dr ibrahim mughal columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
22 جنوری 2021 (13:33) 2021-01-22

  گو کورونا کی دوسری لہر میں بتدریج کمی دیکھی جارہی ہے۔مگر یہ کیا کم ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایمرجنسی پمز اور حیدرآباد کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ہیلتھ کو رو نا کی بنا پر جا ن کی با زی ہا ر گئے۔ دوسری جانب خوش آئند خبر ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ’’ایسٹرازینیکا‘‘ کی کورونا ویکسین کی ہنگامی صورتحال میں استعمال کی منظوری دے دی ہے جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت نے کہا ہے کہ پاکستان نے پہلے ہی چین کی سینو فارم کی ویکسین کی 10 لاکھ سے زائد خوراکوں کی بکنگ کروالی ہے، تاہم اس ویکسین کی ڈریپ سے ابھی منظوری باقی ہے۔ کورونا ویکسین کی امید افزاء خبر لاکھ خوش کن سہی، لیکن عوام کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ کورونا وائرس کے خلاف ہم حالت جنگ میں ہیں اور ذرا سی غفلت یا لاپروائی کی روش ہمیں زندگی سے محروم کرسکتی ہے۔ لہٰذا احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنے کا چلن ہمیں ترک کرنا ہوگا اور احتیاط کے دامن کو تھامے رہنا ہوگا، اسی میں ہماری بقا اور سلامتی کا راز مضمر ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر یا پھر تیسری لہر میں صورتِ حال مزید تشویش ناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔ کورونا وائرس کے ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان کی مالی حیثیت پر بھی یہ دبائو بڑھا ہے کیونکہ ٹیکس وصولی کم ہورہی ہے اور اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ معاشی و اقتصادی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ کورونا کی وبا ختم ہونے کے بعد پاکستان کو اپنی معیشت درست کرنے کے لیے دوبارہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ اس وبا سے پاکستان میں صنعت اور خدمات کے شعبے کے علاوہ سب سے زیادہ روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان میں رواںماہ، دوسری بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنا ہے۔ بجلی، گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ایک ساتھ اضافے کے باعث عوام پہلے ہی پریشانی اور مشکلات کا شکار تھے، پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافے نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔ دوسری جانب یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی مختلف اشیاء کی قیمتوں میں مختصر مدت میں دوبارہ اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ ہر بار ایسا ہوتا ہے کہ مہینے میں اگر دوبار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مہنگی ہوں تو اشیاء کی قیمتوں میں بھی دوبار اضافہ ہوتاہے۔ یہ ایک دوسرے سے پیوست عمل ہے۔ مشکل صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ اب تو کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ کسی چیز کے بحران، قلت اور قیمتوں میں اضافہ کی اطلاع نہیں آتی۔ مہنگائی میں اضافہ ہی مسئلہ نہیں بیروزگاری اور کاروبار کی مندی کے تباہ کن اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے کورونا کے سماجی واقتصادی اثرات کے بارے جاری کردہ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ کورونا وائرس کے دوران 66 لاکھ افراد کی آمدن 

میں کمی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ، زراعت، ہول سیل، ٹرانسپورٹ، تعمیرات و دیگر شعبے کورونا سے بری طرح متاثر ہوئے جبکہ تعمیرات سے منسلک 80 فیصد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔ ادارہ شماریات کے مطابق مینوفیکچرنگ سے 70 فیصد، ٹرانسپورٹیشن سے منسلک 67 فیصد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ دیہی علاقوں کی 49 فیصد آبادی کی آمدنی میں کمی ہوئی ہے، اس کے علاوہ ملک بھر سے 57 فیصد شہری آبادی کی آمدنی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سارے عوامل کے یکجا ہونے اور آئے روز عوام کو ریلیف دینے کی بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ عوام کی اکثریت اب دو وقت کی روٹی کی محتاج ہوگئی ہے، اچھا خاصا کمانے والے اور کاروباری طبقہ مالی مشکلات کا شکار ہوچکا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں جبکہ حکومت کے مالیاتی مشیروں اور وزراء کے پاس سوائے آئی ایم ایف سے امداد ملنے کا مژدہ سنانے کے علاوہ دوسری کوئی بات نہیں ہے۔ جس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ حکومت کو عوام کی حالت زار کی کوئی فکر نہیں ہے۔ جبکہ حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو حالات روز بروز سنگین ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت نے اس بات کا احساس نہ کیا اور عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز نہ کیا تو بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوں گے جو حکومت اور معاشرے دونوں کے لیے سخت مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ملکی معیشت میں برآمدات کی اپنی اہمیت ہے۔ اگر آپ برآمدات نہیں کرسکتے تو بے پناہ ذخائر کے باوجود معاشی ترقی کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت نے بھی برآمدات بڑھانے کے دعوے کیے تھے مگر کامیاب نہیں ہوئی۔ گزرے سال میں تو یہ بھی صورت حال بنی کہ برآمدات ڈیڑھ ارب ڈالر سے بھی کم رہیں ہیں وجہ کورونا ہے یا انتظامی کمزوری؟ ٹیکسٹائل کے شعبے کو بیشتر آرڈر ملے ہیں لیکن برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا۔ زراعت میں اہم جنس چاول ہے، محکمہ شماریات کے مطابق جولائی 2019ء میں چاولوں کی برآمدات 3 لاکھ 65 ہزار 138 ٹن تھی جو جولائی 2020ء میں کم ہوکر 2 لاکھ 66 ہزار 206 ٹن رہ گئی ہے۔ پاکستان سے چاولوں کی برآمدات کم ہوکر تقریباً 2 ارب ڈالر رہ گئی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر کام نہ ہونا ہے۔ اسی خطہ میں باسمتی چاول فی ایکڑ پیداوار تقریباً 120 من ہے جبکہ پاکستان میں 70 من ہے، عرب امارات میں ہندوستانی باسمتی چاول کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے زیادہ فروخت ہورہا ہے۔ پاکستان میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار اتنی کم ہوتی ہے کہ کسان کو جیب سے پیسہ لگانا پڑتا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کو کپاس کی وہی قیمت مل رہی ہے جو چین، بھارت اور بنگلہ دیش کو ملتی ہے لیکن فی ایکڑ پیداوار کم ہونے کی وجہ سے اخراجات بھی پورے نہیں ہو پاتے ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر میں حکومت نے ٹیکس ریفنڈ اور بجلی کے نرخوں میں مراعات دی ہیں لیکن ٹیکسٹائل برآمدات میں بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔ ایک جانب مہنگائی بڑھنے کے سبب عام آدمی کا جینا محال ہوگیا ہے، جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایم پی ایز نے تنخواہوں اور مراعات کو آٹے میں نمک کے برابر قرار دے کر گزارا نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ سپیکر نے حکومتی اور اپوزیشن ایم پی ایز کی اتفاق رائے کے بعد تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہاں پر انتہائی اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ممبران صوبائی اسمبلی کا ان کی تنخواہوں اور بھاری الائونسز کی وصولی کے باوجود گزارا نہیں ہوتا تو کوئی اس سوال کا جواب دے کہ دیہاڑی دار اور بیروزگار افراد کی حالت زار کیا ہوگی۔ اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے نہیں کر پاتا تو ورلڈ بینک سمیت کئی عالمی ادارے اور ممالک پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ مزید قرض لینا مشکل ہوجائے گا اور پہلے لیے ہوئے قرضوں کی ادائیگی کا دبائو بڑھ جائے گا۔ کورونا وائرس کی شدت اور اس سے پیدا ہونے والے معاشی و اقتصادی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کی مشکلات میں بتدریج کمی آسکے۔


ای پیپر