excise,department,number plates,millions,delayed
22 جنوری 2021 (11:30) 2021-01-22

 لاہور ( سہیل عباس بلوچ ) محکمہ ایکسائز میں گاڑیوں موٹر سائیکلوں کی نمبرز پلیٹس کا بحران شدت اختیار کر گیا۔26ماہ میں 30 لاکھ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبرز پلیٹس کا التواء کا شکار ہو گئیں۔ 

ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے وہیکلز مالکان سے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبرز  پلیٹس کی فیسوں کی مد میں 3 ارب 60 کروڑ روپے ہڑپ کر لیا ۔ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن پر نمبرز پلیٹس کی فیسوں کی دھڑ دھڑ فیسیں وصول کی جا رہیں ہیں۔ نمبر پلیٹ ڈھائی سال سے زائد وقت گزرنے پر بھی وہیکلز مالکان کو نہیں مل رہی ہیں۔فیس وصول کی جا رہی ہے ۔ اندھیر نگری چوپٹ راج بزادر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، مارچ اپریل تک نمبرز پلیٹس شہریوں کو ملنے کا امکان ہے جبکہ رکشے اور موٹر سائیکلز کی نمبرز پلیٹس کی قیمت میں اضافہ کیا جائے گا ۔ 

موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کی قیمت میں 50 روپے اور رکشے کی نمبرز پلیٹس کی قیمت میں 250 روپے تک اصافہ کیا جائے گا۔موٹر سائیکل کی نمبرز پلیٹس کی قیمت 750 سے بڑھا کر 800 جبکہ رکشے کی نمبرز پلیٹس کی قیمت بڑھنے سے 1000 فیس ہو گی۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب نے 29 اکتوبر 2020 کو نیشنل ریڈیو اینڈ  ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن سے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدہ کر رکھا ہے۔

معاہدہ کے مطابق این آر ٹی سی محکمہ ایکسائز کو ایک سال میں 50 لاکھ 40 ہزار نمبرز پلیٹس بنا کر دے گی۔ محکمہ ایکسائز نے نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن ڈیپارٹمنٹ سے ایک سال کا معاہدہ کیا ہے۔نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن نے نمبرز پلیٹس تیار کرنے کیلئے سے لاہور میں آفس قائم کیا ہے اور نمبرز پیلٹس مارچ،اپریل میں نمبرز پلیٹس محکمہ ایکسائز  کو فراہم کرے گا۔

نمبرز پلیٹس کیلئے شہری ایکسائز دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک گے لیکن تاحال وہیکلز مالکان نمبرز پلیٹس سے محروم ہیں۔پنجاب حکومت کی تاریخی  ناہلی ہے ڈھائی سالوں سے شہریوں کو فیس ادا کرنے کے باجود نمبرز پلیٹس نا مل سکیں ہیں۔دعوے وعدوں کے باجود محکمہ ایکسائز نمبر پلیٹس کی فیسوں کی مد میں  پنجاب کے عوام سے پیسے بٹورنے میں مصروف ہے۔


ای پیپر