اور۔۔۔یہاں فائرنگ ہو رہی ہے ؟ 
22 فروری 2021 2021-02-22

لاہور کے جیلانی پارک نہ آنا یہاں فائرنگ ہورہی ہے؟؟؟یہ وہ الفاظ تھے جو اتوار کے روز سہ پہر تین بجے کے قریب جیلانی پارک ریس کورس میں اکثر شہری فون پر اپنے دوستوں عزیزوں سے کہہ رہے تھے۔ہم جیلانی پارک کے پارکنگ سٹینڈ میں داخل ہوئے ہی تھے کہ پارک کی عین اس جگہ جہاں ڈاگ شو ہورہا تھا شدید فائرنگ شروع ہوگئی جس کے بعد لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔یہ تین بجے کا وقت ہوگا۔ فائرنگ مسلسل ہورہی تھی اور لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔لوگوں کے چہروں پر ڈر اور خوف نمایاں تھا۔میرے بھی ذہن کو شدید دھچکا لگا۔کیونکہ کئی ہفتوں سے سی سی پی او کی طرف سے خبریں آرہی تھیں کہ وزیراعلی کے حکم اور آئی جی کی ہدایات پر لاہور کو اسلحہ فری بنانے کے لیے بدمعاشوں،اسلحہ رکھنے اور نمائش کرنے والوں اور ہوائی فائرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلانے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاو¿ن کیاجارہا ہے کیونکہ یہ علاقہ کوئی غیر نہیں ہے لاہور ہے خاص طور پر اتوار کے روز چھٹی کو منانے پارکوں اور بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ شہر میں کسی کو بھی بدمعاشی اور اسلحہ لے کر گھومنے کی اجازت نہیں،یہ الفاظ درجنوں بار سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے بولے ہیں۔اسی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں چھوٹے ،بڑے بدمعاشوں کے خلاف تو کارروائیاں شروع ہو گئیں ،لیکن بڑے لوگ آج بھی پولیس کی گرفت سے دور ہیں۔بڑے لوگ ،بڑی باتیں ، اور پھر سڑکوں پر ایک نہیں دو نہیں درجنوں گارڈز کے ساتھ رواں دواں ہوتے ہیں ،ایسے لگتا ہے جیسے لاہور کے صرف یہی مالک ہیں۔

اور ہاں معاملہ فائرنگ کا تھا ،وہ بھی بھلا بھولنے کی بات ہے۔لاہور کی مصروف ریس کور س گراﺅنڈمیں گولیوں کی ترتراہٹ رکی تو تب تک لوگ جانیں بچانے کے لیے پارک کے دوسرے حصوں میں چلے گئے تھے۔اندر جاکر معلوم ہوا کہ ڈاگ شو کے دوران ججز کے فیصلے پر دو گروپوں میں لڑائی کے دوران ایک گروپ نے گراو¿نڈ میں فائرنگ کی۔جب ہم ڈاگ شو کے رنگ کے پاس پہنچے تو ڈولفن اہلکار ایک گروہ کے لوگوں کو ایک طرف لے کر جارہے تھے۔ڈولفن اہلکاروں نے فائرنگ کرنے والے کو حراست میں لینے کی کوشش بھی کی جسے گروہ کے دوسرے افراد نے ہاتھا پائی کے بعد ناکام بنا دیا۔اتوار چونکہ چھٹی کا روز تھا اور دھوپ بھی نکلی ہوئی تھی اس لیے پارک میں فیملیز کا بہت زیادہ رش تھا لیکن فائرنگ کے بعد لوگ کافی ڈرے ہوئے دکھائی دئیے۔پارک تفریح کی جگہ ہے جہاں بچے،خواتین،بزرگ ہر عمر کے افراد سیرو تفریح کے لیے آتے ہیں ایسی جگہ پر اسلحہ لے جانے کی اجازت دینا اور سرعام بھرے مجمے میں فائرنگ نے لاہور پولیس اور پی ایچ اے انتظامیہ کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشان لگا دئیے ہیں۔

جناب سی سی پی او صاحب یہ آپ ہی کا دعوی ہے کہ لاہور میں بدمعاشوں اور اسلحہ رکھنے والوں کی کوئی جگہ نہیں۔آپ تو ان بدمعاشوں کو پکڑنے کے دعوے بھی کرتے ہیں لیکن جیلانی پارک جو خوفناک واقعہ نے آپ کے دعوو¿ں کی نفی کردی ہے۔کوئی کتنا ہی بااثر ہو اسے پارک میں اسلحہ لے کر جانے کی اجازت کس نے دی؟ 

صرف پولیس ہی نہیں،پی ایچ اے حکام کو بھی اس کا جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ایک طرف اسی پارک میں یکم مارچ کو سجنے والے جشن بہاراں میلے کی تیاریاں ہورہی ہیں تو دوسری طرف ایک ایونٹ کے دوران فائرنگ نے پارک کو تفریح کے لیے آنے والوں کےلیے غیرمحفوظ بنادیا ہے۔

شہر میں پی ایس ایل میچز بھی ہونے جارہے ہیں کیا اس بڑے ایونٹ پر بھی ایسے ہی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں؟

جیلانی پارک میں جہاں دسمبر میں گل داو¿ی اور مارچ میں بہار کے پھولوں کی نمائش ہوتی ہے اسی جگہ گولیوں کی ترتڑاہٹ اور بارود کی بو پھولوں کو بھی مرجھا کررکھ دیا ہے۔پارک کی فضا میں خوف کا عالم ہے۔ فائرنگ کی دہشت ناکی سے ان معصوم بچوں اور خواتین کے دلوں پر کیا گزری جو یہاں تفریح کے لئے آئے تھے۔ کئی لوگ اپنے دوستوں کو فون پر اطلاع دے رہے تھے کہ ”جیلانی پارک نہ آنا یہاں فائرنگ ہورہی ہے“۔کچھ ہفتے پہلے ہی یونیسکو نے لاہور کو محبتوں کا شہر قرار دیا ہے۔محبتوں کے شہر میں خوف، نفرتوں،عدم برداشت اور بارود کی بو پھیلانے والوں نے جوتاثر دیا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔صڑف اتنا ہی نہیں پھر بڑے امیر زادوں کو پکڑنے کی بجائے معمولی گارڈ کو پکڑ کر حوالات میں دے دینا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ عمل ہے ،جبکہ پارک میں دوران تصادم AK47سے بھی فائرنگ کی گئی ،افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ جس گارڈ کو پکڑا گیا اس سے AK47بھی برآمد نہ کروائی جا سکی۔ایک جنگل کا شیر امیر زادہ ہے اور دوسرا شیر پولیس کا سربراہ ہے۔پولیس کی کارروائیاں کمزور کے آگے شاندار ، اور طاقتور کے آگے ٹھس ہو کر رہ جاتی ہیں۔باقی سب جانتے ہیں پولیس کا کام ہے ،سکیورٹی عوام کی۔۔۔۔


ای پیپر