توہین آمیز خاکوں پر عالم اسلام کی خاموشی کیوں؟
22 جولائی 2018 2018-07-22

ہالینڈ میں اسلام سے متعلق توہین آمیز خاکوں پر پاکستان نے ڈچ سفیر آردی اسٹیو آئی اوس براکن کو دفترخارجہ طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا تے ہوئے کہا کہ ہالینڈ میں اسلام سے متعلق کارٹون مقابلے پر ناصرف پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے کارٹون مقابلے مسلمانوں کے عالمی سطح پر جذبات مجروح کرنے اور اشتعال کا باعث بنے گا۔ پاکستان کسی بھی صورت ایسی گستاخانہ حرکت کبھی برداشت نہیں کرسکتا اور نہ ہی ہم سے توقع رکھی جائے کہ ہم ایسی گستاخی کو برداشت کرسکتے ہیں۔ اس حوا لے سے نگران وزیر خارجہ عبد اللہ حسین ہا رو ن نے سیکرٹری جنرل او آئی سی کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں خاکوں کے مسئلے پر سخت ترین اقدامات کی سفارشات بھی کی گئی ہے۔گستاخانہ خاکوں سے ہماری برداشت کا امتحان لیا گیا ہے اور یاد رکھا جائے کسی بھی فورم پر ایسی حرکت کرنے والوں کے دل شکنی کی جائے گی اور ہر فورم پر اپنا احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
گزشتہ ماہ ہالینڈ کے ایک شخص نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا اعلان کیا جس پر کسی بھی مسلمان ملک کی جانب سے احتجاج نہیں کیا گیا۔ امت مسلمہ کی اس خاموشی کی وجہ سے اب وہ سوشل میڈیا کے ذریعے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کی مہم میں مصروف ہیں۔ مذموم اعلان کیخلاف احتجاج کرنا ہر مسلمان کا ایمانی فریضہ اور حضورؐ سے محبت کا تقاضہ ہے۔ مسلمان کیلئے آقائے دوجہاں کی ناموس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ ہالینڈ پارلیمنٹ کے رکن کا گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا اعلان کرکے پوری امت کی غیرت کو للکارا ہے۔ ایٹمی صلاحیت، مالا مال مسلم ممالک کے سربراہوں کی گستاخانہ خاکوں پر خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔ مذموم حرکت کیخلاف عالم اسلام کو متحد ہوکر میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔
چند برس قبل فرانس کے ایک جریدے شاغلے ایبدو کی جانب سے سرور کائنات حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے مسلم دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کوٹھیس پہنچا۔یہ وہ اقدام ہیں جو صرف مسلمانوں کے خلاف جاتے ہیں۔ یورپ اور غیر مسلم ممالک مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی گستاخانہ خاکے بنا کر ، کبھی حجاب اور داڑھی پر پابندی لگا کر ، کبھی قبلہ اول کو اسرائیلی تحویل میں لینے کی بات کر کے ۔ غرض تمام غیر مسلم دنیا مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے درپے ہے۔ ہم کسی بھی مذہب اور عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے کے خلاف ہیں تو پھر مسلمانوں کے جذبات سے کیوں کھیلا جارہا ہے، انبیائے کرام اور برگزیدہ ہستیوں کا احترام کیا جانا چاہیئے۔مسلمان ممالک میں شاذو نادر ہی غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر حملہ ہوتا ہے لیکن جس مسلمان ملک میں بھی یہ واقعہ ہوتاہے وہاں کے حکمران سیاسی اور دینی رہنما ہمیشہ اس کی مذمت کرتے ہیں مسلمانوں کو سمجھاتے ہیں کہ یہ اسلامی طریقہ نہیں کیونکہ اسلام اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کو مکمل تحفظ دیتا ہے تاہم جب گستاخانہ خاکے چھاپ کر ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانو ں کے دلوں کو چھلنی کیاجاتا ہے تو مغرب کے حکمران اس کی مذمت کرنے کی بجائے گستاخانہ خاکے چھاپنے والوں کی حمایت کرتے ہیں۔پوری مسلم دنیا نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی پرزور مذمت کی ہے۔ترک وزیراعظم نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر شدید غم وغصے کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی صحافت کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ توہین کا لائسنس دیدیا جائے۔ ہم اپنے رسول ؐ کی توہین کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے۔گستاخانہ خاکون کی اشاعت انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکے کی اشاعت سے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ فور ی طور پر اسلامی سربراہی کانفرنس بلا کرمغرب کو واضح پیغام دیا جائے کہ آزادی اظہار کی آڑمیں گستاخی کے پے در پے واقعات ناقابل قبول اور قابل مذمت ہیں۔ اگر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کرنے والے جریدے کے حق میں 40سے زائد مغربی ممالک کے سربراہان اور اسرائیلی وزیراعظم سمیت 15لاکھ افراد سٹرکوں پر آسکتے ہیں تو کروڑوں مسلمان بھی شان رسالت میں گستاخی کے خلاف میدان میں آسکتے ہیں۔ اگر مغربی ممالک میں ایسے واقعات کی روک تھام نہ کی گئی تو دنیا میں تیسری جنگ عظیم چھڑ سکتی ہے۔ ہم آزادی اظہار کے حامی ہیں لیکن کسی قسم کی انتہا پسندی کے حق میں نہیں ہیں۔ فرانس میں مساجد کی تعمیر، داڑھی رکھنے اور حجاب کرنے پر پابندی بھی دہشت گردی ہے۔ یورپی یونین کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ پاکستان او آئی سی کا اجلاس بلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ مغربی ممالک کی شہ پر فرانسیسی میگزین نے دوبارہ توہین آمیز خاکے شائع کئے ہیں۔ مسلمانوں کے جذبات بھڑکا کر تہذیبوں کی جنگ کھڑی کی جارہی ہے۔ تمام انبیائے کرام اور مقدس کتب کی توہین کے خلاف قانون سازی کیلئے مغربی ممالک پر دباؤ بڑھایا جائے۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت دنیا کا امن برباد کرنے کی خوفناک سازش ہے۔ ایسی مذموم حرکتیں کرنے والوں کو صلیبیوں اور یہودیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ مغرب اور یورپی یونین کو دنیا کا امن عزیز ہے توا نہیں گستاخانہ مواد کی اشاعت کو روکنا پڑیگا۔ ہم متنبہ کرتے ہیں اگر مغربی ممالک میں ایسے واقعات کی روک تھام نہ کی گئی تو دنیا میں تیسری جنگ عظیم چھڑ سکتی ہے۔ ان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت گستاخانہ اورجہالت کے زمرے میں آتی ہے۔ اظہار رائے کی آ زادی کا مقصد کسی مذہب کی توہین ہزگز نہیں۔ اس عمل سے دنیا میں قیام امن کو نقصان ہوگا لہذا ایسے اقدامات سے اجتناب لازم ہے۔ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پراو آئی سی کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگااور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک کو متحد کرکے اس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے مستقل بنیادوں پرٹھوس اقدامات کرنا ہونگی۔ ویب سائٹ پر توہین رسالتؐ کا مواد ہٹانے کیلئے عملدرآمد کیس کی سماعت میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ ٹوئٹرپر توہین رسالت سے متعلق مواد ابھی تک کیوں موجود ہیں۔2 مئی کو توہین رسالت کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے، ابھی تک عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟


ای پیپر