riaz ch columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
22 جنوری 2021 (13:27) 2021-01-22

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سخت اور امتیازی پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کے بنیادی حقوق سختی سے دبا رکھے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مقبوضہ وادی میں اظہار رائے کی آزادی، معلومات تک رسائی اور صحت کی سہولتوں کا شدید فقدان ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے۔ مودی سرکار نے پر امن مظاہروں کو روکنے کی کوشش کی اور مظاہرین کی آواز کو دبانے کے لئے غیر مناسب طاقت کا استعمال کیا جس کے بعدکشمیری نوجوانوں یہاں تک کہ 144 بچوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ہزاروں افراد بغیر کسی مقدمے کے جیلوں میں ہیں۔

 کشمیر کی صورتحال پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور اراکان پارلیمنٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار بھارتی اقلیتوں کی جانب سے ہونے والے مظاہروں کی آواز دبانے کے لئے غیرمناسب طاقت کا استعمال کررہی ہے۔ رکن پارلیمنٹ الیونیا الیمٹسا کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارتی حکومت سے انسانی حقوق کی پامالیوں پر بات کی جائے اور بھارت فوری انسانی حقوق سے متعلق اقدامات کرے۔

 سری نگر میں30 دسمبر2020 کو جعلی مقابلے میںشہیدہونیوالے تین کشمیری نوجوانوں کے لواحقین نے بچوں کے قتل کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔ تین کشمیری نوجوانوں اطہر مشتاق ، اعجاز احمد اور زبیر احمد کو بھارتی فوجیوںنے 30 دسمبر کو سرینگر کے علاقے لاوے پورہ میں ایک جعلی مقابلے میں شہیدکردیا تھا۔تین کشمیری نوجوانوں کے لواحقین نے سرینگر میں احتجاج کیا ہے۔ شہید نوجوان کے اہل خانہ نے 

قابض انتظامیہ سے جعلی مقابلے پر اپنی خاموشی توڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ یا تو وہ ثابت کریں کہ ان کے بچے "عسکریت پسند" تھے یا پھر انکی میتوںکو انہیں واپس کیا جائے۔ اطہر مشتاق کے والد مشتاق وانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس معاملے پر انتظامیہ کی خاموشی پر سوال اٹھایاکہ اطہر کے قتل کو دو ہفتے گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک کسی قسم کی کوئی تحقیقات کرانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ انتظامیہ ہمارے بچوںکو عسکریت پسند قراردینے کا اپنا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔زبیر احمد کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی طرح سے حکام ان کے بیٹے کو "عسکریت پسند" ثابت کردیتے تو ہم یہ مطالبہ نہ کرتے۔تاہم انہوں نے کہاکہ اگر انتظامیہ اس کے خلاف کوئی بھی شواہد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اس لئے اب انہیں انکے بچے کی میت واپس کی جانی چاہیے۔اعجاز احمد کے والد محمد مقبول نے بھی اپنے بیٹے کی میت واپس کئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر ان کے بچے واقعی مجاہد تنظیموںکے کارکن تھے تو انکے خلاف کوئی نہ کوئی مقدمہ ضرور درج ہونا چاہیے تھا تاہم انہوںنے کہاکہ جعلی مقابلے میں شہید کئے گئے تینوں نوجوان بے گناہ تھے اور انہوںنے اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

 5 اگست 2019  کے بعد بھارت نے جموں وکشمیر میں مسلم اکثریتی علاقوں میں سخت اور متعصبانہ پابندیاں عائد کی تھیں۔ نئی میڈیا پالیسی کے ذریعے صحافیوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ بڑی تعداد میں کشمیری کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بغیر کسی الزام کے حراست میں ہیں۔کے پی آئی کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنی عالمی رپورٹ 2021 جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقوں پر سخت اور متعصبانہ پابندیاں عائد کیں۔ جموں وکشمیر میں بے شمار افراد کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا ہے۔ یہ قانون بغیر کسی مقدمے کے دو سال تک حراست کی اجازت دیتا ہے۔ حکومت نے جموں وکشمیر میں ناقدین اور صحافیوں کو بھی روک دیا۔ جون 2020 میںحکومت نے جموں و کشمیر میں ایک نئی میڈیا پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت حکام کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ جعلی خبروں یا ملک دشمن سرگرمیوں کے الزام میں صحافیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ حکومت نے نقادوں، صحافیوں، اور انسانی حقوق کے کارکنوں پر بھی پابندی عائد کردی۔ 5اگست 2019 سے مواصلاتی نظام بند ہے۔ اس صورت حال نے وادی کشمیر میں معاشیات کو بری طرح متاثر کیا۔

 کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے اندازہ لگایا ہے کہ اگست 2019 کے بعد سے احتجاج کو روکنے کے لئے لاک ڈائون میں معیشت کو 4 2.4 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ جس کے لئے کوئی تدارک نہیں کیا گیا۔ مارچ 2020 میں حکومت نے کوویڈ 19 کے پھیلائو پر قابو پانے کے لئے مزید پابندیاں عائد کرنے کے بعد نقصانات کو قریب دگنا کردیا۔ وبائی مرض نے معلومات، مواصلات، تعلیم اور کاروبار کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو انتہائی اہم بنا دیا ہے۔ تاہم جنوری میں بھارتی سپریم کورٹ نے انٹرنیٹ معاملے کا اختیار ایگزیکٹو کو دے دیا۔ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے باوجود بھی آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ بھارتی فوجیوں کے خلاف قانونی کارروائی سے روکتا ہے۔ جولائی میں، فورسز نے ضلع شوپیان میں  تین افراد قتل کرکے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ عسکریت پسند ہیں۔ تاہم یہ دعویٰ جھوٹ نکلا۔ مارے جانے والے راجوی کے مزدور تھے۔ عالمی انسانی حقوق ادارے نے، بھارتی مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں، انسانی حقوق کارکنوں، صحافیوں اور دیگر ناقدین کو ہراساں کرنے، گرفتاریوں، قانونی کارروائی پر بھارتی حکومت کی حکومت کی مذمت کی ہے۔


ای پیپر