Chaudhry Farrukh Shehzad columns,urdu columns,epaper
22 فروری 2021 (12:16) 2021-02-22

ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے ساتھ 1977ء کے انتخابات میں قومی اتحاد کا مطالبہ کوئی 10-12حلقوں میں الیکشن میں دھاندلی سے متعلق تھا جسے انہوں نے انا کا مسئلہ بنایا جس کے نتیجے میں ایسے حالات پیدا ہوئے جن کو کنٹرول کرنا نہ بھٹو کے بس میں رہا اور نہ قومی اتحاد والوں کے۔ تاریخ کا سفر جاری رہتا ہے۔ 2013ء کے الیکشن میں تحریک انصاف نے نواز شریف سے صرف 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔ نواز شریف کے پاس ذوالفقار علی بھٹو کی طرح اتنی بھاری اکثریت تھی کہ اگر وہ 4 کے بجائے 8 حلقے بھی کھول دیتے تو ان کے اقتدار پر جوں بھی نہ رینگ سکتی مگر ان کے مشیروں نے انہیں دوسرا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا جس کے نتیجے میں ان کے خلاف ایک ایسی مزاحمت شروع ہوئی جس میں ان کی عوامی ساکھ متاثر ہوئی اور پھر ایک وقت آیا کہ انہیں اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔ 

تاریخ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سفر میں اس وقت پاکستان تحریک انصاف تاریخ کے نشانے پر ہے۔ بھٹو اور نواز شریف کی نسبت ایک بہت ہی معمولی واقعہ این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی الیکشن ہے۔ یہ الیکشن حکمران جماعت کے لیے ایک DOT یا اعشاریے سے بھی کم اہمیت رکھتا ہے۔ یہ سیٹ وہ جیت جائیں یا ہار جائیں یہ بہت ہی معمولی بات ہے لیکن یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ حکمران جماعت نے آخر کس لیے اس حلقے پر پورے ملک میں ایک ہیجان کی کیفیت پیدا کر دی ہے یہ رویہ صرف طاقت کے نشے میں سسٹم سے چھیڑ خوانی کے مترادف ہے اور اس شوق کا نتیجہ تاریخ کے تسلسل میں ذوالفقار علی بھٹو اور نوا زشریف کے انجام سے مختلف نہیں ہو گا۔ یہ کھلم کھلا ریاستی دھونس جبر اور طاقت کا بے جا اور غیر معمولی استعمال ہے جس پر اپوزیشن شور مچا رہی ہے الیکشن کمیشن بھی فریادی ہے میڈیا ورطۂ حیرت میں ہے اور حلقہ کے ووٹر انگشت بہ دندان ہیں اور پورے ملک کے عوام سانس روکے کھڑے ہیں کہ اس ڈرامے کا اختتام کہاں ہوتا۔ 

آج کی کہانی کا اختتام جو بھی

صبح کے دریچوں میں رات ہونے والی ہے

چاند کو ستاروں سے مات ہونے والی ہے

اس حلقے کا پس منظر یہ ہے کہ یہ مرحوم زاہرے شاہ کی سیٹ ہے جو ان کی وفات سے خالی ہوئی ہے جس پر ان کی بیٹی نوشین افتخار صاحبہ اپنے والد کی سیاسی وراثت کی دعویدار ہیں۔ پاکستان کا سیاسی کلچر یہ کہتا ہے کہ وہ ضمنی الیکشن جو کسی ممبر کی وفات کی بنا پر ہو رہا ہو اور مرحوم کی بیوی یا بیٹا یا بیٹی اس کی جگہ پر امیدوار ہوں تو ایسا الیکشن محض آئینی Exercise ہوتی ہے۔ فرط جذبات اور ہمدردی میں بھی عوام ایسے امیدوار کوووٹ دے کر مرحوم سے اپنی محبت کا آخری اظہار کرتے ہیں لہٰذا اس الیکشن میں نوشین افتخار کا منتخب ہو جانا بالکل ایک معمول کی بات ہے۔ 

مگر مسئلہ یہ ہے کہ سینیٹ الیکشن سر پر ہے اور حکمران جماعت ٹکریں مار رہی ہے کہ کسی نہ کسی 

طرح وہ اس الیکشن میں اپنی عزت بچانے میں کامیاب ہو جائیں کیونکہ حکومتی ایم پی اے اور ایم این اے اپنی بے اختیاری فنڈز کی عدم فراہمی اور پارٹی میں ان کی بات نہ مانی جانے جیسے مسائل کی وجہ سے اپنی قیادت سے سخت دل برداشتہ ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگانے والی پارٹی کے اندر اس وقت ایک نہیں دو تحریک انصاف ہیں ایک تو وہ ہے جو ووٹ لے کر آئی ہے دوسری وہ ہے جو پیرا شوٹ سے اترے ہیں۔ پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ اس وقت اقتدار اور پارٹی دونوں کو یہی پیرا شوٹر چلا رہے ہیں کیونکہ ان کی ساری تعداد عمران خان کے دوستوں عطیہ دہندگان اور ارب پتی تاجروں پر مشتمل ہے۔ بات لمبی ہو رہی ہے مختصر یہ کہ اس وقت تحریک انصاف کی سینیٹ الیکشن میں اپنے بچاؤ کے لیے ایک ایک ایم پی اے کی شدید ضرورت ہے اس طرح انہیں ایم این اے درکار ہیں لہٰذا پارٹی نے تہیہ کر رکھا ہے کہ این اے 75 سے اسجد ملہی کو ہر قیمت پر جتوانا ہے جس کے لیے انہیں قانون کو ہاتھ میں ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ یہ سوچ اور یہ فکر ان کو لے ڈوبے گی۔ 2023ء کا الیکشن آتے آتے یہ پارٹی اپنی اخلاقی ساکھ میں سب سے آخری نمبر پر ہو گی۔ عوام نے حالیہ ضمنی پولنگ میں عوامی رجحانات کا اندازہ کر لیا ہو گا کہ اس وقت عوام کیا سوچ رہے ہیں عوام کہتے ہیں کہ ان کو نکالنے کے لیے نواز شریف کو بھی ووٹ دینا پڑے تو ہمیں یہ بھی منظور ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کو انتخاب کے موقع پر وہی حیثیت حاصل ہوتی ہے جو کرکٹ یا ہاکی میں امپائر یا ریفری کی ہے اس کا فیصلہ کتنا ہی متنازع ہو قبول کرنا پڑتا ہے۔ این اے 75 کے بارے میں الیکشن کمیشن کے شعبۂ تعلقات عامہ نے جو پریس ریلیز جاری کیا ہے وہ حکومت اور بیورو کریسی کے لیے شرمناکی کی تمام حدوں سے تجاوز کر چکا ہے لگتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر صاحب حکومتی دباؤ میں آنے کے بجائے ابھی تک (جی ہاں ابھی تک) مزاحمت کر رہے ہیں۔ پریس ریلز کے مطابق رزلٹ غیر ضروری تاخیر (یعنی اگلے دن صبح 6 بجے) موصول ہوئے اس دوران پریزائیڈنگ آفیسرز سے رابطہ کی کوشش میں ناکامی ہوتی رہی (کیونکہ ان کے موبائل بند تھے) جس پر چیف الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کی کوشش کہ تاکہ گمشدہ پولنگ افسروں کا پتہ لگایا جا سکے مگر کوئی ریسپانس نہ ملا۔ رات کو 3بجے چیف سیکرٹری سے بات کی گئی انہوں نے زبانی یقین دہانی کرائی مگر اس کے بعد وہ بھی رابطوں سے منقطع ہو گئے یعنی فون بند کر لیا۔ اگلے روز 6 بجے تمام گمشدہ پریزائیڈنگ افسران جو بیلٹ باکسز سمیت غائب کیے گئے تھے وہ حاضر ہوئے۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر کے مطابق 20پولنگ سٹیشنوں کے نتائج میں ردو بدل کا خدشہ ہے اس بنا پر الیکشن کمیشن نے نتیجہ روک دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے واضح الفاظ میں آخر میں لکھا ہے کہ یہ سارا معاملہ انتظامیہ اور پولیس کی نا اہلی لگتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ الیکشن سے اگلے دن کی پریس ریلیز ہے۔ 

اب خدشہ یہ ہے کہ جیتنے والی امیدوار محترمہ نوشین افتخار اور ہارے ہوئے امیدوار کے درمیان صرف 3ہزار ووٹوں کا فرق ہے جبکہ مشکوک اور گمشدہ 20 پولنگ سٹیشنوں کا رزلٹ اس ٹوٹل میں جمع ہونا باقی ہے۔ الیکشن کمیشن نے آپ سمجھیں کہ پل صراط سے گزرنا ہے اگر انہوں نے دباؤ قبول نہ کیا تو نوشین افتخار جیتی ہوئی ہیں البتہ اگر الیکشن کمیشن حکومت کے قدموں میں ڈھیر ہو گیا تو حکومتی امیدوار کی جیت کا اعلان ہو جائے گا جو حقیقت میں الیکشن ہارا ہوا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ سسٹم کے لیے بہت خطرناک اور تباہ کن ہو گا۔ الیکشن کمیشن نے اگر اپنا کام صحیح کیا تو اس کی ساکھ اگلے الیکشن کے لیے بحال ہو جائے گی۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ الیکشن کے منصفانہ نتائج کے اعلان کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ جانا چاہیے اور کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی پولیس کی انکوائری کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ملک میں سیاستدانوں کی طرف سے ساری کرپشن اور بے ایمانی بیوروکریسی اور پولیس کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ڈسکہ میں پولیس اور انتظامیہ نے نا اہلی اور بے ایمانی کی بد ترین مثال قائم کی ہے جس کا سہرا حکمران جماعت کے سر ہے۔


ای پیپر