حافظ محمد سعید کی سیاست اور خوفزدہ قوتیں
22 جولائی 2018 2018-07-22

پاکستان میں اس وقت ہر طرف الیکشن کی گہما گہمی ہے۔ مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، ملی مسلم لیگ کی حمایت یافتہ اللہ اکبر تحریک، متحدہ مجلس عمل ، تحریک لبیک اور دیگر جماعتیں اس وقت میدان میں ہیں۔ سب جماعتوں کی طرف سے اپنے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔شہروں وعلاقوں میں زبردست تشہیری مہم جاری ہے۔ کارنر میٹنگز اور ڈور ٹو ڈور مہم کا سلسلہ بھی عروج پر ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں ہر شخص اور جماعت کو حق حاصل ہے کہ وہ انتخابی سیاست میں حصہ لے اور جو کوئی چاہے اپنی سیاسی جماعت بھی بنا سکتا ہے اس کیلئے آئین اور قانون میں کسی کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ حکومتوں کی جانب سے تو مختلف صوبوں میں علیحدگی کی تحریکیں چلانے والوں کو بھی مین سٹریم کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ اس حوالہ سے بلوچستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔پچھلے کچھ عرصہ میں کتنے ہی ایسے لوگوں کو قومی دھارے میں لایا گیا ہے جو ریاست پاکستان کیخلاف اعلانیہ سرگرم رہے ہیں ۔ یہ خوش آئند بات ہے اور اس اقدام کی قومی سطح پر تحسین کی گئی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں بعض ایسی جماعتیں جو ملک میں کسی قسم کی غیر آئینی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں اوروطن عزیز پاکستان کے دفاع کیلئے دن رات اپنی تمام صلاحیتوں کو وقف کئے ہوئے ہیں‘ انہیں سیاست میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اس لئے ان کی مدد کرناسب پر فرض ہے۔ ان کا جرم یہ ہے کہ وہ تھرپارکر سندھ، بلوچستان، شمالی علاقہ جات، کشمیر اور دیگر علاقوں میں بغیر کسی رنگ، نسل اور مذہب کے دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں اور ان کی رفاہی و فلاحی سرگرمیوں سے بیرونی قوتوں اور ملک دشمن این جی اوز کی مداخلت کے راستے بند ہو رہے ہیں۔ وہ روایتی سیاست کی بجائے خدمت انسانیت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اورملک کے کونے کونے میں نظریہ پاکستان کا علم بلند کئے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ باتیں بیگانوں کی طرح بعض اپنوں کو بھی برداشت نہیں ہو رہیں اور ملی مسلم لیگ کیخلاف بلاجواز پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ امریکہ ویسے تو دنیا بھر میں جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے لیکن ملی مسلم لیگ کے سیاست میں حصہ لینے پر اس کے پیٹ میں بھی مروڑ اٹھ رہے ہیں اور یہ کہہ کر دباؤ بڑھایا جارہا ہے کہ حکومت پاکستان انہیں سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکے۔
ملی مسلم لیگ کو بنے ایک سال کا مختصر عرصہ ہوا ہے لیکن جس طرح اس نے چاروں صوبوں میں ہوم ورک کیا اور 260قومی اور صوبائی اسمبلیوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں اس نے بڑی بڑی سیاسی پارٹیوں اور تجزیہ نگاروں کو حیران کر دیا ہے۔ملک کے طول و عرض میں ان دور دراز علاقوں سے بھی امیدوار کھڑے کئے گئے ہیں جہاں سے اس امر کی بہت کم توقع کی جارہی تھی۔ ایم ایم ایل میں تمام مکاتب فکر اورشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔ حالیہ انتخابات میں ملی مسلم لیگ نے اللہ اکبر تحریک سے انتخابی اتحاد کیا ہے اور یہ سبھی امیدوار کرسی کے انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ملک بھر میں جن امیدواروں کو ٹکٹ دیے گئے ہیں ان میں پی ایچ ڈی سکالرز، ڈاکٹر، انجینئر،وکلاء اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شامل ہیں۔اسی طرح ٹکٹوں کی تقسیم میں خواتین کے پانچ فیصد کوٹہ کا بھی مکمل خیال رکھا گیا ہے اور چاروں صوبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ایسی خواتین کو ٹکٹ دیے گئے ہیں جو منتخب ہو کر خواتین کے مسائل حل کرنے کیلئے بہتر انداز میں اپنی آواز اٹھا سکتی ہیں۔ خواتین اور اقلیتوں کی بھرپور نمائندگی پر ملی مسلم لیگ کی ہر جگہ تحسین کی جارہی ہے اور پارٹی کے مضبوط نیٹ ورک کو دیکھتے ہوئے تقریبا تمام بڑی سیاسی پارٹیوں سے نظریہ پاکستان سے محبت رکھنے والے لوگوں نے ملی مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا اور باقاعدہ طور پر اس میں شمولیت اختیار کی ہے۔یہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ ان حالات میں کہ جب ملی مسلم لیگ کے سیاست میں آنے پر بھی پابندیاں لگائی جارہی تھیں اپنے پہلے الیکشن میں ہی چاروں صوبوں میں کثیر تعداد میں مضبوط امیدوار کھڑے کر دیناان کی پہلی فتح قرار دیا جارہا ہے۔انہیں دیوار سے لگایا جارہا تھا لیکن وہ پورے ملک میں جار ہے ہیں۔ ہر شہر میں ان کے انتخابی جلسوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہو رہے ہیں او رجس طرح والہانہ انداز میں ان کا استقبال اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے محبت و عقیدت کا اظہا رکیاجارہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ آنے والے وقت میں ان کی نئی سیاستی جماعت کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے گی۔ حافظ محمد سعید جہاں بھی جاتے ہیں ان کی جماعت کی ملک بھر میں ریلیف سرگرمیوں اور تحفظ پاکستان کیلئے بھرپور کردار کی وجہ سے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ کھینچے چلے آتے ہیں۔ پاکستان کے وفاقی شہر اسلام آباد، فیصل آبا اور گوجرانوالہ میں عیسائی برادری اور دیگر اقلیتوں نے بھی بینرز اٹھا کر ملی مسلم لیگ اور حافظ محمد سعید کی حمایت کا اعلان کیاہے۔ اس انتخابی مہم سے دنیا تک یہ پیغام بھی پہنچا ہے کہ ان کی جماعت کا نیٹ ورک صرف پنجاب کے شہروں تک محدود نہیں بلکہ یہ قومی سطح کی جماعت ہے اور حافظ محمد سعید کے چاہنے والے تھرپارکر سندھ، بلوچستان اور ملک کے دیگر دور دراز کے علاقوں میں بھی بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ملی مسلم لیگ کی دن بدن بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بعض سیاسی جماعتیں بھی سخت خائف ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس کی رجسٹریشن میں بھارت و امریکہ سے زیادہ یہ رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ گزشتہ دور حکومت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح طور پر الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کیں کہ قانون کے مطابق اس کی رجسٹریشن کی جائے لیکن حکومتی ذمہ داران کی خواہش پر وزارت داخلہ نے خط لکھ کر الیکشن کمیشن کو اس سے روک دیا۔ نون لیگی حکومت کے اس طرز عمل کو ملک بھر میں ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا اور مختلف سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاستدانوں میں دوسروں کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ جمہوری سیاست میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ باپ بیٹے کے مقابلہ میں اور چچا بھتیجے کے مقابلہ میں الیکشن لڑ رہا ہے۔ حالیہ الیکشن میں بھی طلال چوہدری کے مقابلہ میں ان کے چچا امیدوار ہیں۔ جب رشتہ دار ایک دوسرے کے مقابل ہو سکتے ہیں تو ملی مسلم لیگ کو صرف اس لئے سیاست میں آنے سے روکا جائے کہ یہ چونکہ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر کھڑی ہونے والی جماعت ہے اور اس کے آنے سے محب وطن ووٹ ان کے ساتھ چلا جائے گا تو یہ بات درست نہیں ہے۔ آپ میں حوصلہ ہے تو سیاست کے میدان میں ان کا مقابلہ کریں۔ حکومتی عہدوں اور وسائل کی بنا پر ایمبولینس بوتھ اکھاڑ دینے اور ہسپتالوں کے باہر فری دسترخوانوں سے پولیس کے ذریعہ برتن اٹھوادینے جیسی حرکتوں سے تو آپ انہیں اور زیادہ مضبوط کر رہے ہیں۔ملی مسلم لیگ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ہر قسم کے تشدد، انتہاپسندی اور دہشت گردی کی نفی کرتی ہے اور اسی سوچ کو سیاست میں لا کر پاکستانی معاشرے کو پر امن بنانے کی خواہاں ہے اور پھر یہ حقائق تو عدالتوں میں بھی تسلیم کئے جاچکے ہیں کہ یہ تنظیم کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے تو پھر اسے پرامن سیاسی سرگرمیوں سے روکنا کسی طور درست نہیں ہے۔ ملی مسلم لیگ کا کیس اس وقت بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور عدالت سے ان کے حق میں فیصلہ آجاتا ہے تو الیکشن کمیشن اس کی رجسٹریشن روک نہیں سکے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی و امریکی دباؤ پر ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے ملک کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ کرنے والی جماعتوں اور افراد کو مضبوط کیا جائے تاکہ ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی بیرونی سازشیں ناکام بنائی جاسکیں۔


ای پیپر