انتخابی مہم کے امیدواران کیلئے قرآن و حدیث کی رہنمائی
22 جولائی 2018 2018-07-22

2018ء کے الیکشن کی مہم کے دوران امیدواران کی جانب سے جس قسم کی اخلاقی خرابیوں کا مظاہرہ ہورہا ہے ، ان کے سد باب کے لئے ضروری ہے کہ قرآن وحدیث میں ان کے بارے میں کیا احکامات ہیں ، وہ ان کے سامنے واضح کیا جائے کیونکہ یہ امیدواران ایک ایسے ملک میں انتخابات لڑرہے ہیں جو بنا ہی اسلام کے نام پر ہے۔اگر وہ منتخب ہوجاتے ہیں توانہیں جملہ قانون سازی کے لئے قرآن و حدیث کے احکامات سے واقفیت ضروری ہے اور یہ بہت بھاری ذمہ اری ہے۔نبی اکرمؐ کے فرمان کے مطابق ’’اللہ تعالیٰ ، رسول اللہ ؐ اور قرآن حکیم کی وفاداری کے ساتھ عام مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کی خیر خواہی بھی دین میں مطلوب ہے‘‘۔(صحیح مسلم)۔یہ تحریر اسی جذبے کے تحت ان کی خدمت میں پیش کرنے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔

بہتان و الزام تراشی: ہماری سیاست میں مخالف سیاستدانوں کی مقبولیت کم اور عوام کو ان کی طرف سے متنفر کرنے کے لئے بہتان اور الزام تراشی عام ہے۔نبی اکرمؐنے فرمایا ’’جو کسی مسلمان کی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اس میں نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس وقت تک اسے دوزخ میں جہنمیوں کے پیپ اور خون اور میل کچیل میں کھڑا رکھے گا جب تک وہ اپنے جرم کی سزا نہ بھگت لے۔(سنن ابی داؤد)

چغلخوری :ہمارے ہاں مخالف پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کے لئے چغلخوری کا استعمال عام ہے اور اس کے ماہر کو بہترین سیاستداں سمجھا جاتا ہے جبکہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ ’’اللہ کے (پیدا کردہ) بندوں میں سب سے برے وہ لوگ ہیں جو چغلخوریاں لگاتے پھرتے ہیں اور اس طرح وہ باہم دوستی رکھنے والوں کے درمیان دوری پیدا کرتے ہیں ‘‘(مسند احمد) و نیز فرمایا کہ چغلخور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔(صحیح مسلم) ۔نبی اکرم ؐ قبرستان سے گزرے تو ایک قبر والے کے بارے میں فرمایا کہ ’’اسے چغلخوری کی پاداش میں عذاب دیا جارہا ہے۔(صحیح بخاری)

طعنہ زنی:ایک دوسرے پر طعنہ زنی ، تحقیر و استہزا اور برا بھلا کہنا بھی ہماری سیاست کا معمول بن چکا ہے۔نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ ’’مومن طعنے دینے والا، برابھلا کہنے والا اور بیہودہ گوئی کرنے والا نہیں ہوتا ۔(سنن ترمذی) آپؐ نے فرمایا کہ آدمی کے برا ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ دوسروں کی تحقیر کرے۔(صحیح مسلم)

جھوٹ بولنا:کاغذات کی جانچ پڑتال اور دیگر مواقع پر جھوٹ ہمارے ہا ں عام ہے جبکہ قرآن مجید میں جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کی گئی ہے (آل عمران۔۶۱)۔نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ ’’جھوٹ سے بچو ۔بیشک جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی دوزخ تک پہنچادیتی ہے۔(صحیح مسلم) ۔نبی اکرم ؐ کو ایک بار کچھ مبتلائے عذاب لوگ دکھائے گئے ۔ان میں سے ایک آدمی کی باچھیں لوہے کے زنبور سے چیری جارہی تھیں۔آپؐ کے پوچھنے پر حضرت جبرئیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ نے بتایا کہ یہ ایک جھوٹا شخص ہے جو ایسے (بڑے بڑے) جھوٹ بولا کرتا تھا جو لوگوں کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل جایا کرتے تھے ۔پس قیامت کے دن تک اسے یہی عذاب ہوتا رہے گا۔(صحیح بخاری)۔

جھوٹے دعوے کرنا : انتخابی مہمات میں ملک و قوم کی خدمت کے عظیم دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ ہماری سیاست کی تاریخ اور سیاست دانوں کا کردار ان کے جھوٹا ہونے پر شاہد ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے ’’ اے ایمان والوں !کیوں کہتے ہو وہ بات جو کرتے نہیں ، اللہ کے غضب کو بہت بھڑکانے والی ہے یہ بات کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں ۔‘‘ (الصف) نبی اکرم ؐ نے فرمایا:’’میرے بعد ایسے نا خلف حکمران آئیں گے جو ایسے دعوے کریں گے جن پر عمل نہ کریں گے ۔‘‘ (مسند احمد) ’’ قیامت کے دن اللہ جھوٹے حکمران کی طرف نہ تو کرم کی نظرکرے گا ، نہ ہی اس سے بات کرے گا اور نہ ہی اس کے گناہ معاف کرے گا بلکہ اسے دردناک عذاب دے گا۔‘‘(صحیح مُسلم)

بلند وبانگ دعوے کرنا: لا ف زنی بڑھکیں لگانا اسلام میں پسندید ہ نہیں ہے جبکہ ہماری سیاسی سرگرمیوں میں یہ وبا عام ہے ۔ عام وعدوں ، منصوبوں یا دعٰووں کے ساتھ ’’انشاء اللہ‘‘ کا استعمال کم ہی دیکھنے میں آتا ہے ۔ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’ کبھی مت کہو کہ میں کل یہ کام کروں گا مگر ساتھ انشاء اللہ (یعنی اللہ نے چاہا تو) کہا کرو ۔‘‘ (الکہف 23 , 24)آپ ؐ نے فرمایا کہ ’’ انسان کے کمالِ ایمان میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ہر بات (کام) میں انشاء اللہ کہے ۔‘‘ (المعجم الاوسط)

عہد شکنی: قرآن وحدیث میں وعدے کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے ۔ ارشادِ خدا وندی ہے ’’عہد کی پاسداری کرو بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ (بنی اسرائیل 34) وعدے کی پاسداری دین کا اتنا اہم اور ضروری حصہ ہے کہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا ’’ جس شخص میں وعدے کی پاسداری نہیں اس کاکوئی دین ہے ہی نہیں ۔‘‘ (مسند احمد) ’’منافقین کی ایک نشانی عہد شکنی بھی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری) نبی اکرم ؐ نے فرمایا ’ ’قیامت والے دن ہر عہد شکنی کرنے والے کیلئے بطور نشانی ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور جو جتنا بڑا عہد شکن ہو گا اس کا جھنڈ ا بھی اتنا ہی بلند ہو گا اور کہا جائے گا یہ فلاں کی دھوکے بازی کا جھنڈا ہے۔‘‘(مسنداحمد)

مدح سرائی کی حوصلہ افزائی : نبی اکرم ؐ کے سامنے ایک شخص نے دوسر ے کی تعریف کر دی تو آپ ؐ نے کئی بار فرمایا کہ ’’تم نے تو اپنے ساتھی کی گردن اُڑا دی۔‘‘(صحیح مُسلم) اسلام میں یہ بھی پسند نہیں کیا گیا کہ انسان اپنی تعریف پسند کرے ، خوشامد پرستوں کی حوصلہ افزائی کرے اور انہیں اپنی تشہیری مہم چلانے کی اجازت دے۔ نبی اکرم ؐ نے فرمایا:’’ جب تعریف کرنے والے تم سے ملیں تو ان کی منہ میں خاک بھر دو۔‘‘ (ابو داؤد)

شہرت پسند ی اور خود نمائی: نیکی کی توفیق ملنے پر اپنی تعریف اور دنیاوی فائدے کے بجائے اللہ کا شکر اور آخرت میں بھر پور اجر کی دُعا کرنی چاہئے۔ دُنیاوی فائدے کیلئے اپنی نیکی اور خدمتِ خلق کی تشہیر سے اجر ضائع ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم ؐ نے فرمایا:’’ جو نیکی کے کسی کام پر اپنی ستائش و تعریف چا ہے گا تو اس نے اپنے رب کا شکرادا کرنے کا موقع گنوا دیا اور اس کا عمل بھی ضائع ہو گیا۔‘‘ (الجامع الکبیر) ایک حدیث کے مطابق ’’شہرت پسند ی انسان کو اندھا اور بہر ہ کر دیتی ہے۔‘‘(الجامع الصغیر)پھر انسان نا کردہ کامو ں پر بھی شہرت حاصل کرنے سے باز نہیں رہتا۔ قرآن ِ حکیم میں اس کی مذمت فرمایا گیا۔’’جو لوگ اپنے کئے ہوئے کاموں پر اتراتے ہیں اور ناکردہ کاموں پر بھی اپنی تعریف کروانا پسند کرتے ہیں،اُنہیں عذاب سے محفوظ نہ سمجھنا بلکہ اُ ن کیلئے درد ناک عذاب ہے۔‘(ال عمران 188)

ریا کاری: شہرت پسند ی کی انتہا یہ ہے کہ انسان نیک کام دُنیا میں نام ونمود کیلئے کرنے لگتا ہے ۔’’روزِ قیامت جب اللہ بندوں کو ان کے اعما ل کا بدلہ دے گا تو دکھاوا کرنے والوں سے کہے گا جاؤ اُن لوگوں کے پاس جا کر اجر مانگو جنہیں تم دُنیا میں اپنے نیک کام دکھایا کرتے تھے۔‘‘(مسند احمد) ۔ حدیث پاک کے مطابق ’’شہر ت پسند شہید ، عالم اور سخی کو قیامت کے دن جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ (صحیح مُسلم) ۔

حکومت و عہدے کی حرص: ہماری سیاست میں جھوٹ ، وعدہ خلافی اور دیگر غیر اخلاقی اور خلافِ شریعت اُمور اِسی لالچ کا شاخسانہ ہے۔ نبی اکر م ؐ نے فرمایا:’’ عنقریب تم لوگ حکومت کی حرص کرنے لگو گے اور ایسی حکومت قیامت کے دن باعثِ ندامت ہوگی۔پس دودھ پینا تو بہت عمدہ ہے لیکن دودھ کا چھڑانا بہت ہی بُرا ہوتا ہے۔ ‘‘(صحیح بخاری) آپؐ نے فرمایا:’’ مانگے بغیر حکومت مل جائے تو اس پر اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے لیکن مانگے کی حکومت پر اللہ کی مدد نہیں ملتی ۔‘‘( صحیح مُسلم)آپ ؐ نے فرمایا :’’خدا کی قسم ہم یہ عہدہ نہ تو اُس کو دیتے ہیں جو اس کی طلب کرے اور نہ ہی اس کو دیں گے جو اُس کا لالچ رکھتا ہو۔‘‘(صحیح مُسلم)حکمرانی طلب کرنا خود کو سخت خطرے اور آزمائش میں ڈالنا ہے ۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا:’’تم پر مشرق و مغرب کھول دئیے جائیں گے۔ البتہ تمہارے حکمراں دوزخی ہوں گے۔ سوائے اس کے کہ جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور حکومت ( کے جملہ فرائض کی )امانت ادا کرے ۔‘‘(مسندِ احمد)

اللہ تعالیٰ ، اسکے رسول ؐ اورقرآن کی وفاداری کا تقاضا ہے کہ :انفرادی زندگی میں کتاب اللہ اور سنتِ رسول ؐ کے مطابق اللہ کی عبادت کی جائے۔ اُمیدواروں کو چاہئے کہ انتخابی مہم میں مذکورہ بالا منکرات سے قطعی اجتناب کریں اور حکومت ملنے کے بعد اللہ کے دین کو نافذ کریں ۔عوام اور سیاسی کارکن ان منکرات سے خود بھی بچیں اور دوسروں بالخصوص انتخابی اُمیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو بھی اُن سے بچنے کی ترغیب دیں اور ان سے بھر پُور طورپر نفاذِ اسلام کا مطالبہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں حتیٰ الامکان اپنی زندگیوں کو قرآن وسنت کے تابع کرنے کی اور اجتماعی سطح پر ان احکامات کے نفاذ کی جدوجہد میں شرکت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔


ای پیپر