ISPR DG speaks about successes of Operation Radul Fasaad
22 فروری 2021 (15:34) 2021-02-22

راولپنڈی:ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا 22فروری  2017کو آپریشن ردالفساد کا اآغازکیاگیا،آپریشن کا مقصد پرامن اور مستحکم  پاکستان تھا، دہشت گردوں نے عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی کوشش کی ،دہشت گرد بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہے تھے ،آپریشن رد الفسادسے بہت سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں مدد ملی ۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا ردالفسار کا بنیادی محور عوام ہے ،ہر پاکستانی  ردالفساد کا سپاہی ہے ،دہشت گردوں نے عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی کوشش کی ،طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے ،انہوں نے کہا 2010سے2017 تک مختلف ایریاز کو دہشت گردوں سے کلیئرکرایاجا چکا تھا ،سول اداروں کا قیام دائمی امن کی جانب درست اقدام ہے ،3لاکھ 78 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے ،پنجاب میں 34 ہزار،سندھ  میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد آپریشن کیے گئے ،خیبرپختونخوامیں 92  ہزار سے زائد  انٹیلی جنس  آپریشن کیے گئے ،ان آپریشنز سے اربن  ٹیررازم پر قابو پانے میں مدد ملی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ان آپریشنز کی وجہ سے بہت سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں مدد ملی ،گوادر ہوٹل  پر  حملہ آ کرنے والوں  کو جہنم واصل کیاگیا ،سیکیورٹی فورسز نے انتھک محنت اور بے شمار قربانیوں سے امن قائم کیا ،ساڑھے 700 کلومیٹر سے زائد علاقے پر ریاست کی رٹ بحال کی گئی ،72 ہزار سے  زائد اسلحہ  ملک بھر سے بازیاب کیاگیا ،4سال میں 353دہشت گردوں کو جہنم واصل،سیکڑوں کو گرفتار کیاگیا،2017 سے اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھائی گئی ،انہوں نے کہا پاک افغان بارڈر پر باڑ کر کام 84 فیصد مکمل کرلیاگیا ،ٹرانزٹ ٹریڈٹ کا میکنزم بہت بہتر ہو جائے گا ۔

ڈی جی آئی ایس پی آ ر کا کہنا تھا کہ سول اداروں کا قیام دائمی امن کی جانب درست اقدام ہے ،1684 کراس بارڈر واقعات ہوئے ،تین لاکھ 78 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے ،ان آپریشنز سے اربن  ٹیررازم پر قابو پانے میں مدد ملی،بہت سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے میں مدد ملی ،گوادر ہوٹل  پر  حملہ آ کرنے والوں  کو جہنم واصل کیاگیا ،سیکیورٹی فورسز کی  انتھک محنت اور بے شمار قربانیوں سے امن قائم ہوا،میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا اب تک 48ہزار سے زائد مائنز ریکور کر چکے ہیں،نارملائزیشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا 78 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کیخلاف آپریشن کیے،دہشت گردوں کے اکاؤنٹس منجمدکیے گئے ،300 سے زائد قوم پرست رہنمائوں نے ہتھیار ڈالے ،پیغام پاکستان نے مذہب کے نام پر نوجوانوں کو دہشت گردی کے چنگل میں جانے سے بچالیا،پیغام پاکستان نے دہشت گردی کے بیانیے کو شکست دی ،دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ثبوت دنیا کے سامنے رکھے ،انہوں نے کہا کراچی کرائم انڈیکس میں چھٹے  سے 103 نمبر پر آگیا ،دہشتگردی پر قابو پانے کی وجہ سے ہی پاکستان کی معیشت میں بہتری آئی ،ٹیررازم سے ٹورازم کا سفر انتہائی کٹھن تھا ،وہ علاقے جو دہشت گردی کا شکار تھے اب  اقتصادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

بابر افتخار کا کہنا تھا 2 دہائیوں میں قوم کے طور پر چینلجز کا مقابلہ کیا ،کوویڈ19 کےمقابلے کیلئے ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے ،فوڈ سیکیورٹی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے سیکیورٹی اداروں نے  کردار اد اکیا،انہوں نے کہا آپریشن کے ثمرات ہر میدان میں نظر آرہے ہیں،تمام چیلنجز میں میڈیا نے مثبت کردار اد اکیا ۔

انہوں نے کہا یوم پاکستان بھرپور طریقے سے منا یا جائے گا ،افواج پاکستان یوم پاکستان کی پریڈ میں شرکت کریں گی ،یوم پاکستان کا مقصد ہے ایک قوم ایک منزل ہے ،ڈی جی آئی ایس پی آ ر کا کہنا تھا کہ افغانستان کے امن کیساتھ پاکستان کا امن جڑا ہے ،افغان امن میں پاکستان سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا ،اس وقت سوشل میڈیا  پر نفرت انگیز مواد کے خلاف کام کیاجارہا ہے ،انہوں نے کہا فوج عوام کی حمایت کے بغیر  اکیلی کچھ نہیں کرسکتی ،ایف اے ٹی ایف کا اپنا طریقہ کار ہے ،ایف اے ٹی ایف کے نکات پر بہت زیادہ کام ہو چکا ہے ،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کی قربانیوں کی کوئی مثال نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی تعیانی سے متعلق پوچھے گئے سوا ل کا جواب دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا ڈی جی آئی ایس پی آر کی تعیناتی  سے متعلق قیاس آرائیاں ہیں،فوج میں اعلیٰ سطح پر تقرریاں شارٹ ٹرم نہیں ہوتیں،قربانیاں صرف فوج،پولیس،رینجرز نے قربانیاں نہیں دیں،سب سے زیادہ قربانیاں عوام نے دی ہیں۔


ای پیپر