rana zahid iqbal columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
22 جنوری 2021 (13:31) 2021-01-22

پی ٹی آئی کی حکومت پورے ملک میں نیا یکساں نصابِ تعلیم نافذ کرنا چاہ رہی ہے۔ ۔ اس نصابِ تعلیم پر مختلف حلقوں کی جانب سے زبردست تنقید کی ہو رہی ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا امراء، سیاستدان، جرنیل، ججز اور بیوروکریٹس بھی اپنے بچوں کو یہ نصاب پڑھائیں گے یا پھر یہ نصاب صرف غریب عوام کے بچوں کے حصے میں آئے گا، جن کی اکثریت سرکاری سکولوں میں پڑھتی ہے۔ وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود تو یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ نصاب امیر اور غریب سب کے لئے ہے اور اس کو ہم سرکاری اور نجی تمام اداروں میں یکساں طور پر نافذ کریں گے تا کہ تعلیم میں طبقاتی تفریق ختم ہو۔ ناقدین پی ٹی آئی کی اس پالیسی کو صرف دکھاوا قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے چونکہ ملک میں طبقاتی نظامِ تعلیم ہے، جس میں اشرافیہ کے بچے یا تو انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھتے ہیں یا پھر بیرونِ ملک۔ طاقتور لوگوں کے بچے کبھی بھی یہ نصاب نہیں پڑھیں گے۔ گھوم پھر کر سرکاری سکولوں کے غریب بچے یہ نصاب پڑھیں گے اور آنے والے وقت میں ملک میں طبقاتی تفریق مزید گہری ہو جائے گی۔ وطنِ عزیز کی سرکاری درس گاہوں میں زیورِ تعلیم سے آراستہ ہونے والے طالب علموں کو ایک منجمد اور خاص نوع کا نصاب پڑھایا جاتا ہے جس کا زمانہ حال کے سیاسی، معاشی، ثقافتی اور معروضی حالات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جب کہ ماضی قریب اور بعید سمیت مخصوص تاریخی حقائق چھپائے جاتے ہیں۔ ہم طبقات میں تقسیم ایک معاشرہ ہیں۔ اشرافیہ کی اولادیں تو امریکہ اور برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانے والا سلیبس پڑھ کر ہم پر حکومت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جب کہ دوسری طرف غریب کا بچہ سہولتوں سے محروم عام سکول کے نصاب سے مستفید ہو کر زیادہ سے زیادہ رعایا ہی بن سکتا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ یکساں نصاب اور نظامِ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس لئے تمام تعلیمی ادارے خواہ سرکاری، نیم سرکاری، پرائیویٹ یا دیگر ہوں وہ سب یکساں و معیاری نصابِ تعلیم کو اپنانے کے لازماً پابند ہوں۔ تمام صوبے اپنے طلباء و طالبات کو قومی یا مقامی نامزد کردہ مستند و معیاری ادارے کی ایک جیسی ٹیکسٹ بک پڑھائیں، پرائیویٹ سکولز بھی انہی کتب سے استفادہ کریں۔ ہر سبجیکٹ کے لئے ایک ہی جامع ٹیکسٹ بک ہو جو ایک لمبے عرصہ کے لئے متعارف کرائی جائے۔ معیاری و جامع درسی کتب، تربیت اساتذہ کا بہترین، آسان، براہِ راست اور کفایت شعاری ذریعہ بھی ہیں۔ یہ رہنمائے اساتذہ کے ساتھ ساتھ رہنما طلباء بھی ثابت ہوں گی یہ کتب دلچسپ، قابلِ فہم، علمی و تحقیقی نوعیت کی ہونا بے حد ضروری ہیں۔ یکساں و معیاری ٹیکسٹ بکس کے علاوہ طالب علموں کو کسی اور قسم کی کتب و لٹریچر کسی کی جانب سے خریدنے کی اجازت نہیں دی جائے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد ہر صوبے نے اپنا اپنا نصابِ تعلیم دینا شروع کر دیا ہے جس سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں بلکہ مستقبل میں اور ہی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اربابِ اختیار کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ نصاب میں کون سی کتاب اور کون سا مواد ہونا چاہئے؟ نصاب سے کون سا مواد خارج ہونا چاہئے؟ یہ اور نصاب سے جڑے ایسے تمام معاملات اور امور کا اختیار صوبوں سے لے کر ایچ ای سی کے سپرد کر دیا جانا چاہئے۔ 

ہمیشہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جن کا نصاب قومی سطح پر ایک یعنی یکساں نصابِ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی زبان میں ہو۔ چند مضامین کے علاوہ باقی تمام مضامین کا یکساں ہونا نہایت ضروری ہے۔ ہمارے سامنے پوری دنیا میں ترقی یافتہ ملکوں کی مثالیں ہیں، جنہوں نے یکساں نصابِ تعلیم کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر تعلیمی میدان میں ترقی کی منزلیں طے کے ہیں۔ یکساں نصاب کے ساتھ زبان کا بھی بڑا اہم کردار رہا ہے۔ ہمیشہ اپنی زبان خصوصاً مادری زبان میں زیادہ اچھے طریقے سے ابلاغ ہوتا ہے ہم انگریزی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ ساری ترقی اسی میں چھپی ہوئی ہے حالانکہ یہ بالکل سو فیصد غلط خیال ہے۔ انگریزی کو بطور اختیاری مضمون پڑھایا جائے جو اس زبان میں دلچسپی لیتا ہو وہ پڑھے لازماً نہ ہو۔ اس وقت 

پرائمری، ثانوی اور کالج کی سطح تک نافذ نصاب میں بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ جب سے پاکستان میں غیر ملکی فنڈنگ نے زور پکڑا ہے پرائمری سطح کے نصاب میں ملکی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر حکومت کو فنڈنگ کرنے والے ممالک اور این جی اوز کی من مرضی کا نصاب طلباء و طالبات اور اساتذہ پر تھوپا جانے کی روایت بہت تیزی سے پروان چڑھی ہے۔ تعلیم کے میدان میں در آنے والی غیر ملکی بدعت کی وجہ سے بہت سے مضامین میں طلباء کی ذہنی استعداد اور صلاحیت کو یکسرنظر انداز کر کے نہایت مشکل اور ثقیل مواد کو نصاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ نصاب کی تشکیل میں چند عوامل کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے یہ کہ ہماری آبادی کا مجموعی شعور کیا ہے؟ کیا مروجہ نصاب طلباء و طالبات کی عمر کے لحاظ سے ان کی ذہنی صلاحیت کے عین مطابق ہے؟ کیا نصاب قومی امنگوں اور ضروریات کے تقاضوں سے 

ہم آہنگ ہے؟ جب تک ہمارے سکولوں، کالجوں کا نصاب طلباء و طالبات کی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق نہیں ہو گا، اس وقت تک نئی نسل کی بہتر انداز میں تربیت کا خواب خواب ہی رہے گا۔

ہمارے ہاں تعلیم کے شعبے اور شرح خواندگی کی اصل صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اگر چہ حکومتی سطح پر اس حوالے سے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن سبھی جانتے ہیں کہ ان میں سے بمشکل آدھے ہی سچ ہوتے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران شرح خواندگی یا تعلیم کا معیار بڑھانے کے جتنے بھی اہداف مقرر کئے گئے ان میں سے شائد ایک بھی پورا نہ ہو سکا جب کہ ہمارے بعد آزاد ہونے والے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں تعلیم کا معیار ہم سے بہتر اور شرح خواندگی زیادہ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیمی شعبے کو عملی طور پر کم اہمیت دی جاتی ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ ماضی میں اس شعبے کو جتنا نظر انداز کیا گیا اب اس کی طرف اتنی ہی زیادہ توجہ دی جائے تا کہ اس شعبے کی ترقی کے لئے جو اہداف مقرر کئے جاتے ہیں وہ پورے ہو سکیں لیکن افسوس ہوتا ہے کہ اس کے برعکس اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ملک و قوم کی ترقی میں گزرنے والا ہر لمحہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس وقت جس برق رفتاری سے دنیا میں ترقی کے مراحل طے کئے جا رہے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے ترقی پذیر ممالک اپنی دوڑ کو تیز کر رہے ہیں، اس موقع پر وقت کم اور کام زیادہ کرنے کا فارمولہ کار آمد رہے گا کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک جن میں خاص طور پر وطنِ عزیز شامل ہے ترقی کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں دن رات محنت بھی کر رہا ہے کہ کسی بھی طرح سے قوم کے قابل اور ذہین عوام کے بل بوتے پر ترقی کی وہ تمام منازل جلد سے جلد طے کر لی جائیں جن کی بنیاد پر ہم سب کو بحیثیتِ قوم ایک ہونے کا دعویٰ ثابت کرنا ہے اور ان تمام بحرانوں سے نکلنا ہے جو ہماری ہی غلطیوں کوتاہیوں کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ انسان نے اپنی تباہی کا بندوبست ہمیشہ سے خود ہی کیا ہے اور مفاد پرستی، جھوٹی انا، جھوٹی سیاست اور اقربا پروری نے ہمارے راستے جدا کر دئیے ہیں۔ مگر ابھی وقت ہمارے ہاتھ میں ہے اور ترقی کی راہیں ہماری منتظر ہیں تاہم ان کو پانے اور ان پر چلنے کے لئے ہمیں اپنی قومی پالیسیوں کو فعال بنانا ہو گا۔ اس تناظر میں تعلیم کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔


ای پیپر