جنرل یحیےٰ کا بیان :پاکستان کا وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمان ہوگا
22 جولائی 2018 2018-07-22

مجھے معلوم ہے کہ آ ج کی نوجوان نسل کہے گی کہ اس سترے بہترے کو کیا ہوگیا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔اس کی کئی وجوحات ہیں ایک تو ہمارے نصاب میں کسی جگہ بھی مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بارے میں نہیں بتایا جاتا اگر بتایا جاتا ہے تو یہ کہ مجیب الرحمان غدار تھا اور وہ پہلے ہی دن سے پاکستان کو توڑنے کی کوشش میں تھا وغیرہ وغیرہ۔یہ بات بھی تقریباً سب ہی تجزیہ نگار‘ مورخ اور دانشور کہتے ہیں کہ 1970کے الیکشن منصفانہ تھے اور فوج نے اس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی۔جب ہم یہ تجزیہ پیش کرتے ہیں تو ہم بھول جاتے ہیں کہ فوج کے سربراہ جنرل یحیےٰ خان نے 25مارچ 1969کو چیف مارشل محمد ایوب خان کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔اس وقت جنرل ایوب کی کنونشن مسلم لیگ بر سر اقتدار تھی اور ایوب خا ن اس کا صدر تھا۔(اس کے بعد کسی فوجی حکمران نے وردی نہیں اتاری)۔سو جب ملک میں جنرل یحیےٰ کا مارشل لا لگا تو سب سے پہلے ساری سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی جس میں ایوب خان کی مسلم لیگ بھی شامل تھی پھر کنونشن مسلم لیگ کے ساتھ یہ امتیازی سلوک کیا گیا کہ اس کے فنڈز بھی ضبط کر لئے گئے اور اس بات کو یقینی بنا دیا گیا کہ وہ کسی بھی طرح الیکشن نہ جیت سکے۔

اب اس سے پہلے کہ میں آ گے لکھوں میں یہ سوال اپنے سے سینئر لوگوں اور سیاسی سوج بوجھ رکھنے والوں سے پوچھتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں نے جنرل ایوب سے جمہوریت لینے کی بجائے جنرل یحیےٰ کا مارشل لا کیوں قبول کیا۔یہ بات واضح ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان اور صدر پاکستان کی بلائی ہوئی سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس سے بھاشانی‘ بھٹو اور شیخ مجیب نے واک آوٹ کیا تھا ۔

بہرحال جنرل یحیےٰ نے ایوب مخالف تحریک کے تقریباً تمام مطابات مان لئے یعنی ون یونٹ کا توڑنا‘ ایک آدمی ایک ووٹ ‘ براہ راست انتخابات اور دونوں صوبوں(مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں) کی آبادی کی بنیاد پر قومی اسمبلی میں نمائندگی اور پارلیمانی طرز حکومت۔الیکشن مہم کے لئے ساری سیاسی جماعتوں کو تقریباً ایک سال یعنی1970کا سارا سال دیا گیا۔

میں صرف اتنا تذکرہ کروں گا کہ یہ غالباً پاکستان کا واحد الیکشن تھا جو پارٹیوں کے منشور کی بنیاد پر لڑا گیا۔

جنرل یحیےٰ کا گیم پلان یہ تھا کہ لوگوں کو آزادانہ اپنے نمائندے چننے دئے جائیں اور پھر الیکشن کے نتائج کی روشنی میں سیاسی جماعتوں کو کہا جائے کہ آ پ جنرل یحیےٰ کو صدر پاکستان بنا دیں۔مشرقی پاکستان میں دو کے سوا باقی ساری سیٹیں مجیب الرحمان کی عوامی لیگ نے جیتیں۔ اس کے بعد یحیےٰ خان نے مجیب الرحمان سے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ پاکستان کا وزیر اعظم مجیب الرحمان ہوگا۔مگر اکثریتی پارٹی عوامی لیگ جنرل یحیےٰ کو صدر پاکستان بنانے کے لئے راضی نہ ہوئی اس لئے فوج نے عوامی مینڈیٹ کو نہ مانا اور مشرقی پاکستان پر فوج کشی کردی جس کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔آ پ بجا طور پر یہ سوال کر سکتے ہیں کہ آ پ آ ج یہ باتیں کیوں کر رہے ہیں؟اگر آ پ کی ماضی قریب کے پاکستا ن کے حالات پر نظر ہے تو آ پ کو معلوم ہوگا کہ نواز شریف کی برطرفی ‘ آ سمانی مخلوق کا کردار اور عمران خان جسے سیاسی لوگ اب ’لاڈلہ‘ کے نام سے پکارتے ہیں کو بطور وزیر اعظم پیش کیا جا رہا ہے اوراس کا رویہ بھی وزیر اعظم جیسا ہے۔باوجود آسمانی مخلوق کی نادیدہ اور دیدہ کوششوں اور کردار کے ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف sweep نہیں کرے گی۔یقینناً وہ تین بڑی پارٹیوں ‘ مسلم لیگ نون‘ پیپلز پارٹی میں سے ایک ہوگی۔

لگتا یوں ہے کہ عمران خان کو نادیدہ اور دیدہ قوتیں وزیر اعظم نہیں بنا سکیں گیں۔نواز شریف (مریم نواز) کے پاکستان واپس آ نے اور جیل میں جانے کے بعد مسلم لیگ نون کا گراف اونچا ہوگیا ہے۔اس سارے عرصہ میں بدقسمتی سے عبوری وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے عہدوں کی افادیت کے بارے میں بھی بحث مباحثہ سامنے آ یا ہے اور ان کے کردار پر انگلیاں اٹھی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ساری دنیا اور خاص کر ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی الیکشن کمیشن کو آزاد ‘ خود مختار اور ایک مضبوط غیر جانب دار ادارہ بنانا چاہئے اور اسی کو الیکشن کروانا چاہئے۔اسی میں پاکستان کی بھلائی اور بہتری ہے ۔اس میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔آسمانی مخلوق کو اپنے کردار کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے اور کسی بھی طرح عوام کی نظروں میں نہیں گرنا چاہئے۔امید ہے الیکشن کے نتائج کسی بڑے طوفان کی طرف نہ لے جائیں گے جیسا کہ 1970میں ہوا تھا۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران خان سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا گیا ہے ۔اب دیکھنا ہے کہ عمران خان اس دھجکہ کو کیسے برداشت کرے گا۔

ویسے شہباز شریف نے کراچی میں اعلان کیا ہے کہ وہ قومی حکومت بنائیں گے۔

نواز لیگ کو دیوار سے لگانے کے سارے حربے ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں اس لئے لگتا ہے کہ آسمانی مخلوق کی توجہ اب الیکشن کے نتائج پر ہے اور ان کی کوشش ہوگی کہ اپنی پٹاری سے سنجرانی قسم کا شخص لا کر بلوچستان فارمولے پر عمل کریں مگر لگتا ہے کہ یہ پلان کامیاب نہیں ہوگا اور آخر کار سیاسی جماعتوں کو ووٹ کے احترام‘ ووٹ کو عزت اور عوامی مینڈیٹ کی طرف بڑھنا ہوگا۔ الیکشن کے نتائج خواہ کچھ بھی ہوں مگر پنجاب سے اٹھنے والی لہر کو مستقل طور پر نہیں دبایا جا سکتا اور اس مزاحمتی تحریک میں بنیادی نام اور نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کا ہے۔


ای پیپر