Ibrahim Mughal columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
22 فروری 2021 (12:17) 2021-02-22

قا رئین کرام آپ کو یاد ہو گا کہ حا لیہ د نو ں میںجب مہنگا ئی بے مہا ر ہو نے لگی تو حکو مت کے زور لگا نے سے صر ف چینی کی قیمت کچھ کم ہو سکی مگر وہ جو کہتے ہیں،وہی چا ل بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے، توقیمت پھر بڑھ گئی۔ بھلا کو ئی جیت سکا ہے مہنگا ئی ما فیا سے کبھی؟کہنے کی با ت یہ ہے کہ مہنگائی کے عوامی زندگی پر منفی اثرات سے انکار ممکن نہیں، مگر تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے اس سدابہار مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی پائیدار حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ یوٹیلٹی سٹور ز پر اشیائے خور و نوش کی سستی فراہمی اور سستے بازاروں کا نظام بھی اب پہلے سا منظم نہیں رہا، اس لیے عوام اس سہولت سے خود کو محروم ہی تصور کرنے لگے ہیں۔ چنانچہ ان حالات میں وفاقی وزیراطلاعات جناب شبلی فراز کا یہ بیان کہ ’بے شک مہنگائی عوام کے لیے باعث تکلیف ہے، ایک زمینی حقیقت کا اظہار ضرور ہے مگر عوامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ غور کرنا پڑے گا کہ کابینہ کے ارکان کے ایسے بیانات سے جھلکنے والی حکومتی تشویش عوامی مسائل کے ازالے میں کس حد کارفرما ہے؟ کیا یہ تشویش برائے اظہا رہے یا واقعتا حکومتی سطح پر کوئی ایسی حرکت بھی دکھائی دیتی ہے جس سے عوام کے لیے آسانی پیدا ہونے کی امید کی جائے؟ جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو وزارت شماریات کے اعداد و شمار اپنی جگہ مگر گلی، بازاروں اور دکان کی حد تک اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی کا کوئی شائبہ بھی نظر نہیں آتا۔ واقعہ یہ ہے کہ کھانے پینے کی جن اشیاء کی قیمتیں کچھ پہلے تک قدرے کم تھیں، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ان اشیا ء کے نرخوں میں بھی گراں قدر اضافہ ہوچکا ہے۔ مثال کے طور پر کھانا پکانے کے تیل اور بھی، جوہر گھر کی بنیادی ضرورت ہیں، کی قیمتوں میں مسلسل او ربلاجواز اضافے کا سلسلہ جاری ہے مگر حکومت خاموش تماشائی نظر آتی ہے اور عوام کے ساتھ محض اظہارِ ہمدردی تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق تیل اور گھی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ آئل او رگھی ملز کی اجارہ داری کی وجہ سے ہے۔ اجارہ داری کا مسئلہ، جو عوام کی جیبوں پر خاصا بھاری ثابت ہوتا ہے، کسی ایک شعبے تک محدود نہیں مگر حکومت اجارہ داروں کے مقابلے میں کہاں تک مؤثر ہے اس کا اندازہ حکومتی خواہش اور کوشش کے باوجود پائیدار بنیادوں پر چینی کی قیمتوں میں کمی واقع نہ ہونے سے لگایا جاسکتا ہے۔ حکومت نے اجارہ داری کی غیر اخلاقی کاروباری حرکات کا محاسبہ کرنے کے بجائے درآمدی چینی سے مارکیٹ میں طلب اور 

رسد کے فرق کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی، مگر یہ عارضی حل تھا اور مارکیٹوں میں درآمدی چینی کی فراہمی کم ہونے سے قیمتیں پھراسی مقام پر پہنچ چکی ہیں۔ گھی اور کھانا پکانے کے تیل کی قیمتوں میں تو حکومت سے یہ توقع کرنا بھی محال ہے کہ وہ قیمتوں میں توازن قائم کرنے کے لیے سنجیدگی سے کوئی فیصلہ کرے گی۔ یوٹیلٹی سٹورز عوام کو قدرے کم نرخوں پر اشیائے ضروریہ فراہم کرنے کی ایک کارآمد چین ثابت ہوسکتے ہیں۔ اصولی طور پر سٹوروں کی ایسی چین کو مارکیٹ سے نسبتاً سستی اشیاء فروخت کرنے کے قابل ہونا چاہیے کیونکہ حکومتی اعانت سے چلنے والے یہ سٹور ملک گیر سطح پر اپنا نیٹ ورک رکھتے ہیں او رزیادہ سامان بیچ سکتے ہیں، اس لیے مینوفیکچررز کے لیے اس کو قدرے کم قیمت پر اشیاء مہیا کرنا ممکن ہے۔ مگر ان سٹورز کو کاروباری اعتبار سے جس پُرعزم انداز سے چلانا ضروری ہے اب تک وہ ایک خواب ہی نظر آتا ہے او راس خلا میں حکومت کے پاس ایسا کوئی موثر ذریعہ نہیں جو اشیائے صرف کی قیمتوں میں توازن قائم کرنے کے لیے اقدامات کرسکے۔ اتوار بازار یا دیگر سستے بازاروں کا سلسلہ کسی حد تک قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا تھا، مگر موجودہ انتظامیہ سے یہ بازار بھی سنبھالے نہیں جاسکے۔ ان حالات میں حکومتی عہدے دار اگر مہنگائی کے مسئلے پر عوام سے اظہار یکجہتی بھی کریں تو اس سے کوئی تسلی نہیں ہوتی۔ حکومت کی ذمہ داری مسائل کا حل فراہم کرنا ہے اور عوام کی نظر میں مہنگائی مسائل کی بنیاد ہے۔ حکومت کو بہرحال اس مسئلے کے حل پر توجہ دینا ہوگی۔گزشتہ تین سال سے تنخواہوں اور اجرتوں میں اضافہ نہ ہونے سے وفاقی سرکاری ملازمین کو 25 فیصد ایڈہاک ریلیف حاصل کرنے میں جو کامیابی ملی ہے اور آمدہ بجٹ میں ا س کا دائرہ وسیع کرنے کا جو حکومتی اعلان ہے اس سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں مشکلات پیدا ہونے کی اطلاعا ت ہیں۔ اس سے توانائی کے شعبے میں قیمتیں ہوش ربا حد تک بڑھانے کے تقاضے کو تقویت ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف حکومت نے 21 جنوری کو بجلی کی قیمتوں میں کیے جانے والے 1.95 روپے فی یونٹ اضافے کو جمعہ کے روز بڑھا کر تقریباً چار روپے کردیا ہے جو بلوں میں وصول کیے جانے والے کم و بیش 9 مدوں میں سرچارج میں مزید اضافے کا بھی باعث بنے گا ۔ اس سے امکان غالب ہے کہ بجلی کے فی یونٹ نرخ بڑھ کر اوسطاً 25 روپے کی سطح تک پہنچ جائیں گے جس کی مثال ملکی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ملتی۔ اسی طرح پٹرول کی قیمتوں میں یکم جنوری سے یکم فروری تک تین بار مجموعی طو رپر آٹھ روپے فی لیٹر اضافہ کیا جاچکا ہے۔ اس ساری صورتحال سے صارفین خصوصاً غریب طبقے پر مہنگائی در مہنگائی کے جو اثرات رونما ہوں گے وہ محتاجِ وضاحت نہیں۔ شماریات کے قومی ادارے کے حساس اشاریوں کے مطابق رواں ہفتے مجموعی طور پر گزشتہ دنوں کے مقابلے میں جن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ان میں چینی، آٹا، خوردنی تیل، گھی، سرسوں کا تیل سرفہرست ہیں جبکہ رمضان المبارک کے موقع پر ہر سال ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان غالب چلا آرہا ہے۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو آنے والے دنوں میں نہ صرف 25 فیصد متذکرہ ایڈہاک ریلیف بلکہ آئندہ بجٹ میں ہونے والا ممکنہ اضافہ بھی بے اثر ہوکر رہ جائے گا۔ حکومت کو اس سارے معاملے کا ادراک کرتے ہوئے بجلی او رپٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ورنہ شاید کسی ستم ظریف کا یہ کہنا سچ ثابت نہ ہو جائے کہ مہنگائی ایک بیماری ہے ،اس سے بچیں۔کھانا کم کھائیں،کپڑے پھٹے ہو ئے پہنیں۔پٹر و ل وا لی گا ڑیا ں نہ چلا ئیں۔ دھیان رکھیں،ہمیں مہنگا ئی سے لڑنا ہے سر کا ر سے نہیں۔ 


ای پیپر