photo by facebook official page

پاکستان اب کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا: وزیراعظم عمران خان
22 جنوری 2020 (14:33) 2020-01-22

ڈیووس : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان جنگ کے باعث کلاشنکوف اورمنشیات کلچرپروان چڑھا جس نے پاکستانی معاشرے کو تباہ کردیا،اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

ڈیووس میں پاکستان سٹریٹجی ڈائیلاگ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے باعث ہزاروں جانوں کا نقصان ہوا، اس  جنگ میں کامیابی کے بعد ملکی معیشت کی بہتری اولین ترجیح ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکا کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے، افغانستان میں امن سے وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی ممکن ہوگی، سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لئے سرگرم کردار ادا کیا ہے، حکومت معیشت کو مضبوط بنانے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے .

ہم نے کرنسی کو مستحکم کیا اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 75 فیصد کمی کی ،غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات دی جا رہی ہیں، پاکستان کی سر زمین کئی قدیم تہذہبوں کا مسکن ہے، سیاحت کو فروغ دے کر ملکی معیشت کو ترقی دی جا سکتی ہے، پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر پاکستان سٹریٹیجی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغان جنگ کے باعث ہمارے معاشرے میں کلاشنکوف کا کلچر پیداہوا، پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکا کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے ۔ افغانستان میں قیام امن سے پاکستان کی وسط ایشیاءتک رسائی ممکن ہوگی۔

پاکستانی قوم نے دہشت گری کے خلاف جنگ میں 70ہزار جانوں کی قربان دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن کے قیام کا سب سے زیادہ فائدہ سیاحت کے شعبہ میں ہے کیونکہ پاکستان کی سر زمین کئی قدیم تہذیبوں کا مسکن ہے اور پاکستان میں کئی ایسے سیاحتی مقامات ہیں جو دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ سیاست کو فروغ دے کر ملکی معشیت کو ترقی دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ 60ءکی دہائی میں پاکستانی معیشت سب سے تیز ترقی کرنے والی معیشت تھی جبکہ 70ءکی دہائی میں بہت سے اداروں کو قومیائے جانے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشدگی کم کرانے کے لئے اپنا کردار اد اکیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ سعودی عرب اور ایران سے تعلقات مزید مضبوط بنائیں ۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہم نے اپنی کرنسی کومستحکم کرنے اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو کم کرنے پر صرف کیا اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 75 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی اور صنعتی شعبے کی ترقی کے لئے اقداما ت کئے جا رہے ہیں اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے غیر ملکی کمپنیوں کو پرکشش مراعات دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تانبے ،سونے اور دیگر معدنیات کے وسیع ذخائر ہیں جن کو استعمال میں لانے کے لئے بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔


ای پیپر