خان صاحب محکمہ پولیس کو عوام دوست بنائیے گا
22 جولائی 2018 2018-07-22

یک دور میں بعض حلقوں میں ایک عمومی تصور یہ بھی پایا جاتا تھا کہ پولیس میں بدعنوانی]، بے ضابطگی اور رشوت ستانی کی بڑی وجہ پولیس ملازمین کی تنخواہوں کاکم ہونا ہے۔گزشتہ کئی برسوں کا ریکارڈ گواہ ہے کہ منتخب اور غیر منتخب حکومتوں کے ہر دور میں پولیس ملازمین کی تنخواہوں اورمراعات میں ایک تسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ اضافہ ہوتا رہا ہے۔ محکمہ پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر یوں تو کسی شہری کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن عام شہری اس کا مثبت ردعمل پولیس کے رویوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہے۔ اس کا مشاہدہ اسے یہی بتا تا ہے کہ سہولیات اورمراعات میں بیش بہا اضافے کے باوجودمحکمہ پولیس میںآج بھی رشوت ستانی کی گرم بازاری ہے۔عالم یہ ہے کہ تھانوں اور چوکیوں میں متعینہ محررکسی شے یا شہری کی گمشدگی کی اطلاعی درخواست بھی’’ بلافیس‘‘وصول نہیں کرتے۔ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ پولیس کلچر تبدیل کرناچاہتے ہیں۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ وہ کسی صوبے کے پہلے ایسے سربراہ نہیں ہیں جو اس قسم کے امید افزاء بیانات دے رہے ہیں۔ماضی میں بھی مختلف وفاقی اور صوبائی سربراہان حکومت پولیس کا قبلہ درست کرنے کیلئے اسی سے ملتے جلتے آہنی اقدامات کرنے کا عزم کرتے رہے ہیں۔ حقائق و حالات کا بنظر غائر مطالعہ اور تجزیہ کرنے کے بعد ایک غیر جانبدار مبصر یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید محکمہ پولیس ایک ناقابل تسخیر جن ہے ٗ جسے کوئی طاقتور ترین حکمران بھی نظم کی بوتل میں بند کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اخبارات کے صفحات پر جلی الفاظ میں شائع ہونیوالی وہ سرخیاں عوامی حافظے میں آج بھی موجود ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پیشروبھی محکمہ پولیس کے اہلکاروں کے’’ تھانیدارانہ رویوں‘‘ کے شاکی تھے۔ اپنے 32 ماہ کے اقتدار کے دوران انہوں نے متعدد بار عوام کو یہ یقین دلایا کہ اب تھانے فریادیوں کی قتل گاہ کے بجائے مظلوم شہریوں کی پناہ گاہ کا روپ دھار جائیں گے۔ ان کے تمام تر بلند بانگ دعوؤں کے باوجودمرغ کی وہی ایک ٹانگ کے مصداق پولیس کا پرنالہ جہاں تھا ٗوہیں رہا۔ موجودہ حکومت کے ارباب حل و عقدبھی کئی بار محکمہ پولیس کی کارکردگی کو عوام دوست بنانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ان کی نیک خواہشات کے باوجود عالم یہ ہے کہ آج بھی ان کے ہونٹوں پر یہ’’ شکوہ ‘‘ موجود ہے کہ’’ عوام اور پولیس کے مابین اعتمادکا رشتہ ختم ہو چکاہے۔‘‘ سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس رشتے کو بحال کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ وہ کونسی قوت ہے جو عوام میں پائے جانیوالے اس تاثر اور احساس کو زائل کرے کہ ’’ پولیس عوام دوست ادارہ نہیں ہے۔‘‘ یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ محکمہ پولیس ہویادیگر سرکاری محکمے ٗان کے قیام کی بنیادی غرض و غایت کیا ہے؟ کیا یہ درست نہیں کہ تمام ریاستی اداروں اور محکموں کے قیام کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور رہنمائی کرنا ہے؟ کیا محکمہ پولیس سمیت دیگر ریاستی ادارے اور محکمے اپنے اس فطری کردار کو ادا کررہے ہیں؟ اس سوال کا جواب یقیناً اثبات میں نہیں ہے۔ آخر وہ دور کب آئے گا جب ایک مظلوم تھانے کی عمارت میں داخل ہوتے ہوئے اپنی جان ٗ مال اور آبرو کو محفوظ تصور کرے گا ؟ کیایہ سچ نہیں کہ سادہ لوح معصوم شہری جونہی کسی تھانے کی حدود(الاماشاء اللہ) میں قدم رکھتاہے ٗ اس کی جان ٗ مال اور آبرو تینوں معرض خطر میں پڑجاتے ہیں۔ ہونا تویہ چاہئے کہ پولیس کو ہر شہری اپنی جان ٗ مال اور آبرو کا محافظ جانے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ان سطور کے ذریعے ہم وزیراعلیٰ پنجاب کی توجہ اس عوامی خواہش کی طرف مبذول کروانا چاہیں گے کہ وہ اپنے پیش روؤں کی طرح محض بیان بازی پر اکتفا نہ کریں بلکہ جو بھی کہیں اسے حسب قوانین و ضوابط عمل کے سانچے میں ڈھال کر دکھائیں۔ عوام مستقبل کے حکمرانوں کو کردار کے غازی کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ وطن عزیز کی بااختیار اورمقتدر ترین شخصیات بھی محکمہ پولیس کا قبلہ درست کرنے میں ناکام رہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اوپر سے نیچے تک محکمہ پولیس کے اہلکاران و افسران ایک بیجا قسم کے احساس برتری میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے محکمے کی بالادستی کا سکہ جمانے اور لوہا منوانے کیلئے ہرغیر انسانی ٗ غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت کے ارتکاب کو اپنا استحقاق گردانتے ہیں۔ محکمہ پولیس کی اعلیٰ سطحی بیوروکریسی کو اس مسخ شدہ صورت حالات کی اصلاح کیلئے اپنے تئیں مساعی بروئے کار لاناچاہئیں۔ محکمہ میں موجود اعلیٰ سطحی افسران مقابلے کے اعلیٰ امتحانات کو پاس کرنے کے بعد اس محکمے میں خدمات کیلئے منتخب کئے جاتے ہیں۔ بلاشبہ پولیس بیوروکریسی معاشرے اور مملکت کے ذہین ترین افراد پر مشتمل ہے ٗ لیکن عام آدمی کیلئے یہ بات آج بھی ناقابل فہم ہے کہ اپنی تمام تر قابلیتوں ٗ اہلیتوں اور ذہانتوں کے باوجود وہ اپنے ماتحتوں کے درشت ا رویوں کی تہذیب کرنے سے کیونکر قاصر رہے ہیں۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ’’کان نمک ‘‘میں پہنچ کر ہر کوئی نمک بن جاتا ہے؟ آخر کیاوجہ ہے کہ وطن عزیز کے عوامی حلقوں کیلئے یہ تسلیم کئے بنا چارہ نہیں کہ ان کے منتخب سیاسی حکمرانوں کی جانب سے پولیس کی اصلاح کیلئے کی جانیوالی کوششیں محض ایک ’’خارجی دباؤ‘‘ ہوتی ہیں۔ کیا ایک منتخب عوامی حکومت کی کوئی اعتباریت نہیں ہوتی؟ رائے دہندگان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر منتخب جمہوری حکمران منتخب سیاسی حکومتوں کی رٹ کو سرکش محکموں کے سرپھرے اہلکاروں سے تسلیم کروانے میں کب کامیاب ہوں گے؟ محکمہ پولیس کے ذمہ داران کو بھی یہ احساس ہونا چاہئے کہ70برسوں تک انہوں نے من مانی کی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کے وسیع تر اور بہتر مفاد میں وہ اپنی سابقہ روش کو یکدم ترک کر کے اپنے ماتحتوں کو عوام دوست رویوں کو اپنانے پر آمادہ کریں۔


ای پیپر