آٹے کابحران کہاں ہے؟
22 جنوری 2020 2020-01-22

ہر طرف شو ر ہے کہ آٹا غائب ہو گیا ہے اور اگر مل رہا ہے تو چالیس روپے کلو والا ستر روپے میں بیچا جا رہا ہے مگر میرا سوال یہ ہے کہ آٹے کا بحران کہا ں ہے جب حکومت کی طرف سے آٹے کے ٹرک شہر کے مختلف چوکوںمیں کھڑے کئے جا رہے ہیں ، سات سو نوے روپے میں آٹے کا تھیلا فراہم کیا جار ہا ہے مگر کوئی لینے والا نہیں ہے۔ میں نے پوچھا، لینے والے کیوں نہیں تو ایک نے جواب دیاکہ حکومت نے ٹرک ایسی جگہ کھڑے کئے ہیں جہاں سے عوام کا گزر نہیں ہوتا جبکہ میرا کہنا ہے کہ اگر واقعی آٹے کا بحران ہو اور آپ دریائے راوی کے بیچ میں بھی ٹرک کھڑا کر دیں تو لوگ لینے پہنچ جائیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی کہتے ہیں کہ نہ گندم کا کوئی بحران ہے اور نہ ہی آٹے کا، وہ تو ایک قدم آگے بڑھ کے یہ بھی کہتے ہیں کہ پنجاب روزانہ پانچ ہزار ٹن گندم خیبرپختونخوا کودے گا یعنی پنجاب کے پاس اتنی وافر گندم موجود ہے کہ وہ دوسرے صوبے کو دے سکتا ہے ۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے سربراہ عاصم رضا کا بھی یہی کہنا ہے کہ انہوں نے آٹے کے بیس کلو کے تھیلے کے نرخ نہیں بڑھائے جبکہ دوسری طرف کچھ روز پہلے ایک اشتہار شائع ہوا تھا جس میں فلور ملز ایسوسی ایشن نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے بیس کلوآٹے کے تھیلے کی قیمت میں تین روپے یعنی فی کلو پندرہ پیسے کی عظیم الشان کمی کی تھی اور آٹے کے نرخ چالیس روپے چالیس پیسے سے چالیس روپے پچیس پیسے کر دئیے تھے۔

میرے لئے یہ معاملہ واقعی تحقیق طلب تھا کہ کیا واقعی شہر اور صوبے میں آٹے کا کوئی بحران موجود ہے۔ میں نے ایک تندور کم ہوٹل کے اندر جا کر دیکھا تو بیس اور چالیس کلو والے آٹے کے پچاس سے زائد تھیلے دیوار کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ میں نے آٹے کے بحران کے پیش نظر ہوٹل والے سے پوچھا کہ سادہ روٹی کتنے کی دے رہے ہو، جواب ملا سات روپے کی یعنی سب کچھ معمول کے مطابق ہی تھا۔ میں نے مزید پوچھا کہ کیا آٹا مل رہا ہے توجواب ملا نہیں مل رہا۔ میں نے آٹے کی بوریوں کی طرف اشارہ کیا تو بتایا گیا کہ وہ چودہ برسوں سے جس فلورملز سے آٹا خرید رہے ہیں اب اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آٹا لازمی طور پر دے کہ وہ اس کے پرانے گاہک ہیں ورنہ نہیں مل رہا۔ میں نے ایک بڑے گراسری سٹور کے مالک سے پوچھا کہ کیا آٹا مل رہا ہے تو جواب ملا کہ پہلے مل رہا تھا اب نہیں آ رہا۔ میں نے دکان کے باہر لگے ہوئے ڈی سی او کے سبز رنگ کے پوسٹر بارے پوچھا جس پر لکھا تھا کہ اس دکان پر سرکاری نرخوں پر آٹا موجود ہے تو جواب ملا کہ سپلائی سفارش کے بعدمل رہی ہے، جہاں ہماری روزانہ فروخت پانچ سو تھیلوں کی تھی وہاں دو ، اڑھائی سو مل رہے ہیں۔

اب صورتحا ل واضح ہو رہی تھی کہ پنجاب جس کے پاس اتنی گندم موجود تھی کہ اس کے خراب ہونے کا اندیشہ ظاہرکیا جا رہا تھا، اسے سستے داموں ایکسپورٹ کر کے سرکاری نقصان کو کم کرنے کی باتیں کی جا رہی تھیں ، پانچ چھ لاکھ ٹن مرغیوں کو ڈالی جا رہی تھی تومحض چالیس ہزار ٹن افغانستان کو دینے سے بحران پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ جناب بلاول بھٹو زرداری نے یہ بیان دے کر اپنی صوبائی حکومت کی ناکامی کو وفاقی حکومت کے سر پر تھوپنے کی کوشش کی ہے۔غور کیجئے، جب تمام سرکاری عمائدین کہہ رہے ہیں کہ گندم موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ گندم واقعی موجود ہے مگر دوسری طرف آٹے کی سپلائی روکی جا رہی ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیںاور نہ ہی ملین ڈالر کوئسچن ہے سپلائی کون روک رہا ہے اور کیوں روکی جا رہی ہے۔ یہ کام فلور ملز ایسوسی ایشن کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے اور بحران کا شور بھی میڈیا کی مدد کے بغیر نہیں مچایا جا سکتا۔ آٹے کا بحران کسی حد تک سندھ میں ضرور موجود ہے کہ وہاںگندم کی خریداری میں کوتاہی بیان کی جا رہی ہے اور چونکہ بہت سارے میڈیا ہاو¿سز کراچی سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا سندھ کا معاملہ پورے ملک تک پھیلا دیا گیا ہے ۔ پنجاب کا حصہ اس بحران میں صرف اتنا ہے کہ چکی مالکان نے آٹا ساٹھ روپے سے ستر روپے کلو کرنے کا اعلان کیا تھامگر بات اتنی سادہ بھی نہیں کیونکہ اس بحران کا شور مچنے کے بعد فلور ملز والوںنے اس آٹے کی سپلائی واقعی کم کردی ہے جو سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوتا ہے جبکہ دوسری فائن آٹے کے نام پر بکنے والے آٹے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس میں دس کلو کا پلاسٹک کا خوبصورت رنگین بیگ ساڑھے چھ سو سے سات سو روپوں کے درمیان مل رہا ہے جبکہ دوسری طرف بیس کلو کے بجائے پندرہ کلو کی ویسی ہی پیکنگ مارکیٹ میں بھیج دی گئی ہے جس کے نرخ پونے آٹھ سو سے آٹھ سو روپے کے لگ بھگ ہیں۔

پہلے بتایا،فلور ملز والوںنے ایک اشتہار شائع کروایا جس میں حکومت سے تعلقات کو بہتر بنانے کی غرض سے جناب عمران خان اور جناب جہانگیر ترین کی تصاویر بھی شائع کیں۔ا س اشتہار میں بتایا گیا کہ وہ آٹے کا بیس کلو کے تھیلے کی قیمت میں تین روپوں کی کمی کر رہے ہیں تاکہ حکومت کے عوام دوست ایجنڈے میں ساتھ دے سکیں۔ یہ پندرہ پیسے فی کلو کا نقصان ایسا تھا جسے اب انہوں نے پندرہ روپے فی کلو میں پورا کرنا تھا اور پھر یہی ہواکہ تھرڈ کلاس، سستے آٹے کی سپلائی کم کر دی گئی اور مہنگا آٹا مارکیٹ میں بھیج دیا گیا۔ فلور ملز اور حکومت کے کچھ بااثر لوگوں کے گٹھ جوڑ کا اگلا مرحلہ یہ تھا کہ نہ صرف باہر سے سستی گندم درآمد کی جائے بلکہ اس پر ڈیوٹی بھی معاف کروائی جائے کیونکہ پاکستان کے کسان کی پیدا کی ہوئی گندم مہنگی ہے۔ دنیا کے مقابلے میں ہماری گندم کے مہنگے ہونے کا کریڈٹ پیپلزپارٹی کی سابق وفاقی حکومت کو جاتا ہے جس نے امدادی نرخ دوگنے کر دئیے تھے مگر اس کا فائدہ یہ ہوا تھا کہ ہمارے کسان نے بہت گندم اگائی اور ہم گندم میں خود کفیل رہے۔ ہمیں قیمتی ڈالر دے کر درآمد نہیں کرنا پڑی۔

اب صورتحال یہ ہے کہ ایک دیہاڑی فلور ملز ایسوسی ایشن نے لگا لی ہے ، پندرہ پیسے فی کلو کی بچت دے کر پندرہ روپے فی کلو مہنگا آٹا مارکیٹ میں وافر کر دیا ہے تو دوسری دیہاڑی اب گندم کو ڈیوٹی فری درآمد کر کے لگائی جائے گی اور یہ دیہاڑی ہمارے کسان کو نقصان پہنچائے گی کیونکہ جو پرائیویٹ لوگ گندم درآمد کریں گے وہ ہمارے کسان کی اگائی ہوئی گندم کی خریداری میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ کچھ میڈیا ہاو¿سز نے سندھ اور بلوچستان کے کسی حد تک کے بحران کو پنجاب کا ظاہر کر کے اور چکی آٹے کی قیمت کو سرکاری گندم سے پسے آٹے کی قیمت ظاہر کرکے اس کی سنگینی کو بڑھایا ہے اور محض بریکنگ نیوز کے چکر میں پوری قوم کو آٹے کے بخار میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ایک رائے ہے کہ پاسکو سے محض اضافی گندم فلور ملز کو ریلیز کروا کے سندھ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا یہاں بھی سیاست ہوئی ، پی ٹی آئی نے پی پی پی کی حکومت کو رگڑا دینے کے لئے اس میں غیر ضروری تاخیر کی مگر وہ خود ایک بحران کی صورت میں پی ٹی آئی کے گلے پڑ گئی ۔یہاں یہ ایک دلچسپ خبر ہے کہ فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماو¿ں نے اس عرصے میں جناب جہانگیر ترین سے متعدد مرتبہ ملاقاتیںکی ہیں اور آخری ملاقات ابھی تین روز قبل رپورٹ ہوئی جس میں مرکزی چیئرمین عاصم رضا، چیئرمین پنجاب عبدالرو¿ف مختار، حافظ احمد اور میاں ریاض شامل تھے۔میںاس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔


ای پیپر