اوراب آڑھتی مافیا ۔۔؟
22 جنوری 2021 2021-01-22

یوتھیے نے’ پامرا ایکٹ ‘ بارے کہا، دیکھنا ،اب بنے گا نیا پاکستان، ہم آڑھتی مافیا ختم کریں گے ، اجناس کی پیداوار سے فروخت تک کاجدید کمپیوٹرائزڈ نظام لائیں گے، مڈل مین کی اجارہ داری ختم ہو گی تو کسان کو اجناس کی پوری قیمت ملے گی اور عوام کو کم قیمت پر براہ راست معیاری اشیا۔ ہم سبزیوں اور پھلوں کی منڈیوں میں انقلاب برپا کر دیں گے۔

میں نے یہ دعوے سنے تو افسوس کا اظہار کیا کہ آپ لوگ ابھی تک کنٹینر سے نہیں اترے،مخالف سیاسی جماعتوں کے حوالے سے بھی اور عوام کو دکھائے گئے سبز باغوں کے حوالے سے بھی۔ میں پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کی بات نہیں کرتا مگرسبزیاں اور پھل تو شہریوں کی بنیادی ضروریات ہیں۔ حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے کہ مال لانے والے ہر ٹرک پر ٹیکس دو روپے کوئینٹل سے بڑھا کر ٹرک کے مال کی مالیت کا اعشاریہ پچاس فیصد کر دیا جائے یعنی جو ٹرک پہلے دو سو روپے ٹیکس دے رہا تھا وہ اگر دس لاکھ کا مال لایا ہے تو ٹیکس پانچ ہزار روپے ہو گا اوربیس لاکھ پر دس ہزار روپے۔ اب سوال یہ ہے کہ ٹرک نے مارکیٹ میں داخل ہوتے ہوئے کمیٹی کے نمائندے کو ٹیکس دینا ہے اور اس امر کا فیصلہ کون کرے گا کہ ٹرک میں لدے ہوئے مال کی مالیت کیا ہے۔ یہ فیصلہ اگرمارکیٹ کمیٹی کے ملازم نے ہی کرنا ہے تو پھر کرپشن کا ایک نیا دروازہ کھل جائے گا اور اگر مکمل ٹیکس لیا جائے تو یہ ٹیکس کسانوں اور عوام پر مہنگائی بم کی طرح پھٹے گا۔دنیا بھر میںاصول ہے کہ کوئی بھی قانون بناتے ہوئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جاتی ہے مگر یہ پامرا ایکٹ کہاں سے آیا ہے کہ متعلقہ بیوروکریٹ تک اس سے واقف نہیں۔ آپ مارکیٹ میں جائیں اور وہاں انجمن آڑھتیان کے رہنماوں چودھری محمد اشرف، حاجی محمد امین بھٹی،میاں فیصل مجید،محمدرمضان، محمد شبیر اور صدام سمیت کسی سے بھی پوچھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے اس ایکٹ کو تشکیل دیتے ہوئے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

مجھ سے کہا گیا کہ تم آڑھتیوں کا دفاع کرنا چاہتے ہو حالانکہ وہ ایک مافیا ہیں، میں نے کہا کہ میں اپنے ملک میں ہر اس نظام کا دفاع کرنا چاہتا ہوں جو روزگار اور سہولت دے رہا ہے اور اس روزگار اور سہولت کو کتابی باتیں کرنے والے جعلی فلاسفروں سے خطرہ ہے۔ پی ٹی آئی حکومت آڑھتیوں کا نظام ختم کرنا چاہتی ہے تو پہلے ایک کمپیوٹرائزڈ ماڈل منڈی بنائے اور اسے اپنی تمام تر طاقت اور وسائل کے ساتھ چلا کر دکھائے۔ جب وہ چل جائے تو صدیوں سے آزمودہ پرانا نظام ختم کر دے مگر اس سے پہلے ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ ممی ڈیڈی محفلوں اور کنٹینروں پر ہی کیا جا سکتا ہے کہ آڑھتی ایک مافیا ہے جبکہ اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ آڑھتی سبزیاں اگانے والے کسان اور دکاندار کے درمیان رابطہ ہے ۔یہ باتیں محض کتابی ہیں کہ کسان خود اجناس لاکر عام مارکیٹ میں بیچے کہ کسان کے پاس نہ اس کی فرصت ہے اور نہ ہی اہلیت، زراعت ایک مختلف شے ہے اور تجارت ایک مختلف۔ یہ اسی طرح ہے جیسے سابق دور میں محکمہ مال کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا گیا مگر بڑی بڑی باتیں کرنے والی پی ٹی آئی حکومت نے محکمہ مال میں پٹواری بحال کر دئیے حالانکہ انصافیے، نواز لیگ والوں کو پٹواری کہتے تھے۔ حکومت کی لائی ہوئی جدت کایہ حال ہے کہ گنے کے کاشتکاروںکو بنک کے ذریعے ادائیگی لازم کرنے کے قانون نے مڈل مین کی چاندی کردی ہے کیونکہ بہت سارے کسان وصولی کے لئے اس جھنجھٹ میں پڑنا ہی نہیں چاہتے۔

میںمانتاہوںکہ بہت سارے آڑھتیوں کا رویہ مناسب نہیں ہے، وہ سواتین فیصد کی بجائے سات فیصد تک کمیشن لیتے ہیں مگر دوسری طرف یہ امر بھی حقیقت ہے کہ پھلوں ، سبزیوں اورڈرائی فروٹس سمیت تمام اشیا میں آڑھتی پل کاکردارادا کرتاہے اور کسی گاڑی کے ٹائی راڈ جیسا۔ آڑھتی کسان کا دوست ہوتا ہے کہ کسان کو بیج کی خریداری سے بیٹی کی شادی تک کہیں بھی پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تویہ قرض اسے کوئی رشتے دار یا حکومت نہیں آڑھتی ہی دیتا ہے، آڑھتی کسانوںکے بچوں کی شادیوں میں چیف گیسٹ ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے پیسوں سے شادی ہو رہی ہوتی ہے۔ دوسرے آڑھتی صرف کسان سے ہی فصل نہیں خریدتا کہ مقامی کسان تو چند فصلیں ہی اگاتا ہے وہ شہریوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ادرک اورلہسن تک امپورٹ کرتا ہے۔ جب کوئی بھی مقامی فصل ختم ہوتی ہے یا خراب ہوتی ہے تو وہ دوسرے صوبوں ، علاقوں اورملکوں سے مال منگواتا ہے اور اگر آپ اس امپورٹر، ایکسپورٹر کو ختم کر دیں گے تو ایک نیا بحران پیدا کر دیں گے جیسے ادرک ہے جو پاکستان میں پیدا ہی نہیں ہوتا،چین اور تھائی لینڈ سے امپورٹ ہوتا ہے تو وہ کسان نہیں کرتا۔ برسبیل تذکرہ، ابھی ادرک مہنگا ہونے کا شورمچا ہوا تھا تو حکومت ایک کنٹینر پر بائیس لاکھ روپے ڈیوٹی وصول کر رہی تھی یعنی اگر ادرک مہنگا تھا تو اس کی ذمے دار حکومت بھی تھی جیسے اب وہ بھاری ٹیکس لگا کر تمام سبزیاں اور پھل مہنگے کرنے لگی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے نئی آڑھت کی لائسنس فیس پندرہ سو روپوں سے بڑھا کے تیس ہزار روپے کر دی ہے جبکہ سبزی اور پھل منڈیوں میں گندگی کے ڈھیر ہیں،سیوریج بند ہیں، پینے کے پانی کے پائپ تک نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے لاہور کی منڈیوںمیں جو انقلاب برپا کیا ہے اس کی گواہی بادامی باغ کی مرکزی منڈی میں جانے اور کاروبار کرنے والے دے سکتے ہیں۔ وہاں پی ٹی آئی کا انقلاب مبینہ طور پرمہینے کا چالیس ، پچاس لاکھ روپے چھاپ رہا ہے اور ایک آڑھتی سے پھڑئیے اور چھابڑی والے تک کو اس انقلاب کا بھتہ دینا پڑ رہا ہے۔ سبزی منڈی کا بھتہ مافیا نیب سے پولیس تک کے لئے حلوہ کیس ہے مگر وہ اپوزیشن کے پہاڑ سر کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔

جیسے تمام ڈاکٹر،وکیل،صحافی ، بیوروکریٹ اور پولیس والے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح تمام آڑھتی ہوتے ہیں نہ سب اچھے نہ سب برے مگر آپ ان کی اہمیت اورکردار سے انکار نہیں کرسکتے اور یہ بھی دیوانے کا خواب ہے کہ کسی کمپیوٹر سے ان کا متبادل لایا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی اگر ایک جمہوری جماعت ہے تو اسے سب کی بات سننی چاہئے اور پامر اایکٹ کو نافذ کرنے سے پہلے اس میں زمینی حقائق کے مطابق ترامیم کرنی چاہئیں اور تمام سٹیک ہولڈرز کواس میں نمائندگی دینی چاہئے ورنہ اگر نوٹیفیکیشن کے مطابق اعشاریہ پچاس فیصد ٹیکس کا نفاذ ہو گیا تو پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا اور اس نئی مہنگائی کی ذمہ داربراہ راست حکومت ہو گی۔ انجمن آڑھتیان نے اس ٹیکس کے نفاذ پر پنجاب بھر کی تمام منڈیا ں بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے کہ یہ ٹیکس پنجاب دشمنی بھی ہے کہ سندھ، کے پی کے، بلوچستان ہی نہیں بلکہ اسلام آبادمیں بھی یہ ٹیکس نہیں ہے یوں اس ٹیکس کا نفاذ پنجاب کی منڈیاں ویران اورکاروبار تباہ بھی کرسکتا ہے۔ آڑھتیوں کومافیا کانام دے کر یا مڈل مین کے نام پر پروپیگنڈہ کر کے آپ ممی ڈیڈی کلاس کو بے وقوف بنا سکتے ہیں مگر زمینی حقائق نہیں بدل سکتے۔ میں آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے اصلاحات کے نام پر عالمی امداد اور قرض سے کمیشن کی ہوس میں پیش رفت جاری رکھی اوریوٹرن نہ لیا تو دیوار سے ٹکر ماریں گے ۔یہ ٹکر اجناس کی فراہمی کا پورا نظام تباہ کر دے گی۔


ای پیپر