Broadsheet scandal, Javed Latif, appointment, Azmat Sheikh, investigation
22 جنوری 2021 (14:46) 2021-01-22

لاہور: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے چیئرمین اور ن لیگ کے مرکزی رہنما میاں جاوید لطیف نے براڈ شیٹ سکینڈل کی تحقیقات کے لئے حکومت کے مقرر کردہ کمیٹی کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت سعید  کی تعیناتی کو مسترد کر دیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ عظمت شیخ ڈپٹی پراسکیوٹر نیب تھے جب براڈشیٹ کیس بنا ، قوم کا جو اربوں روپے گیا اس کے موجد عظمت صاحب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے اربوں روپے جانے کے ذمہ دار بھی عظمت سعید ہیں۔ اب کمیٹی کے ممبر بھی وہی ہیں جن کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب اور شہزاد اکبر سمیت براڈ شیٹ معاملے میں ملوث ہر شخص کو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ فرخ حبیب نے کہا کہ چیئرمین نیب کے بلانے کے خلاف ہیں ، چیئرمین نیب کو اسٹیئرنگ کمیٹی میں آنا چاہیے۔

نیب کی طرف سے وضاحت نہیں آئی وہ آنا چاہتے ہیں یا نہیں ، حکومت وقت نیب کی ترجمان بنی ہوئی ہے۔ شبلی فراز بھی چیئرمین کو بلانے پر راضی تھے مگر فرخ حبیب کو فون کال آئی اور پھر شبلی فراز کا موقف بدل گیا۔

لیگی رہنما نے کہا کہ حکومت قومی لیڈر شپ کو بدنام کرنے کیلئے پاکستانی قوم کا پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔

جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کو بطور ادارے کے سربراہ اس معاملے پر اپنی سہولت اور معلومات کیلئے بلا رہے ہیں۔ انھیں شہزاد اکبر سمیت آنا پڑے گا۔ یہ مسئلہ یہاں حل نہ ہوا تو سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔


ای پیپر