ہرمیرِکارواں سے مجھے پوچھنا پڑا
22 فروری 2020 2020-02-22

پاکستان میں ہونے والی رنگ رنگیلی سر گرمیوں کا تسلسل اگر دیکھا جائے تو محسوس یہ ہوتا ہے کہ ملک سارے مسائل سے عہدہ برا ہوچکا۔ ایک ایسے دور سے گویا گزررہاہے جو معاشی طور پر نہایت مستحکم، ترقی کی ساری منزلیں سر کر کے اب فراغت کے مرحلے میں ہے۔حالانکہ گلوبل مارکیٹ ریسرچ کے مطابق 31فی صد ملازمتیں ختم ہوچکیں۔ باقی بھی خطرے سے دوچار ہیں!تعلیمی فکر سے بھی فارغ ہیں۔ لہٰذا نوجوان نسل نے پہلے زبردست یوم عشق عاشقی ملک گیر سطح پر منایا۔چار پانچ دن ویلنٹائنی سرخ گلابوں کے غلغلے سوشل میڈیا، چنیلز، سکول کالجوں،یونورسٹیوں میں چھائے رہے۔ پرائمری سطح سے یہ (ہماری قومی اہم ضروریات میں سے ایک ہونے کی بناپر!) بچوں کی تربیت میں اتارا جارہاہے۔ اسی اثناء پی ایس ایل 2020ء کے چوکے چھکے خون گرمانے کو شروع ہو چکے ہیں۔ آغاز پاکستان بھر سے اکٹھے کئے گئے ناچ گانے والے بینڈ باجگان سے ہوا۔ مردوزن، فنون لطیفہ کا ہر ذوق ذائقہ چکھانے کو 350کی تعداد میں موجود تھے۔ دی نیوز، کی خبر کے مطابق شائقین میںبجلی دوڑانے کو۔ چلئے پاکستان میں بجلی کی کمی ایسے ٹرانسفارمر نما پر فارمر اگر پوری کردیں تو یہ تجربہ بھی کر دیکھیں۔ قبل از پاکستان ولو لے تازہ کرنے، احساسات وجذبات کو مہمیز لگانے کو علامہ اقبال، مولاناظفر علی خان کی شاعری، مولاناجوہرعلی، شوکت علی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقاریر کام آتی تھیں۔ نوجوان خون میں برقی رو دوڑ جاتی تھی۔غلامی کی زنجیریں توڑ پھنکنے کی قوت کا اظہار غاصب حکمرانوں پر لرزہ طاری کردیتا۔ کہیں تحریک خلافت اٹھاکھڑا کرتے، کہیں جواب شکوہ پر ہچکیاں سسکیاں احساس زیاں کا اظہاریہ بن جاتیں۔ طرابلس کے شہیدوں کا نوحہ پڑھے جانے پر مجمع آہیں بھرتا، ٹوپیاں اچھالتا، کچھ کر گزرنے کے جذبوں سے معمور، استعمار کے خلاف سراپا غیظ وغضب ہوتا۔اک ولولۂ تازہ دیا میں نے دلوں کو، لاہور سے تاخاک بخارا وسمر قند ، کا دور تھا یہ۔ اس ولولے نے ہمیں آزادی کی منزل سے ہم کنارکیا۔ رئیس الاحرار کے خطاب چلتے تو رات گزرنے کا پتہ ہی نہ چلتا۔پاکیزہ، ایمانی،نظریاتی، پرعزم جوانیاں تشکیل پائیں۔لیکن پھر ہم آزاد ہوگئے! گویا شتر بے مہار ہوگئے۔ 9/11کے بعد تو بالکل ہی مادرپدر آزاد ، خدارسول سے آزاد لال لال لہرانے اور میراجسم میری مرضی، جیسے نعرے لگانے کے دور میں آن پہنچے۔ہم نے حکمرانی کے لائق بھی بالآخرانہی کو پایا جو ان دیسی پرانے تصورات سے بھی ہمیں آزادی دلاکر ’کچھ نیاکرو‘ برانڈ ہوں۔بینڈ باجوں ، ڈی جے بھر ے مخلوط دھرنوں نے بالآخر یہ دن ہمیں دکھایاکہ بھلے کرونا سرسراتا رہے۔ کیماڑی میں پراسرار موت بانٹنے والی ہوا چل پڑے ۔ آٹا چینی بحران، گیس بجلی،روز گار سے محروی اور خودکشی ارزاں کابحران راج کرے۔ وحشت درندگی ننھے بچوں کواپنی لپٹ میںلے کر ہمیں منہ دکھانے، جینے کے قابل نہ چھوڑے۔ لیکن گھول تباشے پئیں! ملک سارا وقت ناچتا گاتا بجاتارہے! دھرنے کا حقیقی چہرہ بھی تو یہی تھا۔ سواب سردیوں کی یخ بستہ شاموں کو گرمانے کا سامان اگر حکومت ان تھک فراہم کررہی ہے تو مضائقہ ہی کیاہے! کشمیری اپنی جنگ خود لڑلیں گے، بہادرہیں۔ آخر ہم گزشتہ بیس سالوں سے تو ان سے منہ موڑے ہوئے ہی تھے ۔ خاردار تاریں ہم نے بھارت کو لگانے کی اجازت یونہی تو نہ دی تھی۔ ان کا

کیس لڑنے برطانوی پارلیمانی گروپ آگیا، ہم نے زبردست خوش آمدید کہی، جہاں چاہیں جائیں۔ گوروں کے آنے کے ہم یوں بھی بہت قدردان ہوتے ہیں، سو بسم اللہ! کشمیر کا کیس تم لڑلو ہم ذرا موج میلہ کرلیں! مسائل کا منہ اللہ ہمیں کبھی نہ دکھائے۔ اس کے ہم اہل ہی نہیں۔ ملاخطہ ہوکیماڑی سانحہ ۔ 300متاثر ہوئے۔ 14جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 95مزید سانس کی تکالیف سے ہسپتالوں میں پہنچے۔ بے ہوش ہوگئے۔ پہلے تشخیص ہوئی کہ امریکی جہاز سے اتاری جانے والی سویابین کے اثرات تھے۔ پھر بہت شدت سے اس کا انکار اور غم وغصے کا ظہارہوا کہ ایسا ہر گز نہیں۔ ہم بھی کہتے ہیں، نہیں ہوگا۔ امریکی زہرپھانکتے ہمیں 20سال ہونے کوآئے اس سے ہم نہیں مرا کرتے۔کوئی گیس نما شے تھی جو بلا بن کر پھر گئی۔ جتنی جانیں جانی تھیں چلی گئیں۔ ہوا خود بخود بتدریج صاف ہو گئی۔ ہم صرف لکیر پیٹتے رہے۔ سادہ بات ہے تحقیق طلب نہیں۔ موت کا فرشتہ سبب بنا اموات کا۔ جتنوں کو حکم ہوا لے گیا۔ لوگ تو بلا وجہ بات کا بتنگڑ بنا کر سیاست کھیلتے ہیں۔ میٹنگ ہوئی اس میں حکومتی عہدیدار، قانون نافذ کرنے کے ذمہ داران بھی موجود تھے (گستاخ گیس کے لیے سراپا قہر) ماحولیات کے ماہرین، کے پی ٹی والے، سائنس دان بھی آئے۔ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس اثناء اگلی چار چھ مزید بریکنگ نیوز اور پی ایس ایل کا ہلہ گلا بہت کچھ بھلا دے گا۔ اللہ اللہ خیر سلا۔

ابھی تو مارچ کا مہینہ اپنے جلو میں مزید دھماکا خیز اچنبھے، حیرانیاں لیے آ رہا ہے۔ مارچ میں مارچ ہو گا جس کی بھرپور تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ یہ عورت بریگیڈ کا مارچ ہے جس میں غیرت بریگیڈ کی فوتیدگی کا پورا سامان ہے!پاکستان کو روشن خیالی کے ایسے تارے دکھانے کی تیاری ہے کہ مردوں کو دن میں تارے دکھائی دیں گے۔ پاکستان کو یہ منزلیں سر کروانے کے اہتمام کا ڈول مشرف ڈال گیا تھا۔ یادش بخیر این جی اوز، موم بتی مافیا، ملٹی نیشنلز، غیر ملکی امدادی و حکومتی ادارے خوب متحرک رہے ہیں۔ گلابی سکوٹروں کی فراہمی سے نوجوان لڑکیوں کو حیا باختہ با اختیاری کی راہوں پر گامزن کرنا۔ بیروزگار جوتیاں چٹخاتے مردوں کی جگہ لڑکیاں ہر جگہ بھرتی کرنا ۔ ہوش حواس مختل، معطل کر دینے والے حلیوں اور لباسوں کی فراوانی۔ گھر خاندان توڑنے، عورت کو آزادی، خود مختاری کا نشہ دے کر باغی، سر چڑھی، بے قابو جنسِ بازار بنا دینا۔ چیختی چلاتی، مردوں کے بیچ (باریک سی) نسوانی آواز میں رعب گانٹھتی، نسوانیت پر تہمت لگاتی اب جا بجا دیکھی جا سکتی ہے۔ حال ہی میں ٹریفک پولیس سے لڑتی جھگڑتی عین اسی حال حلیے کی ایک ننھی سی نے (جسے پولیس نے ڈرائیونگ کے دوران موبائل کے استعمال پر روکنے کی گستاخی کی) جو منحنی سی چنگھاڑتی قیامت کھڑی کی! سوشل میڈیا پر خوب بھد اڑائی گئی۔ عورت کا وقار پامال ہوا۔ یہ لڑکی مخنث زبان (انگریزی اردو کا ملغوبہ) میں چن چناتا ہوا احتجاج کر رہی تھی کہ ’یہ پاکستان ہے؟ یہ مسلمان ملک ہے؟ اور اس میں عورت سے (پولیس والے نے) پنجابی میں بات کرنے کی جرأت کیسے کی؟ مسلمان ملک میں تم اس طرح پنجابی میں بات کیسے کر سکتے ہو؟!‘ (عربی میں کرتے؟ اگرچہ بی بی کا حلیہ اور زبان انگریزی تھی)۔ ٹوکے جانے پر چلائی: ’تم صرف شٹ اپ ہو جاؤ! اس ملک میں عورتوں کے کوئی حقوق نہیں ہیں‘۔ اس نئی عورت کا حق یہ ہے کہ اس سے انگریزی ملی اردو میں بات ہو؟ (گلف نیوز۔ 19 فروری)

یہ مناظر بھگتنے کو تیار رہئے ابھی تو 8 مارچ کی تربیت جو دی جا رہی ہے اس کی تیاری کی وڈیو کلپس میں مردوں کو Rapist (عصمت دری کے مجرم) کا یکساں خطاب دیا جا رہا ے۔ مردو زن باہم دگر مقابلے، دنگل کے مغربی فساد کو ہمارے خاندانی نظام کی چولیں ہلانے کو بویا جا رہا ہے۔ مخلوط ویلنٹائن ڈے موسیقی پروگرام ، اسلام آباد میں نجی سکول کالج ، یونیورسٹی کا حصہ ہے۔ نیز ایک موبائل فون کمپنی (ملٹی نیشنل) نے ورلڈ بینک پروگرام، GLWE۔ (لڑکیاں سیکھیں، عورتیں کمائیں) کے تحت جو اہتمام کیا، اس بارے بتایا کہ خواتین کا افرادی قوت کی فراہمی کا 2025ء تک کا ہدف 45 فیصد پانے کا یہ اہتمام ہے۔ اس وقت صرف 26 فیصد عورت کام کر رہی ہے۔ اس میں رکاوٹ سماجی رویے اور گھریلو ذمہ داریوں کی بہتات ہے۔ (جس سے بچ نکلنے کو اب ’اپنا موزہ خود ڈھونڈو، اپنا کھانا خود گرم کرو‘ تربیتی مہم ہے۔) آنے والا وقت ملک اور گھروں میں کیا غدر مچانے کو ہے، یہ منڈلاتے تاریک سائے دیکھ لیجیے۔ نسوانیت کی موت، تہذیبوں ، اقوام کی موت کا پیش خیمہ ہوا کرتا ہے۔ قوم میں صحیح الفکر دانشوروں، رہنماؤں کا کیا ایسا کال پڑ چکا ہے کہ کوئی تشویش کی لہر بدترین سمت جاتے رجحانات کے مقابل دکھائی نہیں دیتی؟

ہر میرِ کارواں سے مجھے پوچھنا پڑا

ساتھی ترے کدھر کو سدھارے کہاں گئے


ای پیپر