جسٹس میاں ثاقب نثارآپ کے فیصلے بھی موتیوں سے لکھے جائیں گے!
22 جنوری 2019 (23:57) 2019-01-22

حافظ طارق عزیز

جسٹس میاں ثاقب نثار کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان مدت ملازمت 17 جنوری کو ختم ہوئی۔ انہوں نے اپنے دور میں کئی ایسے امور سرانجام دئے اور کئی ایسے فیصلے سنائے جن کی گونج دیر تک سنائی دیتی رہے گی۔ میاں ثاقب نثار سپریم کورٹ آف پاکستان کے 25 ویں چیف جسٹس تھے۔ انہیں31دسمبر 2016ءکو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدہ پر نامزد کیا گیا۔ صدر مملکت نے ان کے نام کی چیف جسٹس کے عہدے کے لیے منظوری دی جس کا اطلاق 31 دسمبر 2016 ءسے ہوا۔ میاں ثاقب نثار بلا شبہ مفادِ عامہ سے تعلق رکھنے والے معاملات ، سرکاری محکموں میں بد عنوانی ، اختیارات کے ناجائز استعمال ، عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور گڈ گورننس کے قیام میں وفاقی او رصوبائی حکومتوں کی ناکامی اور اسی طرح کے دوسرے معاملات میں آئے روز از خود نوٹسز (سوموٹو ایکشن) لیتے ہوئے متعلقہ حکومتی محکموں اور اداروں کے سربراہوں اور دیگر ذمہ دار شخصیات اور عہدیداروں کو اپنی عدالت میں طلب کرتے رہے۔ ان کا اپنا یہ کہنا تھا کہ وہ عوام کے مفاد اور بد عنوانیوں کے خاتمے کیلئے جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار 18جنوری 1954ءمیں لاہور میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کا امتحان پاس اور 1980ءمیں وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ وہ 1982ءمیں ہائی کورٹ کے وکیل بنے جب کہ 1994ءمیں انہیں سپریم کورٹ کا ایڈووکیٹ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ جسٹس میاں ثاقب نثار، سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سیکرٹری قانون بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں 1998ءمیں نوازشریف کے دور میں ہی لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیاگیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے آخری دور میں اس وقت کی حکومت انھیں لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنا چاہتی تھی تاہم اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے رات کو عدالت لگا کر حکم جاری کیا کہ چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے۔ اس حکم کے بعد جسٹس میاں ثاقب نثار کو فروری 2010 ءمیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کر دیا گیا جب کہ اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی گئی۔ جسٹس میاں ثاقب نثار دو سال سے زائد عرصے تک پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائض رہے۔ وہ اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں میں شامل ہیں جنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے 2007 ءمیں لگائی گئی ایمرجنسی کے بعد عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کیا تھا۔

جسٹس ساقب نثار نے جہاں اپنی مدت ملازمت کے دوران انتہائی سرعت اور تندہی سے اپنے فرائض سر انجام دئے، وہیں وہ یہ اعلان بھی کیا کہ وہ مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد بالکل مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے۔ اس ضمن میں ان کا کہنا ہے کہ ”ہم نے پاکستان کی بہتری کے لیے سمت کا تعین کیا، ملک کو آگے لے کر چلنے کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد فری لیگل کلینک کا آغاز کریں گے اور جسے بھی قانونی معاونت کی ضرورت ہوئی اسے بالکل مفت مدد فراہم کی جائے گی۔

جسٹس ثاقب ںنثار نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بے باک فیصلے کیے جن کو عوامی سطح پر پذیرائی ملی۔ انہوں نے عوامی مسائل کا بھی نوٹس لیا، موبائل کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس کی کٹوتی ہو یا پھر نجی سکولوں، کالجز یا ہسپتالوں کی فیس، پینے کا پانی، کرپشن، سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی سمیت دیگر اہم کیسز کا فیصلہ بھی سنایا۔ ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے جسٹس ثاقب نثار نے بڑا فیصلہ کیا جس کے بعد ایک مہم شروع ہوئی جو اب ایک تحریک بن چکی ہے۔

ان کی کارکردگی کا اعتراف ”گیلپ“ کے ایک سروے میں بھی کیا گیا۔ اس سروے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔ سروے میں حصہ لینے والے افراد میں سے 57 فیصد پاکستانیوں نے جسٹس ثاقب نثار کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان گزشتہ ایک برس کی مجموعی کارکردگی کو سراہا۔گیلپ کی جانب سے جاری سروے رپورٹ کے مطابق 32 فیصد سے زائد پاکستانیوں نے ان کی کارکردگی کو بہترین، 25 فیصد نے اچھا قرار دیا جب کہ 11 فیصد عوام ان کی کارکردگی سے مطمئن نظر آئے۔ دوسری جانب رائے عامہ کا حصہ بننے والے 14 فیصد پاکستانیوں نے ایک برس کی کارکردگی متاثر ک±ن قرار نہیں دیا جب کہ 13 فیصد ایسے بھی لوگ سامنے آئے جن کی نظر میں جسٹس میاں ثاقب نثار کی کارکردگی خاطر خواہ نہیں رہی۔ سروے میں حصہ لینے والے پانچ فیصد عوام نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔

پاکستان میں مسلسل پانی کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے جسٹس میاں ثاقب نثار نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے اقدامات کریں اور ڈیموں کی تعمیر سے متعلق حکمت عملی پر مبنی رپورٹ تین ہفتے میں پیش کی جائے ، عدالتی حکم پر عملدر آمد کے لئے چیئرمین واپڈا کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ سپریم کورٹ نے ملک میں ڈیموں کی تعمیر سے متعلق مختصر فیصلہ سنا دیا، یہ فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پڑھ کر سنایا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ پانی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں، پانی بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، آرٹیکل 184/3کے تحت بنیادی حقوق کے تحفظ کےلئے اختیارات حاصل ہیں۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق ڈیم فنڈ کے لئے خصوصی اکانٹ کھولا گیا جس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے 10لاکھ روپے کا عطیہ بھی دیا۔ بعد ازاں بھی انہوں نے مختلف موقع پر عطیہ دیا، جبکہ عطیات جمع کرنے کیلئے مختلف دورے کیے اور ایک اکاﺅنٹ کھولا گیا جس میں اب تک تقریباً9,174,420,009 روپے جمع ہو چکے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار کا بطور چیف جسٹس یہ فیصلہ کہ سپریم کورٹ ایمنسٹی اسکیم کے عمل درآمد میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی، تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ تجزیہ نگاروں اور ماہرین معیشت کا اس کیس کے فیصلے سے متعلق کہنا ہے کہ کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت کا اندازہ پاکستانی شہریوں کو نہیں ہو پاتا۔اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ میڈیا میں کچھ اہم ترین فیصلے اپنی اہمیت کے لحاظ سے سامنے نہیں آتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کئی موقعوں پر پاکستان کی بوسیدہ معیشت کو ڈوبنے سے بچایا۔ جن میں سے ایک فیصلہ ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے ہے۔ بطور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے یہ فیصلے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ 12جون 2018ءکو میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الحسن نے حکم دیا کہ سپریم کورٹ ایمنسٹی اسکیم میں کے عمل در آمد میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس کی و جہ سے پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو اب تک کئی ارب کی نئی آمدنی یا نئے ٹیکس کا سہارا مل چکا ہے۔ سینکڑوں پاکستانیوں نے اپنے غیر ظاہر شدہ اثاثے ظاہر کیے اور ملک کو کی معیشت کو ایک نئی سمت کی طرف گامزن کر دیا ہے۔ یاد رہے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاو¿نٹس، اثاثوں اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے متعلق کیس کی سماعت میں جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم پر سپریم کورٹ کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔ ایمنسٹی اسکیم حکومت کی وجہ سے فیل ہوئی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ قرضے لے کر ہم نے آنے والی پانچ نسلوں کا رزق کھا لیا۔ ہم آئندہ نسل کو کو کیا دے کر جا رہے ہیں۔

میاں ثاقب نثار کے بطور چیف جسٹس آف پاکستان بعض معمولات پر تنقید بھی کی جاتی ہے کہ انہوں نے ایسے کام کئے جو ان کے کرنے کے نہیں۔ اور اس وجہ سے سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ بڑھتا گیا۔ لیکن اگرغیر جانبدار ہو کر تمام ریکارڈ کا مطالعہ کیا جائے تو بطور چیف جسٹس میاںثاقب نثار نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ کیسز نمٹائے۔ صرف 2018ءمیں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے بینچ نے 7 ہزار کے قریب کیسز نمٹائے۔ سپریم کورٹ کی تاریخ میں کسی بھی چیف جسٹس نے آج تک اتنے کیسز کے فیصلے نہیں کیے جتنے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل میں آنے والی ہزاروں درخواستیں بھی نمٹائیں۔ چیف جسٹس کی عدالت میں ہر روز 25 سے 30 کیسز لگے ہوتے اور خواہ رات کو جو بھی ٹائم ہو جاتا وہ اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک تمام مقدمات کی سماعت مکمل نہیں ہو جاتی تھی۔ انہوں نے کیسز نمٹانے کے علاوہ بہت سے از خود نوٹسز بھی لیے جن سے قوم کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے اور مظلوموں کی داد رسی ہوئی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار کے بطور چیف جسٹس 69 اقدامات ایسے ہیں جن سے براہ راست پوری قوم اور مظلوم لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔

دہری شہریت کیس کا فیصلہ بھی ان کا ایک دوررس تنائج کا حامل فیصلہ ہے۔ اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اہم سرکاری عہدوں پر دہری شہریت کے حامل افسران کو تعینات نہ کیا جائے۔ حکومت کابینہ کی منظوری کے بعد دہری شہریت سے متعلق قانون سازی کرے۔ اس کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا تھا۔ فیصلے میں عدالت نے حکم دیا کہ غلط طریقے سے کمائی رقم اور فیملی کو ریٹائرمنٹ کے بعد باہر بھیجنے کے لیے دوسری شہریت لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایسے افرادکسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں، انہیں غیر ملکی شہریت چھوڑنے کے لیے ڈیڈ لائن دی جائے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دہری شہریت والے افسروں کو قومی سلامتی کی وجہ سے نہیں رکھا جا سکتا، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے اداروں کی فیصلہ سازی والی پوسٹس کی لسٹ بنائی جائے، ہر سال کے اختتام پر پارلیمنٹ کے سامنے ایسے ملازمین کی فہرست پیش کی جائے۔ وفاقی حکومت سابق سرکاری ملازمین کی غیر ملکی حکومتوں اور ایجنسیوں میں نوکریوں کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کرے۔

آخر میں میاں ثاقب نثار کے ملک، آئین اور خوشحالی کے بارے میں نظریات کے پر تھوڑی بات ہو جائے۔ اس حوالے سے جسٹس میاں ثاقب نثارکا کہنا ہے کہ ملک کی خوشحالی قانون کی حکمرانی میں ہے۔ نظام انصاف معاشرے میں امن کی ضمانت دیتا ہے، وہ کریمنل جسٹس سسٹم میں مزید بہتری کی ضرورت پر زوردیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیس اصلاحات پر ابی تک زیادہ کام نہیں ہو سکا۔ نظام انصاف کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ہم پولیس کو غیر سیاسی اور عوام دوست بنانا چاہتے ہیں، عدلیہ نے عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے، پاکستان کے عوام تبدیلی اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، جتنے بھی اقدامات اٹھائے حدود سے تجاوز نہیں تھا۔ عدلیہ کے تمام فیصلے معاشرے کی بہتری کے لیے ہیں۔ اس حوالے سے انہں نے کوئٹہ میں وکلا اور ججز سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں 1908 میں جو قانون بنایا گیا اسے تبدیل کیا جائے، اس قانون پر ہی عمل کر لیں تو انصاف کی جلد فراہمی ممکن ہو سکے گی، عدلیہ سے لوگوں کو امید ہے کہ وہ انہیں انصاف دلائیں گے لیکن محسوس کر رہا ہوں ہم اپنی صلاحیتیں مطلوبہ معیار کے مطابق استعمال نہیں کر رہے۔ ہم عدل کی بنیادوں کو مضبوط نہیں کر پائے تو اللہ کے سامنے کیسے سرخرو ہوں گے، جس کا حق مارا گیا وہ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے اور کئی کئی سال تک فیصلے کا انتظار کرتا ہے، اس کا کون ذمہ دار ہے۔ فراہمی انصاف میں تاخیر پر مجھ سمیت ہائیکورٹ اور دیگر عدالتوں کے ججز اس کے ذمہ دار ہیں، جو شخص اپنے حق کے لیے لڑتا ہے اسے کون انصاف دے گا، ہمیں حکومت کی طرف سے تعاون اور وسائل میسر نہیں آرہے لیکن ہمیں اس کے باوجود کام کرنا ہوگا۔ ان کی بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ’چاہے میں ہوں یا کوئی اور ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا ہے، لوگوں کو بروقت انصاف نہ ملے تو لوگ متنفر ہوتے ہیں، اللہ نے توفیق دی ہے کہ آپ انصاف کر سکیں، سمجھ نہیں آتی ہے کہ سول کیسز میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے کہ چار چار سال مقدمہ چلتا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیران ہوں کہ وہ قابل ججز کہاں گئے جن کے فیصلے موتیوں سے لکھے جاتے تھے، ایسے ججز تھے کہ ان کے فیصلے سپریم کورٹ آتے تو تبدیل نہیں ہوتے تھے۔


ای پیپر