سے مختلف شہروں میں قونصل خانوں کے قیام کا ایک بڑا مقصد افغانستان میں ’’پاکستانیت‘‘ کے اثرات کا سدِ باب کرنا ہے۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ بھی حفظِ ماتقدم کے طور پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے ان اقدامات کا سنجیدہ نوٹس لیتی اور افغانستان میں ذرائع ابلاغ، عمائدینِ مملکت، تاجر برادری اور دیگر افغان شہریوں سے خیر سگالی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لئے مربوط اقدامات کرتی۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانے انتہائی مذموم سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

اس قسم کی خبریں پہلے بھی منظر عام پر آ چکی ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد خطے میں ڈرگز ٹریفکنگ کا عمل کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ افغانستان کے بعد بھارت دوسرا بڑا ملک ہے جس کا ڈرگ مافیا خطے میں مختلف النوع نشہ آور اشیاء کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔2004ء میں انٹی نارکوٹکس فورس نے بھار ت سے نشہ آور ٹیکے پاکستان سمگل کرنے والے ملزمان کی نشاندہی پرکئی گرفتاریاں بھی کی تھیں۔ تب انٹی نار کوٹکس کے زیر حراست ملزمان نے سنسنی خیز انکشافات بھی کئے ۔ یہ نشہ آور ٹیکے براستہ افغانستان پاکستان سمگل کئے گئے تھے۔ اب جب بھارت کو باقاعدہ قانونی اجازت دیدی جائے گی کہ وہ پاکستان کے راستے افغانستان سے تجارت کرے تو قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس ’’تجارتی عمل‘‘ کے پسِ پردہ بھارت کیا گل کھلائے گا۔ جہاں تک سمگلنگ کا تعلق ہے تو اس کے انسداد کی اصل ذمہ داری سرحدوں پر متعینہ اہلکاران و ذمہ داران ہی پر عائد ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مبینہ کڑی نگرانی کے دعوؤں کے باوجود افغانستان کی سرحد سے’’ انڈیا میڈ منشیات ‘‘ کی سمگلنگ کاعمل کیوں قابو میں نہیں آ رہا۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر آ چکی ہے کہ افغانستان میں ’’را‘‘ نے درجنوں مقامات پر اپنے ’’رابطہ دفاتر‘‘ قائم کر رکھے ہیں۔ ان دفاتر میں متعینہ را کے کارپردازان افیون کے در پردہ سب سے بڑے خریدار ہیں۔ افیون مختلف نشہ آور ادویات بنانے میں ممد اور معاون ثابت ہوتی ہے۔ میڈیکل سائنس نے جن نشہ آور ادویات کو انسانی صحت کے لئے مضر اور مہلک قرار دیا ہے ان کی تیاری میں بھارتی فارماسوٹیکل کمپنیاں پیش پیش ہیں۔ یہ نشہ آور ادویات اور ٹیکے دنیا کے مختلف ممالک میں سمگل کئے جاتے ہیں۔ بھارتی ڈرگ مافیا ان نشہ آور انجیکشنز کو متحدہ عرب امارات پہنچاتا ہے جہاں سے یہ مختلف پروازوں کے ذریعے پاکستان ، بنگلہ دیش، سری لنکا، برما اور دنیا کے دوسرے ممالک میں پہنچائی جاتی ہیں۔جہاں تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم کی مالیت کا تعلق ہے تو وہ صرف چندکروڑ ڈالرہے۔ محض 40کروڑ ڈالر کی خاطر پاکستانی صنعت، معیشت اور نوجوان نسل کے مستقبل کو داؤ پر لگانا کسی بھی طورپاکستان کے مفاد میں نہیں۔ اندریں حالات صوبہ سرحد و تجارت کے وزیر کا یہ کہنا درست ہے کہ بھارت کو پاکستان کے راستے افغانستان سے تجارت کی اجازت دینے سے تجارت کے بجائے صرف اور صرف سمگلنگ بڑھے گی۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ بھارت پاکستان میں صرف منشیات یا اسلحہ کی سمگلنگ میں دلچسپی لے گاتاکہ پاکستان کی نسلِ نو کے مستقبل اور امنِ عامہ کی صورتحال کو دگر گوں کیا جا سکے۔بہتر ہو گا کہ بھارت کو اجازت دینے کے بجائے وفاق سرحد حکومت کو افغانستان سے براہِ راست تجارت کی اجازت دے۔


ای پیپر