جب امام شافعی ؒ دریائے دجلہ کے پانی پر مصلیٰ بچھا کر بیٹھ گئے ۔۔ ۔ایمان افروز واقع
22 جنوری 2019 (23:52) 2019-01-22

حافظ محمد عمر::

آپ ؒ کی کنیت ابوعبداللہ، لقب شافعی ، نام محمد بن ادریس تھا۔ آپ ؒ قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ ؒکا نسب نامہ آٹھ واسطوں سے حضرت عبدالمطلب سے ملتا ہے۔ آپ ؒکی والدہ کا نام حضرت ام الحسن بنت حمزہ بن قاسم بن زید بن حسن بن علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ ہے۔ اسی لیے آپ ؒ کو قریشی، ہاشمی، علوی اور فاطمی کہا جاتا ہے۔ ائمہ اربعہ میں سے امام سوئم ہیں۔ جب تک مدینہ میں رہے حضرت امام مالک ؒسے پڑھتے رہے۔ جب عراق میں آئے امام محمد بن حسن شاگردِ حضرت امام اعظم سے استفادہ کیا۔ آپ ؒکی ولادت بمقام غرہ یا عسقلان یا بقول دیگر مناور میں 150ہجری میں ہوئی۔۔ امام ِ شافعی ؒ تیرہ سال کی عمر میں حرم میں کہہ رہے تھے: سلونی بما شئتم۔ جو چاہتے ہو مجھ سے پوچھو۔ پندرہ سال کی عمر میں فتویٰ دینے لگے۔

امام احمد بن حنبل ؒ جنھیں تین ہزار احادیث یاد تھیں آپ ؒکی شاگردی میں فخر محسوس کرتے تھے اور آپ ؒکی حاشیہ برداری میں راحت محسوس کرتے تھے۔ لوگوں نے ایک بار آپ ؒ سے کہا: آپ ؒ بایں علم و فضیلت ایک بچے کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے ہیں اور مشائخ و اساتذہ کی صحبت ترک کر دی ہے۔ آپ ؒنے فرمایا: جو چیز ہمیں یاد ہے شافعی ؒ ان کے معنیٰ جانتا ہے۔ فقہ کا دروازہ بند ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ؒکی برکت سے کھول دیا۔ حضرت امام شافعی ؒفرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسالت مآب کو خواب میں دیکھا۔ آپ نے دریافت فرمایا: بیٹا تمھارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں آپ کے کمترین غلاموں میں سے ہوں۔ آپ نے مجھے اپنے پاس بلاکر اپنا لعاب دہن میرے منہ میں ڈالا اور فرمایا کہ اللہ کی برکات تجھے نصیب ہوں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی انگشتری اتار کر مجھے پہنا دی۔ اس طرح حضور کے انوار اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علوم مجھے نصیب ہوئے۔ حضرت امام شافعی ؒکی والدہ زاہدہ، عابدہ اور امینہ تھیں۔ لوگ اپنی امانتیں آپ کے سپرد کر جاتے ایک دفعہ دو آدمی آئے۔ ایک صندوقچہ جو مال و سامان کا بھرا ہوا تھا آپ کے حوالے کر دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ان میں سے ایک شخص آیا اور وہ صندوقچہ لے گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد دوسرا بھی آیا اور صندوقچہ مانگا۔ تو حضرت بی بی نے بتایا کہ تمہارا ساتھی لے گیا ہے۔ اس نے کہا کہ دونوں کی حاضری کے بغیر آپ نے ایک شخص کو کیوں دے دیا۔ حضرت شافعی ؒجن کی عمر پندرہ سال تھی آگئے۔ سارا واقعہ سننے کے بعد والدہ ماجدہ سے کہنے لگے آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں۔ مدعی سے آپ نے پوچھا کہ صندوقچہ دیتے وقت آپ لوگوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ ہم دونوں آئیں تو امانت دی جائے۔ اب تم جاو¿ اور اپنے دوست کو ہمراہ لے آو¿ تاکہ صندوقچہ دونوں کو دیا جائے۔ جب تک تم دونوں اکٹھے نہیں آو¿ گے صندوقچہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ مدعی متحیر ہو کر چلا گیا۔ ہارون الرشید ایک رات اپنی بیگم زبیدہ سے اُلجھ پڑا۔

زبیدہ نے ہارون کو دوزخی کہہ دیا۔ ہارون نے کہا: اگر میں دوزخی ہوں تو تمھیں طلاق ہو گئی۔ چنانچہ دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔ زبیدہ ہارون کی محبوب بیوی تھی اور ہارون پر دل و جان سے فدا تھی۔ چنانچہ دونوں اس اتفاقیہ تلخ کلامی سے ایک جدائی میں مبتلا ہوئے۔ ہارون نے علماءبغداد کو جمع کرکے اس مسئلہ کا حل دریافت کیا اور فتویٰ چاہا کہ زبیدہ اس پر حلال ہو جائے۔ علماءکے لیے کوئی جواب نہ تھا اور کہا کہ خدائے عالم الغیب ہی جانتا ہے کہ ہارون دوزخی ہے یا جنتی! اس مجلس سے ایک بارہ سالہ لڑکا اٹھا اور اس نے کہا: میں جواب دوں گا۔ علماءو امراءاس کی اس جرا¿ت پر حیران رہ گئے۔ اور کہنے لگے تم دیوانے ہو۔ لیکن ہارون الرشید نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا اگر ہو سکتا ہے تو جواب دو۔ یہ لڑکے امام شافعی ؒ تھے۔ حضرت امام شافعی ؒ نے خلیفہ کو کہا۔ چونکہ آپ سائل ہیں اس لیے تخت سے نیچے آجائیں اور مجھے تخت پر بٹھا دیں۔ علماءوارث انبیائؑ ہوتے ہیں۔ ہارون تخت سے اتر آیا اور امام شافعی ؒ تخت نشین ہو گئے۔ ہارون نے ایک سائل کی حیثیت سے مسئلہ بیان کیا۔ حضرت امام شافعی ؒ نے کہا: جو کچھ میں پوچھوں اس کا صحیح جواب دیا جائے اور جھوٹ قطعاً نہ ملایا جائے۔ اب تم اپنی زندگی پر نظر دوڑا کر بتاو¿ کبھی تم معصیت پر قادر ہوکر خوفِ خداوندی سے ڈر کر رُک گئے ہو۔

ہارون نے کہا: ہاں ایک دفعہ بغداد کے ایک امیر کی ایک خوبصورت اور جواں سال لڑکی میری توجہ کا مرکز بنی، اسے میرا کچھ خیال نہ تھا۔ ہزار ہا حیلہ ومکر کے بعد میں نے اسے طلب کر لیا اور تخلیہ میں لے جاکر اظہارِ مدعا کیا۔ جب وہ بھی آمادہ¿ زنا ہو گئی تو میں خدا کے خوف سے کانپ اٹھا اور اس عورت سے علیحدہ ہو گیا۔ حضرت شافعی ؒ فرمانے لگے: اگر تم اس واقعے میں سچے ہو تو میں فتویٰ دیتا ہوں کہ تم دوزخی نہیں جنتی ہو۔ اگر جھوٹ بول رہے ہو تو اس کا عذاب تمہاری گردن پر ہو گا۔ اس فتویٰ کو سنتے ہی علمائِ مجلس نے شور برپا کر دیا کہ آپ ؒکس دلیل سے یہ فیصلہ دے رہے ہیں۔ آپ ؒنے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت کی: ترجمہ:” اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے(سورةالنزعت)۔ لوگوں نے پوچھا کہ ہارون کے سچا ہونے کی کیا دلیل ہے۔ آپ ؒنے فرمایا کہ اس نے یہ واقعی حلفاً بیان کیا ہے۔ ہارون الرشید نے دوبارہ حلف اٹھایا اور اس واقعہ کی تصدیق کی۔ علماءکرام نے فتویٰ دیا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ حضرت امام شافعی ؒکے زمانے میں دیگر مذاہب کے بعض علماءنے علمائے اسلام سے مناظرہ شروع کر دیا۔ بغداد میں بہت بڑا اجتماع ہوا۔ دریائے دجلہ پر بحث و مناظرہ شروع ہوا۔ حضرت امام شافعی ؒجو علمائے اسلام کی طرف سے آئے ہوئے تھے دریائے دجلہ کے پانی پر مصلی بچھا کر بیٹھ گئے اور کہا: غیر مذاہب کے جو علماءبحث کرنا چاہتے ہیں میرے سامنے آکر بیٹھ جائیں۔ مگر کسی میں یہ جرا¿ت نہ ہوئی۔ تمام شرمسار ہوکر چلے گئے۔ آپ ؒکی وفات بروز جمعہ ماہ رجب 204 ہجری میں ہوئی۔ آپ ؒکا مزار پُر انوار قرانہ مصر میں ہے۔

امام شافعی ؒ علم و فضل، عقل وفہم، حدیث وفقہ، شعروادب اور انتساب وایام میں امتیازی مقام ومرتبہ کے مالک تھے، ان کو شعر وادب اور لغت وعربیت کا خاص ذوق تھا، اشعار کہتے تھے مگر چونکہ علماءکے لیے شاعری کو مناسب نہیں سمجھتے تھے اس لیے دینی علوم کے مقابلہ میں اس کی طرف توجہ نہیں کی۔

نیز فرماتے ہیں کہ میں نے عربی شعر وادب اور لغت کو دین میں تعاون کے لئے حاصل کیا ہے۔ امام شافعی ؒکے حکیمانہ اقوال میں عربی ادب وانشاءکی حلاوت ہے اور ان میں حکمت ودانش کے ساتھ فصاحت و بلاغت کی چاشنی ہے۔

آپؒ کے چند بصرت افروز اقوال

1 ایک آدمی نے ان سے کہا کہ فرمائیے کیا حال ہے،آپ ؒ نے جواب دیا:” اس کی حالت کیا ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ قرآن کا، رسول اللہ سنت کا، اہل وعیال روزی کا اور ملک الموت قبض روح کا مطالبہ کرتا ہے“۔

2 یہ علم دین کوئی شخص مالداری اور عزت نفس سے حاصل کر کے کامیاب نہیں ہو سکتا، البتہ جو شخص نفس کی ذلت، فقرو محتاجی اور علم کے احترام کے ساتھ اس کو حاصل کرے گا وہ کامیاب ہو گا۔

3 جو عالم فتویٰ دے گا اجر پائے گا، البتہ دین میں غلطی پر اجر نہیں ملے گا اس کی اجازت کسی کو نہیں ہے اور ثواب اس لیے ملے گا کہ جو غلطی اس نے کی ہے اس میں اس کی نیت برحق تھی۔

4 طبیعت زمین ہے اور علم بیج ہے اور علم طلب سے ملتا ہے، جب طبیعت قابل ہو گی تو علم کی کھیتی لہلہائے گی اور اس کے معانی اور مطالب شاخ درشاخ پھیلیں گے۔

5 بہترین استدلال وہ ہے جس کے معانی روشن اور اصول مضبوط ہوں اور سننے والوں کے دل خوش ہو جائیں۔

6 یونس مدنی کہتے ہیں ”میں نے امام شافعی ؒسے زیادہ سمجھ دار اور عقل مند انسان نہیں دیکھا“۔ ایک دن میں نے ان سے کسی مسئلہ کے بارے میں مناظرہ کیا پھر ہم اپنی مصروفیات میں مشغول ہو گئے، چند دن کے بعد مجھ سے ملے، میرا ہاتھ پکڑا اورفرمایا: ” اے ابو موسی! کیا یہ درست روشن نہیں ہے کہ ہم کسی مسئلہ میں اختلاف کے باوجود آپس میں بھائیوں کی طرح رہیں“۔(سیر اعلام النبلائ)

7 یہ فقہ قرآن وسنت اور علماءکے اقوال پر مشتمل ہے، علم کلام جیسے مشکل علم میں کیا پڑتا جس میں بے شمار مواقع ایسے ہیں کہ انسان گمراہی کے راستہ پر چل پڑتا ہے۔ (سیر اعلام النبلا)

8 جو شخص مصیبت پر صبر نہیں کر سکتا تو موت کے علاوہ کوئی چیز اسے نفع نہیں دے سکتی۔ (دیوان الامام الشافعی ؒ)

9 جو تمہارے سامنے کسی کی چغل خوری کرے گا وہ تمہاری بھی چغل خوری کرے گا اورجو تمہارے سامنے دوسروں کی باتیں نقل کرے گا وہ دوسروں کے سامنے تمہاری باتیں بھی ضرور نقل کرے گا، جو شخص تم سے خوش ہو کر تمہاری ایسی باتوں کی تعریف کرے گا جو تم میں نہیں تو وہ ناراض ہو کر تم میں ایسے عیوب ضرور نکالے گا جو تم میں نہیں۔ (ائمہ اربعہ کے دربار میں ، بحوالہ توالی التاسیس لمعالی محمد بن ادریس)

10 تین کام بہت سخت ہیں:1۔ پیسہ کی کمی کے وقت سخاوت کرنا،2۔ تنہائی میں پرہیز گار رہنا، 3۔ جن سے خوف یا امید ہو ان کے سامنے حق بات کہنا۔

(ائمہ اربعہ کے دربار میں، بحوالہ توالی التاسیس لمعالی مبحمد بن ادریس)

11 انسانوں کو قابو میں رکھنا جانوروں کو قابو میں رکھنے سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ (ائمہ اربعہ کے دربار میں، بحوالہ آداب الشافعی ومناقبہ لابی حاتم الرازی)

12 تم سارے لوگوں کو درست نہیں کر سکتے اس لئے وہی کام کرو جس میں تمہاری اپنی خیر ہو۔ (ائمہ اربعہ کے دربار میں ، بحوالہ آداب الشافعی ومناقبہ لابی حاتم الرازی)

13 عقل مند وہ ہے جس کی عقل ہر(برے) کام سے اسے روک دے۔

14 شرافت کے چار ستون ہیں:

1۔ حسن اخلاق

2۔ تواضع

3۔سخاوت

4۔عبادت گزاری

15 لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنے سے برے لوگوں کی صحبت ملتی ہے اورمیل جول بالکل ختم کردینے سے دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں لہذا دونوں کے درمیان اعتدال پیدا کرو۔

16 ہوشیار اورعقل مند وہ ہے جو ہوش مندی کے ساتھ تغافل بھی اختیار کرے، یعنی لوگوں کی کمزوریوں اور غلطیوں سے چشم پوشی کرتا رہے۔

17 جو اپنے بھائی کو خاموشی سے نصیحت کرے اس نے (حقیقی)نصیحت کی اورجس نے سب کے سامنے نصیحت جھاڑی اس نے اسے رسوا کیا۔

18 اگر کوئی شخص اپنے آپ کو تیر کی طرح بالکل سیدھا بھی کر لے تب بھی کوئی نہ کوئی اس کا دشمن ضرور ہوگا۔

19 تفریح میں باوقار رہنا بے وقوفی کی علامت ہے۔

20 جو شخص چاہتا ہو کہ اللہ تعالی اسے حکمت کا نور عطا کرے اسے حتی الامکان خلوت اختیار کرنی چاہیے،کھانا کم کھانا چاہیے، بے وقوفوں کے ساتھ میل جول نہ رکھے اور ان علماءسے دور رہے جو ناانصاف اور بے ادب ہوں۔(ائمہ اربعہ کے دربار میں، بحوالہ مناقب الامام الشافعی للامام فخر الدین الرازی)

22 اے ربیع! فضول بات مت کرو اوریاد رکھو جب بات تم نے منہ سے نکال دی تو وہ تمہاری مملوکہ نہیں رہی؛ بلکہ تم اس کے مملوک بن گئے (یعنی اس بات کے تمام نتائج کے ذمہ دار تم ہوگے)

23 ایک عالم سے فرمایا” اللہ تعالیٰ نے تمہیں علم کا نور عطا کیا ہے اسے گناہوں کی ظلمت سے مت بجھانا“۔

24 عام لوگوں کا فقر مجبوری کا ہوتا ہے؛ جبکہ علماءکا فقر ان کے اپنے اختیار سے ہوتا ہے (یعنی اگر وہ دنیا کمانا چاہیں تو کما سکتے ہیں لیکن علم کی مشغولیت کو دنیا پر ترجیح دے کر قناعت کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں)۔ (ائمہ اربعہ کے دربار میں، بحوالہ مناقب الامام الشافعی للامام فخر الدین الرازی)

٭٭٭


ای پیپر