علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ساہیوال کیمپس کا انقلابی قدم
22 جولائی 2018 2018-07-22

تعلیم ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی زندگی کو ایک اعلیٰ اور اچھے مقام سے روشناس کرواتا ہے۔ تعلیم انسان کے ارتقائی عوامل میں بتدریج اہم تبدیلیاں پیدا کرتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ انسان اپنی زندگی کے لیے ایک راستے کا تعین کر لیتا ہے۔ اسی طرح نصاب تعلیم ایک راستہ ہے جس پر چل کر طالب علم اپنی منزل پا لیتا ہے۔ لہٰذا تعلیم اور نصاب دونوں انسانی تربیت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یوں تو ہر فرد کی تعلیم اور تربیت کی ذمہ داری ریاست کے حقوق میں شامل ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں اس ریاستی ذمہ داری کا فقدان حد درجہ پایا جاتا ہے۔ دوسری سب سے بڑی وجہ کہ پرائیویٹ سیکٹر نے تعلیم اس قدر مہنگی اور تجارتی بنیادوں پر کر دی ہے۔ یوں تو گورنمنٹ کے بے شمار تعلیمی ادارے موجود ہیں یہاں علم کے پروانے اپنی تعلیمی شمع روشن کرنے میں محو ہیں۔ مگر حالات کی ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ملک خداداد کی پچاس فی صد آبادی غریب اور تنگدستی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو محنت اور مزدوری کرتے ہیں یا پھر چھوٹی موٹی نوکری کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان کے لوگوں کے اندر ٹیلنٹ بھی موجود ہوتا ہے اور آگے بڑھنے کا جذبہ بھی ان کے اندر موجزن رہتا ہے۔ مگر ان تمام باتوں کو بالائے طق رکھتے ہوئے کہ ان کے پاس ریگولر وقت نہیں ہوتا کہ وہ سکول کالج یا کسی باقاعدہ یونیورسٹی میں داخل ہو کر اپنی تعلیمی تشنگی دور کر سکیں۔ یوں 1974 ء میں گورنمنٹ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی بنیاد اسلام آباد میں کر دی اور اس یونیورسٹی کے سب کیمپس پورے پاکستان کے بڑے بڑے اور دور دراز کے شہروں میں بنا دیے ۔ تا کہ وہ لوگ جو باقاعدہ طور پر تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لے سکتے وہ اس ادارے سے منسلک ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ۔یوں پاکستان میں نیم موسمی تعلیم کی بنیاد کا سہرا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سر جاتا ہے۔اس یونیورسٹی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس یونیورسٹی میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ طالب علم اپنی عمر کے کسی حصے میں بھی داخلہ لے سکتا ہے۔ دوسرا اس یونیورسٹی کی خوبی یہ ہے کہ یہ سمسٹر سسٹم پر مبنی ہے اور تحقیقی انداز بدرجہ اتم موجود ہے۔ طالب علم اپنی اسائنمنٹ بناتے ہوئے تحقیقی عمل سے گزرتا ہے۔ یونیورسٹی طالب علموں کے لیے پارٹ ٹائم ٹیوٹر مقرر کرتی ہے اور طالب علموں کی بہتری کے لیے تمام مضامین کے لیے ورکشاپس منعقد کرتی ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا پیٹرن بھرپور تحقیق اور تدوین پر مبنی ہے مگر ہم نے اس کے معیار کو حد درجہ پست کر دیا ہے۔ ٹیوٹر فائلوں کے حصول اور ورکشاپس کے کوآرڈینیٹر بننے کے لیے ہم نے اپنی اخلاقیات تار تار کر دی ہے۔ فائلوں کے حصول کے لیے کلرکوں کے مرہون منت ہو گئے اور ورکشاپس میں حاضری کے حصول کے لیے کو آرڈینیٹر نے ساز باز شروع کر دی۔ لہٰذا تعلیمی پستی کا آغاز ہو گیا۔ مگر تاریک راتوں کا سینہ پھاڑ کر سحر ضرور نمودار ہوتی ہے۔ ساہیوال جو کئی حوالوں سے پنجاب کے متعبر شہروں میں شامل ہے (گورنمنٹ کالج ساہیوا، شہر مجید امجد، شہر منیر نیازی، حاجی بشر احمد بشر ، عباس نجمی مرحوم اس شہر کے معتبر جوانوں میں شامل ہیں) میں بھی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا سب کیمپس موجود ہے جو طالب علموں کو علم جیسے نور سے منور کر رہا ہے۔ مگر اس کیمپس میں آنے والا ہر ریجنل ڈائریکٹر اپنا سکہ چلاتا رہا اور آئین اور قانون نافذ کرتا رہا۔ اقربا پروری اور مالیاتی معاملات اپنی حدود و قیود پا رکر چکے تھے۔ مگر اس سیاہ رات میں روشنی ایک ایسے دائریکٹر کی صورت میں ہوئی جس نے اس ادارے کی سیاہ بخشتی کو روشن بختی اور خوش بختی میں تبدیل کر دیا۔ ذوالفقار علی چودھری جو کہ سیاسیات اور عمرانیات کے مضمون میں ایم فل کی ڈگری رکھتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ اگر انسان کے اندر ایمانداری ، لگن، محبت، خلوص اور قوم کی خدمت کا جذبہ موجود ہو تو صرف ایک انسان قوم کی تقدیر اور مقدر بدل سکتا ہے۔ ذوالفقار چودھری نے اپنے آفس کا تمام کام اپنی زیر نگرانی رکھا ہوا ہے۔ ٹیوٹر فائل کو کلرکوں کے چنگل سے چھڑا کر اپنے ہاتھ میں لے کر شفاف کر دیا ہے۔ جھوٹ کی پابندی کا قفل لگا دیا ہے۔ فائل کی قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی پروفائل کا استاد مقرر کیا گیا۔ طالب علموں کو اطلاع دینے کے لیے تمام فریضہ یونیورسٹی نے اپنے ذمہ لیا۔ اساتذہ اور ٹیوٹرز کی پابندی کے لیے سڈی سنٹرز میں اساتذہ کی حاضری کے لیے رجسٹر رکھوائے۔ اساتذہ اور ٹیوٹرز کے پے منٹ بلوں کو آن لائن کیا۔ اساتذہ اور ٹیوٹرز کو بروقت پے منٹ کے نظام کو تیز ترین اور بہتر کیا۔ طالب علموں کی ورکشاپس کو اس قدر بہتر کیا کہ ریسورس پرسن کو انتہائی میرٹ اور اعلیٰ ڈگریوں کی بنیاد پر فوقیت دی۔ ورکشاپس میں طلباء کی حاضری کو 100 فیصد یقینی بنایا۔ ورکشاپس کے انعقاد کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا انتخاب کیا۔ اس ضمن میں ذوالفقار چودھری (ریجنل ڈائریکٹر) نے فرداً فرداً اداروں کو وزٹ کیا اور اداروں کے سربراہان سے خصوصی منت سماجت سے اداروں میں جگہ حاصل کی۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ کو ورکشاپس کے لیے قائل کیااور بطور ریسورس پرسن ان کی خدمات حاصل کیں۔ طلباء کے لیے فیس معافی کی سہولت جاری کی جو کہ ان سے پہلے بالکل موجود نہ تھی۔ طالب علموں کو لیپ ٹاپ دلوانے میں چودھری ذوالفقار نے جو کوششیں کیں وہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ذوالفقار چودھری نے امتحانی نظام کو صاف اور شفاف بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ آپ نے ایماندار اور محنتی ناظم امتحانات کا انتخاب کیا۔ امتحانی سنٹر کو بہترین سہولتوں سے مزین کیا۔ طالب علموں کو امتحانی مشفیق بنانے کی ترغیب دی۔ اساتذہ کو سخت مارکنگ کرنے سے روکا اور بددیانت ٹیوٹرز کو نا اہل کیا۔ ذوالفقار چودھری نے اپنی پیشہ وارانہ قابلیت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایمانداری اور میرٹ پر سختی سے پابندی کا نیا باب رقم کیا۔ ذوالفقار چودھری نے اپنے دفتر کے دروازے طالب علموں کے لیے واکر دیئے تا کہ وہ مسائل کے لیے ادھر اُدھر نہ بھٹکیں آپ طالب علموں کے لیے انتہائی مشفقانہ رویہ رکھتے ہیں۔ ان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پوری تگ و دو اور دل جمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آپ کی آمد ادارے کیلئے اور اس علاقے کے طالب علموں کیلئے ایک مشعل راہ بھی ہے اور خوش کن قیاس کی حامل بھی ہے۔ آپ کی علم سے محبت اور لگن، ملک سے لگن اور محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قارئین ذوالفقار چودھری کی ایمانداری، جدوجہد، لگن، علم سے محبت، ملک سے پیار اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر انسان کے اندر اور ایک لیڈر کے اندر صرف یہی خوبیاں موجود ہوں تو ملک میں کرپشن تو ایک طرف، ملک کی ترقی میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ بقول علامہ اقبال ’آئین جوانمرداں حق گوئی و بے باکی۔۔۔ اللہ کے شیروں کو آٹی نہیں روباہی۔۔۔نو مید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ۔۔۔کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی‘


ای پیپر