Sameera Malik columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
22 فروری 2021 (12:11) 2021-02-22

2008 مشرف دور کے خاتمے کیساتھ ہی جمہوریت کی بحالی پاکستان کے عوام کو بہت مہنگی پڑی ہے۔ آج جتنی بھی خوش خبریاں پاکستانی عوام کے پاس ہیں ، وہ یا تو عمران خان اور عثمان بزدار کی بدولت یا ایجنسیز کی بدولت ہیں یا افواج پاکستان کے مرہون منت ہیں۔۔۔

عمران خان کو ہر کام پلیٹ میں سجا کر پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔ بلکہ خود عمران اور ان کی ٹیم کام کر رہی ہے۔۔ 

پاکستان کے غریب اورمڈل کلاس کے لوگوں کے مقدر میں محنت اور کوشش کے تردد ہیں۔ ایک کے بعد ایک نئی حد عوام کی منتظر ہوتی ہے ، سرکاری نوکری والوں کو کس قدر فوائد حاصل ہیں وہ اس سے بخوبی واقف ہیں۔ہر صورت تنخواہ مل جانی ہے ، مگر پھر بھی ان کو احتجاج کرنا ہے۔یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ایسا لگتا ہے مسائل صرف نوکری والوں کے رہ گئے ہیں نان ایشو کو ایشو بنا کر احتجاج کرتے ہیں اور حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں ، ذرا سوچو جو بیروزگار ہیں۔ ایسے لوگ ملک کا ساٹھ فیصد ہیں ، ان پر کیا گزر رہی ہو گی۔ ہم سب کو انکے بارے میں سوچنا ہے انکا بازو بننا ہے۔ 

عوامی مسائل بے پناہ بڑھ چکے، لوگ سارے مصائب بھول گئے، روٹی کے لالے پڑ گئے، ایمان دار لیڈر کہتا ہے چوروں کو نہیں چھوڑوں گا اور اسکی اس بات کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔تاریخ گواہ ہے مذاق ہمیشہ ابتدائی مشکل سفر میں اڑایا جاتا ہے جب منزل قریب ہوتی ہے تو مذاق اڑانے والے تالیاں بجانے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

پچھلے ڈھائی سال میں ، عمران خان کی ٹیم مشکل بھنور میں رہ کر اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ایک سال قرضوں کی ادائیگی اور اخراجات کم کرنے میں گزارے اور ڈیڑھ سال کرونا وائرس کی نذرہو گئے اس ڈیڑھ سال میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مضبوط معیشت دھڑام کر کے کریش ہوگئی۔اور پاکستان نے ابھی عمران خان کی اور عثمان بزدار کی قیادت میں آگے جانا ہے۔اپوزیشن کاکام صرف اپنا چورن بیچنا ہے مگر عوام کو مشکل کی اس گھڑی میں عمران خان کا ساتھ دینا ہے جو بہکا رہے ہیں انکا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔

سیاست میں کسی کے ساتھ اتنی بری نہیں ہوئی۔جتنی موجودہ پی ڈی ایم میں مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز کیساتھ ہو رہی ہے۔۔۔ تمام خاموش ہیں ، کسی کی آواز نہیں نکل رہی ، پی ڈی ایم والے حکومت کے خلاف چور ، لٹیرے کے نعرے لگا کر اپنے مفادات کے چکر میں ہیں ، کوئی ایک جینوئن آواز میں نہیں سن سکی اس پی ڈی ایم میں۔۔۔ میں عوام میں نکلتی ہوں ، عوام پی ڈی ایم کو گالیاں دے رہے ہیں ، مہنگائی ، بیروزگاری ، غربت کا سہارا لے کر عمران خان اور فوج کو فضول 

میں بدنام کیاجارہا ہے۔۔۔ برداشت جواب دے گئی ، حوصلے ٹوٹ گئے ہیں اب پی ڈی ایم کا جھوٹ مزید برداشت نہیں کیا جا ئے گا۔ پاکستانی بیروزگار جوان کا مستقبل عمران خان کی قیادت میں روشن ہو گا۔

کیا پاکستان میں عوام نہیں جانتے کہ کب سے پی ڈی ایم والوں کی ڈالرز میں آمدن شروع ہو چکی تھی، جو بے نامی جائیدادوں و دیگر ایون فیلڈ فلیٹوں کی ادائیگی کن ڈالروں کے ساتھ ہوئی۔ انہوں نے ملک میں دو طرح کے طبقات کو فروغ دیا ، امیر و غریب ، درمیانہ طبقہ ختم۔۔۔ ویسے ایک پالیسی پتہ تو چلے ہے کیا ؟ کوئی بتا دے ، ماضی کی حکومتوں نے ملک کی ڈائریکشن کیا سیٹ کی ہے ؟ خوف خدا کرو یار۔ 

جو شخص اب یہ کہے نا کہ پاکستان میں اشرافیہ ٹیکس نہیں دیتی ، میری گزارش ہے ، اس شخص کو عوام جوتے ماریں ، پاکستان میں ماں کی کوکھ میں وارد ہونے والے بچے سے لیکر ، قبر میں اترنے کے بعد تک اشرافیہ اورہرشخص ٹیکس سے بچتا رہا ہے ، پہلے ٹیکسز ادا نہ کرنے کے بعد سہولیات لیتے رہیے ہیں ، پھر لعنت ہے ایسے لوگوں پر اور خزانہ سدا کا خالی ہے ، سدا خالی نہیں رھے گا ، عوام ہی قومی خزانے میں پیسہ جمع کروا کر خزانہ بھریں گے۔ تین سال مکمل ہونے کو آئے ، میں بہت عوام دوست پالیسی سن رہی ہوں جسکی بنیاد عمران خان نے رکھی ہو۔

پاکستانیوں کو ریسورسز کے امیج دکھا کر ، عوام سے مناسب ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے اور اسکا صحیح استعمال کیا جا رہا ہے ماضی کمبخت نا اہل حکمران ہم ہی پر عیاشی سے حکومت کرتے تھے ، کسی ایک غریب کا بھلا ہوا ہو تو بتاؤ ؟ 

سردی ہے ہیٹر ناجلائیں ، گرمی ہے تو پنکھا ، کولر ، اے سی نا چلائیں ، گیس ، بجلی مہنگی ہے۔۔ آٹا ، چاول ، گھی ، چینی ، سبزی ، دال ، گوشت ، دوا ، اسکول ، بنیادی ضروریات سے ترسا دیا تم نے عوام کو۔ لیکن اسوقت زیادتی کا بدلہ لینے والا کوئی نہیں ہے تو وہ عمران خان ہے ۔ 

معیشت قابو کرنے کے حوالے سے ، عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے ن لیگ، پی پی کے بعد پی ٹی آئی بھی کامیاب ہو چکی ہے۔۔۔ ابھی تک کوئی پالیسی معرض وجود میں آئی ، ہاں ہر گزرتے دن کیساتھ مہنگائی و غربت و بیروزگاری میں خاطر خواہ حد تک کمی ہو رہی ہے۔ جو پہلے سے مجبور و معذور غریب عوام کی تکلیف و مسائل میں بے پناہ کمی ہے۔

 کوئی مجھے یہ سمجھا دے ، جن سیاست دانوں کو عوام نے پارلیمنٹ کا منہ دکھایا ، عوامی مسائل کے حل کیلئے بھیجا تھا یا ذاتی مسائل کے حل کیلئے ؟ 

 مجھے اس محب وطن کا نام بتا دو جس نے عوامی تکالیف کو حل کردیاہو ؟ وہ ہے عمران خان اور عثمان بزدار کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار خود جا کر پنجاب کے ہرچھوٹے بڑے ضلع میں جاکر عوامی مسائل حل کررہے ہیں۔

منتخب نمائندوں اورپارٹی عہدیداروں کی مشاورت سے عوامی مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں۔ موجودہ حکومت بھی ہر حوالے سے کامیاب ہو رہی ہے ، اور عوام کی ہمت بلند ہو رہی ہے۔ میں صحیح کہتی ہوں ، انگریز کا اصول تھا ڈیوائیڈ اینڈ رول ، پاکستانی سابق حکمران طبقے کا یہی اصول تھا عوام کو دال روٹی پوری کرنے کے چکروں میں ڈال کر ان پر حکومت کرو ، کھاؤ بھی انہیں کا ، جوتے بھی انہیں کو مارو۔۔۔ عوام بہت بہت بہت تنگ آ چکے تھے۔۔۔ انتہا یہاں تک پہنچی ، یونیورسٹیز میں بی ایس ، ایم ایس متعارف کرا کر سمسٹر سسٹم بنا کر 50 ، 50 ہزار فیس فی بچہ وصول کی جا رہی تھی ، عوام کس طرح بچوں کو تعلیم دلواتے؟ اگر دو بچے یونیورسٹی کی سطح پر پڑھ رہے تھے ، سب سے خوش آئند بات یہ ہے موجودہ حکومت نے احساس گریجویٹ سکالرشپ کا آغاز کیا۔اس کا فائدہ ہوا۔جسے جنوبی پنجاب کی ایک اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں 19 کروڑ کے سکالرشپ دیے گئے اسی طرح پورے پاکستان میں یونیورسٹیوں کو سکالرشپ دیے گئے انکے اخراجات اٹھانے کا طریقہ واضح کیا۔ موٹر سائیکل، گاڑیوں کے خرید وفروخت دیکھ لیں جو پہلے سے کئی گناہ بڑھ چکی ہے۔ نوکری ، کاروبار کے حالات دیکھ لیں سب کے سامنے ہیں ، مجھے یہ پوچھنا ہے عوام سے یہ پوچھنا ہے وسیم اکرم پلس کیسا کام کر رہا ہے کیا عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب کو نئی شناخت نہیں دی، جواب ہے ہاں اور ترقی کا سفر چند مخصوص شہرو ں سے نکل کر پسماندہ علاقوں تک پہنچ چکا ہے:

جنوبی پنجاب کے دور افتادہ مقام ماڑی، کوہ سلیمان اور چولستان میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنا کر سیاحت کو فروغ دیا جارہا ہے ۔۔جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے ذمہ دار سابق حکمران، فنڈز کو بعض مخصوص شہروں پر خرچ کیا گیا،اب کوئی علاقہ ترقی سے محروم نہیں رہے گا۔

 صوبے میں سیاحت کا بہت پوٹینشل موجود ہے اورشعبہ سیاحت کو ترقی دے کر معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔جنوبی پنجاب کے دور افتادہ مقامات ماڑی، کوہ سلیمان اور چولستان میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنا کر سیاحت کو فروغ دیا گیا۔سیاحت کے فروغ سے ان علاقوں کی قسمت بدلی اور مقامی لوگوں کو روزگار ملا۔ کوئی اور کام ہے تو بتاؤ وسیم اکرم پلس حاضر ہے۔اور عوام بھی عمران خان کے قدموں کے نشانات پر چل رہے ہیں۔ کیونکہ پاکستان میں کامیاب یہ اور اسکی عوام ہیں ،۔ اگر عوام صحیح بندے کے پیچھے لگ کر گھروں سے باہر نکل آئے ، تو یہ صیہونی سازش نہیں ، پاکستانی ہر حکمران طبقے کی کامیابی ہے ۔۔۔ بہت کچھ اور لکھنا چاہ رہی تھی ، باقی پھر صحیح۔۔۔ میری ایجنسیز و افواج پاکستان سے گزارش ہے ، عوام پی ڈی ایم سے بہت تنگ آ چکے ہیں ، خدارا کچھ کریں اب۔


ای پیپر