umer khan jozvi columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
22 جنوری 2021 (13:23) 2021-01-22

اس وقت ملک میں مہنگائی، غربت اور بیروزگاری سے تنگ ہرشخص وزیراعظم عمران خان اوراس کی حکومت سے جان چھڑانے اورنجات پانے کی دعائیںمانگ رہاہے۔۔کئی توآسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکراپنے رب سے یہاں تک فریاد کر رہے ہیں کہ یااللہ کل نہیں آج ہی ان حکمرانوں سے ہماری جان چھڑادے ۔۔اب سوال یہ ہے کہ اگرسچ میں اس حکومت اورعمران خان سے ان ہاتھ اورجھولیاں پھیلانے والوں کی جان چھوٹ گئی تو پھر کیاہوگا۔۔؟کیاوزیراعظم عمران خان اوراس کی اس تاریخی حکومت سے جان چھوٹنے کے بعدمہنگائی،غربت اوربیروزگاری سمیت ملک وقوم کے یہ دیگر مسائل پھرحل ہوجائیں گے۔۔؟ کیا عمران خان کے جانے سے یہ مصائب ومشکلات ذرہ بھی کوئی کم اورغم والم کے یہ سیاہ بادل ہمیشہ کیلئے چھٹ جائیں گے۔۔؟کیااس حکومت کی رخصتی کے بعدملک میں معیشت کا پہیہ جام اور رکنے کی بجائے آگے دوڑے گا۔۔؟کیاعمران خان کاسایہ اٹھنے کے بعدغریبوں کے یہ دن اور حالات واقعی بدل جائیں گے۔۔؟اس جیسے ایک دونہیں بہت سارے سوالات ایسے ہیں کہ جن کے جوابات ہمارے پاس کیا۔۔؟ وزیراعظم عمران خان سے جان چھڑانے اورنجات پانے کے لئے ہروقت دعائیں مانگنے والوں کے پاس بھی یقینا نہیں ہوں گے۔ اس ملک میں سیاسی محلوں وراہداریوں کے ساتھ مساجد،مدارس،خانقاہوں اوردرگاہوں پر برسر اقتدار حکمرانوں سے نجات کی دعائیں تومانگی جاتی ہیں لیکن سیاسی پنڈتوں سے لیکرسیاسی آستانوں پردعائیں مانگنے والے نیم ملائوں تک کسی کویہ نہیں پتہ ہوتاکہ اقتدارسے اس ’’دولہے‘‘کی رخصتی کے بعدبارات پھر کس کی آئیگی۔۔؟ اگر ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچااورانصاف کی نظروں سے دیکھا جائے توہماری اکثرزندگیاں ایسی ہی دعائوں میں گزر گئیں۔ ہم شائد دنیا کی وہ واحد اورعجیب مخلوق ہے جو آنے والوں کیلئے دعائوں پردعائیں مانگنے کے ساتھ پھرانہی سے جان چھڑانے اورنجات کیلئے بھی نا صرف منتیں مانگتے ہیں بلکہ دیگوں پردیگیں بھی چڑھاتے ہیں۔۔ سترسال سے اس ملک میں یہی کچھ ہورہاہے۔ہاتھ الٹے اورجھولیاں پھیلا پھیلا کرجن کوہم نے بددعائیں دیں ۔۔جن سے جان چھڑانے کیلئے ہم راتوں کوآہ وزاریاں کرتے رہے۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ انہی سیاستدانوں کی کامیابی کے لئے ہم نے ایک دونہیں ہزار بار پھر رب کے حضوردعائیں بھی مانگیں۔۔صدرایوب خان سے لیکرمیاں نوازشریف تک ہم نے کس حکمران اورلیڈرکیلئے منتیں نہیں مانگیں۔۔؟پھراسی صدرایوب سے لیکر نواز شریف اورآصف زرداری تک کس حکمران اورلیڈرسے جان چھڑانے کے لئے ہم نے کالے بکرے ذبح نہیں کئے۔۔؟ آج جس عمران خان کے لئے ہم نے اپنے ہاتھ الٹے 

اورمنہ آسمان کی طرف کرلئے ہیں کل تک اسی عمران خان کے لئے کیا ہمارے یہی الٹے ہاتھ سیدھے اورلبوں پردعائیں ہی دعائیں نہیں تھیں۔۔؟لیکن محض ڈھائی سال میںروایت کے مطابق عمران خان کے لئے ہمارے ہاتھ الٹے اوردعائوں کی بجائے بددعائوں کاسلسلہ شروع ہوگیا۔۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اس حکومت سے اس ملک وقوم کی جان نہ چھوٹے۔ہم توکہتے ہیں کہ کل نہیں آج ہی ایسے حکمرانوں سے ہماری جان چھوٹے مگرسوال یہ ہے کہ ،،یہ نہیں وہ،،اور،،وہ نہیں یہ،،کایہ کھیل آخرکب تک اس ملک میں جاری رہے گا۔۔؟کل تک جس ن لیگ اورپیپلزپارٹی کوچورگروہ کانام دے کران سے پناہ اور نجات کی دعائیں مانگی جاتی تھیں ۔۔جن کوکبھی چور اور کبھی ڈاکو کہا گیا۔۔ کہیںاسی ن لیگ اورپیپلزپارٹی کوپھرسے اقتدارمیں لانے کیلئے عمران خان سے جان چھڑانے کے لئے دعائیں تو نہیں مانگی جا رہیں۔۔؟ کیونکہ عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ہمارے پاس مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی یہ دو ہی آپشن باقی رہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اگر اقتدار میں نہ رہے توپھرسابق صدر آصف علی زرداری کا کوئی جانشین ملک و قوم پرمسلط ہو گا یا پھر سابق وزیراعظم نوازشریف کاکوئی وارث بادشاہی کے مزے لوٹے گا۔۔ کہیں ہم پھرسے نوازشریف اور آصف علی زرداری کے وارثین کو اقتدار میں لانے کیلئے گنڈے اور تعویز تو نہیں  کر رہے۔۔؟ عمرانی حکومت سے نجات کیلئے دعا مانگنے سے پہلے ایک منٹ کے لئے ہمیں ٹھنڈے دل ودماغ سے اس بارے میں ضرور سوچنا چاہئے۔۔ خشک روٹی کو کھانے سے وہ لوگ انکارکرتے ہیں جن کے پاس بریانی کی کوئی پلیٹ ہو۔۔ کیا ہمارے پاس عمران خان سے بہترکوئی آپشن ہے۔۔؟ ایک منٹ کیلئے فرض کرلیتے ہیں کہ کسی نے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کاتختہ الٹ دیا۔۔ یا عمران خان نے اسمبلیاں تحلیل کیں ۔۔ یا پھر کپتان نے وزرات عظمیٰ سے استعفیٰ دے کر ہماری جان چھوڑ ہی دی۔۔ پھرآگے کیا ہو گا۔۔؟ کیاعمران خان کے اقتدارسے اترنے کے بعدکسی کسان کابیٹاملک کاوزیراعظم بن جائے گا۔۔؟کیاکسی مزدور۔۔ کسی ریڑھی بان۔۔کسی سبزی فروش۔۔کسی مستری۔۔کسی چائے اورچھولے بیچنے والے غریب کویااس کے کسی بیٹے کواقتدارکامالک بنادیاجائے گا۔۔؟کیاعمران خان کے ہٹنے سے کسی مسجدکے امام اورکسی مدرسے کے قاری و مولانا کو ملک وقوم کارہبرورہنماء اورامیرالمومنین مان لیاجائے گا۔۔؟کیاپی ٹی آئی حکومت ختم ہونے کے بعدسترسال سے اس ملک اور قوم کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے جاگیردار۔۔ سرمایہ دار۔۔ خان۔۔ نواب۔۔ چودھری۔۔ رئیس۔۔ سردار اور وڈیرے پھرایم این اے اور ایم پی اے نہیں بنیں گے۔۔؟ کیا نئی حکومت میں پھر چوروں کو وزیر اور مشیر نہیں بنایا جائے گا۔۔؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات اس ملک کے بچے بچے کومعلوم ہیں۔۔سرسے پکڑو یا پائوں سے ۔۔بات ایک ہی ہے۔۔خان گئے تو کونسا غریب اقتدارمیں آجائے گا۔۔؟یابلاول آئیں گے یامریم نوازآئیں گی۔۔ بالفرض یہ دونوں نہ بھی آئے تو شوکت عزیزکی طرح کوئی امپورٹڈ اور ایکسپورٹ کی مد میں آ جائے گا یا لایا جائے گا۔۔ لیکن یہ بات کنفرم سوفیصدکنفرم ہے کہ سترسال میں کسی غریب کاکوئی بیٹانہ اقتدارمیں آیااورنہ ہی آئندہ سترسال تک کسی کسان۔۔ مزدور۔۔ ریڑھی بان۔۔ سبزی فروش۔۔ مستری اورموچی کاکوئی بیٹااقتدارمیں آئے گا۔۔وزرات عظمیٰ کی کرسی پرعمران خان ہوں۔۔نوازشریف ہوں۔۔آصف زرداری ہوں یاپھربلاول اورمریم ۔۔ہمارے لئے یہ سب برابراورسارے ایک جیسے ہی ہیں۔۔یہ سب ہمارے آزمائے ہوئے ہیں۔۔بس چلنے پران میں سے ہرایک نے اپنی اصلیت ہمیں ضرور دکھائی۔۔ کسی نے ہمیں چوکرکھلائے توکسی نے جانوروں کوکھلایاجانے والا آٹاہمیں تھمایا۔۔کسی نے چینی کیلئے ہمیں لائنوں میں لگایا تو کسی نے سستاراشن کے پیچھے دوڑایا۔۔کسی نے روٹی ۔۔کپڑا اور مکان کے نام پر ہمیں بہکایا تو کسی نے لنگر خانوں اورمسافرخانوں کے ذریعے ہمارے دلوں کو بہلایا۔۔ چھوڑا ہمیں کسی نے نہیں۔۔ جتناجس کاوس اوربس چلا اتنا اس نے ہمیں رلایااورتڑپایا۔۔سترسال پہلے بھی غریب رو رہا تھا اور آج بھی غریب رو رہا ہے۔۔ نوازشریف اور زرداری کی حکومت میں بھی غریب کل کی فکردل میں لئے سوتاتھااورآج اس نام نہادریاست مدینہ کے امیرالمومنین کے دورمیں بھی غریب کل کی فکرلئے شب گزاررہاہے۔۔اس ملک میں نہ کل غریب کاکوئی خیرخواہ تھااورنہ آج غریب کاکوئی ہمدرد ہے۔۔ نوازشریف ہے۔۔زرداری ہے۔۔ عمران خان ہے۔۔مولانافضل الرحمن ہے۔۔سراج الحق ہے یاپھربلاول اور مریم۔۔ ان سب کواپنی پڑی ہوئی ہے۔۔نہ کل ان کوکسی غریب کی کوئی فکرتھی اورنہ آج ان کوکسی غریب اورمزدورکاکوئی خیال ہے۔۔یہ سب ایک ہی باغ اورکھیت کی مولیاں ہیں۔۔مسنداقتدارپران کے چہرے اورشکلیں بدلنے سے کچھ نہیں ہو گا۔۔غریبوں کواپناآج اورکل بدلنے کے لئے اس ملک کایہ فرسودہ اورطبقاتی نظام بدلناہوگا۔۔جب تک ملک میں یہ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام ہے تب تک اس ملک کاوزیراعظم اور حکمران عمران خان ہوں یا نواز شریف۔۔ زرداری ہوں یا پھر بلاول اور مریم۔۔ غریبوں کے یہ حالات اسی طرح جوں کے توں رہیں گے کیونکہ غریبوں کے حالات بدلنے کیلئے عمران خان۔۔ نوازشریف۔۔ زرداری ۔۔فضل الرحمن ۔۔سراج الحق ۔۔ بلاول اورمریم کے چہرے نہیں بلکہ اس ملک کایہ پورانظام بدلنا ہو گا۔


ای پیپر