ہم اور ہماری ترجیحات
22 جنوری 2021 2021-01-22

دکھ کی بات ہے کہ ہم آج تک اپنی قومی ترجیحات کا تعین نہیں کر پائے۔

ہر روز کوئی نہ کوئی خبر ایسی ضرور مل جاتی ہے جس سے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ معاملات قومی ترجیحات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ترجیحات تسلسل کا تقاضا کرتی ہیں۔ یعنی ایک حکومت گھر چلی جائے تو آنے والی حکومت کام کو وہیں سے شروع کر دے جہاں جانے والی حکومت چھوڑ گئی تھی۔ ایسا صرف اسی وقت ممکن ہے جب کسی ترجیح پر بڑی حد تک قومی اتفاق ہو۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہمارا ایٹمی پروگرام ہے۔ اس کا آغاز ستر کی دہائی میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا۔ بھٹو کو پھانسی چڑھا دینے والے ضیا الحق نے بھی اسے جاری رکھا۔ ضیا الحق کی سب سے بڑی سیاسی دشمن پیپلز پارٹی 1988 میں برسر اقتدار آئی تو اس نے بھی اس پروگرام کو جاری رکھا۔ نواز شریف وزیر اعظم بنے تو بھی یہ پروگرام کسی تعطل کے بغیر جاری رہا۔ یہاں تک کہ 1998 میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان نے اپنی جوہری صلاحیت کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور ایٹمی ممالک کی صف میں شامل ہو گیا۔

ایٹمی پروگرام کا تعلق قومی دفاع سے تھا اور قومی دفاع پر قومی اتفاق پایا جاتا ہے۔ بعض نام نہاد روشن خیالوں اور ترقی پسندوں کو چھوڑ کر پاکستان کے عوام کی بہت بھاری تعداد اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ہماری سرحدوں کو مضبوط ہونا چاہیے۔ ہمارا پالا بھارت جیسے دشمن سے پڑا ہے جو ہر وقت ہماری سلامتی کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ ہم سے تین جنگیں بھی لڑ چکا ہے اور ہمارے ملک کو دو لخت بھی کر چکا ہے۔ ان حالات میں ہم اپنے دفاع کی طرف سے غافل نہیں ہو سکتے۔ اپنے وسائل کا بڑا حصہ دفاع کیلئے مخصوص رکھنا، ہماری مجبوری ہے۔ بس غالبا یہی وہ ایک ترجیح ہے جس پر قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ وہ بھی اپنی سلامتی اور اپنے تحفظ کی خا طر ۔ 

اس کے سوا شاید ہی ہمارا کوئی قومی مقصد، قومی ہدف یا قومی نظریہ ہے۔ تعلیم جیسی بنیادی اہمیت کے حامل شعبے پر بھی ہماری کوئی ایسی پالیسی نہیں جس پر آتی جاتی ساری حکومتیں کار بند ہوں۔ یاد نہیں کتنی پالیسیاں بن چکی ہیں۔ ابھی تک یہ بحث بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچی کہ ذریعہ تعلیم قومی زبان ہونی چاہیے یا انگریزی۔ کیا بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم دینی چاہیے یا اردو، انگریزی میں۔ ذریعہ تعلیم سے آگے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو کیا پڑھایا جائے؟ مختلف سطح کا نصاب کیا ہو؟ تیسرا متعلقہ سوال یہ ہے کہ اس نصاب کے پیش نظر ہمارے اہداف کیا ہوں؟ کیا ہمیں انجینئروں کی ضرورت ہے یا ڈاکٹروں کی؟ کیا ہمیں سائنسدان چاہییں یا دفتری بابو؟ کیا ہمیں ہنر مند کارکنوں کی ضرورت ہے یا اساتذہ کی؟ سو ایک بے ہنگم ریلا بہتا رہتا ہے جس کی ہماری ضرورت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ معاشیات کے اس عام سے اصول کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ طلب اور رسد میں توازن رکھا جائے۔ ہم یہ بھی فیصلہ نہیں کر سکے کہ تعلیم کو قومی آمدنی کا کتنا حصہ دیا جائے۔ آج کل بھی یکساں نصاب یا یکساں نظام تعلیم کے اعلانات ہوتے رہتے ہیں لیکن حا صل حصول کچھ بھی نہیں۔

بے شمار دوسرے شعبے بھی ہماری ترجیحات سے خارج ہیں۔ صحت، انفرا سٹرکچر، آبی ذخائر، صنعت وحرفت، زراعت، گھریلو دستکاری، سیاحت، سائنس، ٹیکنالوجی، خواتین کی فلاح و بہبود، بنیادی حقوق، سستا اور فوری انصاف، صاف پانی کی فراہمی، غربت کا خاتمہ، غرض درجنوں شعبے صرف زبانی کلامی نعروں تک محدود ہیں۔ تازہ تریں نمونہ کرونا ویکسین کی فراہمی کاہے۔ میں نے گزشتہ دو کالموں میں تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ ہم اس ہنگامی ضرورت کے بارے میں کس قدر سستی اور غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کا تعلق پاکستانیوں کی زندگی سے ہے۔ ہم اس پر تو فخر کرتے ہیں کہ نریندر مودی کے مقابلے میں ہم نے کرونا کے حوالے سے بہتر حکمت عملی اختیار کی جس کے بہتر نتائج نکلے۔لیکن آج جب کہ بھارت ویکسین بنانے اور دنیا بھر کو فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، ہم اس کا ذکر بھی نہیں کرتے اور کوئی کرئے تو منہ دوسری طرف موڑ لیتے ہیں۔

سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وزیروں ، مشیروں اور معاونین کے بیانات ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ذمہ دار عہدیدار، صحت کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان ہیں۔ میڈیا کی طرف سے شدید دباو کے بعد ڈاکٹر صاحب نے بالاخر بدھ کو بتایا کہ مارچ میں ہم دس لاکھ خوراکیں حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دو کمپنیوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔امید ہے کہ 31 مارچ تک یہ ویکسین میسر ہو گی۔ یہ ویکسین صرف 18 سال کی عمر سے اوپر کے لوگوں کیلئے ہوگی۔ پہلے مرحلے میں صحت و طب سے وابستہ افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔ اس کے بعد 65 سال سے زائد عمر کے لوگوں کی باری آئے گی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ہم نے آج ہی اس سلسلے میں بر طانوی سفیر سے ملاقات کی ہے جس کے اچھے نتائج کی توقع ہے۔

اس پہ کیا تبصرہ کیا جائے۔ کرونا وبا کو اب ایک سال ہونے کو ہے۔ امریکہ نازاں ہے کہ اس نے صرف نو ماہ کے ریکارڈ عرصے میں ویکسین تیار کر لی۔ رخصت ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی آخری تقریر میں بطور خاص اپنے اس کارنامے کا ذکر کیا۔ ہم کیا کہیں کہ آخر اب تک ہم بات چیت ہی کے مرحلے سے کیوں نہیں نکل سکے۔ جس دن ڈاکٹر فیصل سلطان قوم کو یہ خوشخبری سنا رہے تھے کہ مارچ کے آخر تک ہمیں پہلی کھیپ ملنے کی توقع ہے، اسی دن بھارت نے اعلان کیا کہ© آج (20 جنوری) سے ہم نے اپنے ہمسایوں کو ویکسین کی فراہمی شروع کر دی ہے۔ ان ممالک میں بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ، میانمر، ماریشئیس اور افغانستان شامل ہیں۔ بھارت کے ہمسایوں کی فہرست سے صرف دو ممالک خارج ہیں۔ ایک چین ، دوسرا پاکستان۔ چین اس لئے کہ اسے بھارت کی محتاجی نہیں اور پاکستان اس لئے کہ وہ اپنے دشمن کا کوئی احسان نہیں لینا چاہتا۔ مطلب یہ کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک بہت جلد اپنے عوام کی کرونا ویکسین شروع کر دینگے۔ صرف ایک ملک رہ جائے گا۔ ایٹمی صلاحیت کا حامل اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ 

ہماری صورتحال کا اندازہ ان اعداد و شمار سے بھی لگائیے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ہر دس لاکھ میں سے آٹھ لاکھ افراد کے کرونا ٹیسٹ کئے۔ بھارت اور برازیل نے ہر دس لاکھ میں سے ایک لاکھ تیس ہزار افراد کے ٹیسٹ لئے۔ جبکہ پاکستان نے ہر دس لاکھ میں سے صرف تیس ہزار کے ٹیسٹ کئے۔ دنیا کے ممالک کی فہرست میں ہم 156 ویں نمبر پر ہیں۔

دکھ اور افسوس کے سوا کیا کہا اور کیا جا سکتا ہے۔ اللہ پاک ہماری حالت پر رحم فرمائے۔ زندگی اور موت سے تعلق رکھنے والے مسئلے کے ساتھ ہمارا رویہ یہ ہے۔ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ ان کے تصور سے بھی دل ڈوبنے لگتا ہے۔ ان ترجیحات کا ذکر پھر کسی دن سہی۔


ای پیپر