’کورونا وباء سے متاثر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا چاہتا ہوں‘
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
22 فروری 2021 (19:07) 2021-02-22

کراچی:  پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز لاہور قلندرز کے سکواڈ میں شامل جارح مزاج آسٹریلوی بلے باز بین ڈنک نےرواں سیزن میں بہترین کارکردگی کے ذریعے کورونا وباء سے متاثر لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ ایسا کر دکھانا چاہتا ہوں جس پر مداح فخر محسوس کریں۔ 

تفصیلات کے مطابق نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بین ڈنک نے کہا کہ گزشتہ سیزنز کے برعکس اس مرتبہ لاہور قلندرز کا آغاز جیت سے ہوا ہے اور امید ہیں کہ فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھیں گے، ہماری  ٹیم کی تیاریا ں بہترین ہیں اور تمام کھلاڑی ٹرافی جیتنے کیلئے پرجوش ہیں، کورونا کی وجہ سے حالات مشکل ہیں لیکن ٹیم ضرور اچھا کرے گی، دنیا بھر میں بائیو سیکیور ببل کی وجہ سے کھلاڑیوں کیلئے بہت مشکل ہو جاتا ہے، کمروں میں محدود رہنا اور بس کرکٹ کیلئے باہر نکلنا، یہ سب کچھ بہت مشکل ہے اور اکثر اس اثر ہو جاتا ہے۔ 

 ان کا کہنا تھا کہ کورونا وباء کے باعث بائیو سیکیور ببل میں رہنا اور صرف کرکٹ کھیلنے کیلئے میدان میں آنا بہت تھکا دینے والا عمل ہے اور میں اس مشکل سے بخوبی واقف بھی ہوں کیونکہ گزشتہ سال پی ایس ایل فائنل سے بمشکل پانچ یا چھ دن ببل سے باہر رہا ہوں گے مگر اس کا میری کارکردگی پر کوئی اثر نہیں ہو گا اور میں لاہور قلندرز کیلئے بھرپور انداز میں پرفارم کروں گا۔ 

بائیں ہاتھ کے جارح مزاج بلے باز نے کہا کہ روا سیزن کیلئے لاہور قلندرز کا کمبی نیشن کافی اچھا ہے اور ٹیم میں اکثر کھلاڑی وہی ہیں جنہوں نے پچھلے ایڈیشن کی اچھی کارکردگی میں اپنا کردار ادا کیا، امید ہے کہ جو پچھلے برس اچھا ثابت ہوا تھا وہ اس سال بھی اچھا ثابت ہو گا، گزشتہ ایڈیشن میں فائنل تک آئے تھے مگر فائنل میں اچھی کرکٹ نہ کھیل سکے، امید ہے اس بار پہلے سے بھی بہتر پرفارم کریں گے اور ٹورنامنٹ جیتیں گے۔

 ایک سوال کے جواب میں بین ڈنک کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کی کارکردگی اور گیم پلان اس سال ٹیم کی حوصلہ افزائی کرے گا، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ہی مومینٹم کو برقرار رکھا جائے، میرے لئے ذاتی سنچری سے زیادہ ٹیم کی جیت اہم ہے اور ایسی ہی سوچ کراچی کے خلاف پچھلے سال تھی جب میں نے 99 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، اگر اس سال سنچری بنانے کا موقع ملا تو اچھا ہو گا لیکن زیادہ خوشی اس وقت ہو گی جب ٹیم کی جیت میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ 


ای پیپر