گندی،گندی،گندی بات۔۔
22 فروری 2020 2020-02-22

دوستو،کالم کا موضوع پڑھتے ہی آپ لوگوںکے ذہن میںپڑوسی ملک کی ایک فلم کا مشہور گانا لازمی آیا ہوگا۔۔لیکن ایسا ہرگز نہیں۔۔ ہم یہاں گانا سنانے نہیں بیٹھے بلکہ اپنا ’’راگ‘‘ الاپتے ہیں اور حیران کن طور پر یہ راگ ،کلاسیکی موسیقی کی کتابوں میں بھی موجود نہیں، کیوں کہ یہ ’’راگ اوٹ پٹانگ‘‘ ہے ، کلاسیکی موسیقی میں آج تک ایسا کوئی راگ ایجاد ہی نہیں ہوا۔۔ہاں،البتہ اگر ہماری طرح کا کوئی سرپھرا ہوا تو ممکن ہے کہ آنے والے دنوں، مہینوں یا برسوں میں ایساکوئی راگ معرض وجود میں آجائے۔۔’’گندی بات‘‘کیا ہوتی ہے، اس کی حدود کیا ہوتی ہیں،اس کے لئے سب کا اپنا اپنا الگ پیمانہ ہے۔۔ مثال کے طور پر اگر کسی تقریب میں ہم بریانی میں کسٹرڈ ملا کرکھارہے ہوں(قسمے ایسا اکثر ہوتا ہے کہ چاولوں میں میٹھاڈال کر کھاتے ہیں) تو آپ کی نظر میں یہ گندی حرکت یا گندی بات ہوسکتی ہے۔۔ ایسی درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں، مقصد صرف آپ کو سمجھانا ہے کہ جسے ہم گندی بات کہہ یا سمجھ رہے ہوتے ہیں ممکن ہے سامنے والے کی نظر میں ایسا نہ ہو۔۔تو چلیں پھر گندی بات کی شروع کرتے ہیں۔۔

چند روز پہلے اخبار میں ایک دلچسپ خبر پڑھی۔۔خبر تو خبر ہوتی ہے۔۔ہمیں یہ گندی بات ہی لگی۔۔رشتے کی تلاش کرتے ہوئے کوئی اپنی اوقات نہیں دیکھتا، صرف اپنے متوقع دولہا یا دلہن کے خواص اس کی نظر میں ہوتے ہیں۔ اس کی ایک ایسی مثال گزشتہ دنوں بھارت سے سامنے آئی ۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق بھارت کے ایک اخبار میں ایک نوجوان نے رشتے کا اشتہار دیا جو خود تو بے روزگار ہے مگر اسے اپنی دلہن میں جو خوبیاں چاہئیں، وہ پڑھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ اس نوجوان کا نام ابھیناؤکمار ہے۔ اس نے اشتہار میں لکھا ہے کہ ’’میرے پاس ڈینٹسٹ کی ڈگری ہے مگر فی الحال بے روزگارہوں۔ میرا قد 5فٹ 8انچ ہے، میری تاریخ پیدائش 2اپریل1989ء اور پیدائش کا وقت صبح 9بج کر 45منٹ ہے۔ میری پیدائش بھاگل پور، بہار میں ہوئی اور میں براہمن ہوں۔نوجوان نے اشتہار میں مزید لکھا کہ ’’میری ذات بھردواج ہے۔ مجھے انتہائی گوری چٹی، خوبصورت، بہت وفادار، بہت قابل بھروسہ، محبت کرنے والی، دیکھ بھال کرنے والی، بہادر، طاقتور، امیر اور انتہائی محبت وطن لڑکی کا رشتہ درکار ہے۔ لڑکی بھارتی فوج میں اضافے کی شدید حامی ہو اور بھارت کی سپورٹس کی صلاحیتوں میں اضافے کی متمنی ہو۔ وہ بنیاد پرست اور جوش و جذبے والی ہو۔ بچے پالنے میں مہارت رکھتی ہو اور بہترین کھانے بھی بنا سکتی ہو۔ وہ بھارتی ہندو براہمن ہو اور ملازمت کرتی ہوں۔ اس کا تعلق جھاڑکھنڈ یا بہار سے ہو۔ ہماری مکمل کنڈلی ملنی چاہیے، پورے 36گْن ملنا لازمی ہے۔‘‘اس کے نیچے حضرت نے اپنا فون نمبر اور ای میل ایڈریس دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ صرف ایس ایم ایس کے ذریعے بات کریں،کال ریسیو نہیں کریں گے۔ اختتام میں اس نے یہ بھی لکھا کہ ہے کہ شادی کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

ہر اتوار کو آپ تو ہمارا کالم پڑھ کر اپنا موڈ خوشگوار کرلیتے ہیں لیکن ہمارا موڈ ہمیشہ ضرورت رشتہ والا صفحہ پڑھ کر ہی خوشگوار ہوتا ہے، دنیا جہاں کے طنزومزاح سے جب دل اکتا جاتا ہے تو ہمیں ہنسنے ،ہنسانے والا مواد لازمی چاہیئے ہوتا ہے ،اتوار کو ضرورت رشتہ والا صفحہ ہماری اس ضرورت کو پورا کردیتا ہے۔۔انیس سو ستاسی یا چھیاسی کی بات ہے، ہمارے اسکول میں فیئر ویل پارٹی تھی، ہم نے ضرورت رشتہ کے نام سے ایک خاکہ پیش کیا تھا،جس کی کچھ کچھ باتیں آپ بھی سن لیں۔۔ایک نو عمر سید زادہ،نیک چلن اور سیدھاسادہ،لمبا کم اور پست زیادہ،حْسن کا دلدادہ،شادی پر آمادہ،خوبصورت جوان اعلی خاندان،عرصہ سے پریشان کے لئے ،ایک حسینہ مثلِ حور،چشم مخمور،چہرہ پْر نور،باتمیز باشعور،باہنر سلیقہ مند،صوم و صلات کی پابند،باادب باحیاء ،سابقہ سکونت ضلع کھو گیا،نہ شائق سْرخی وکریم ،معمولی تعلیم،مہ جبیں بے حد حسین،پردہ نشین،بقید حد پستہ قد،آہستہ خرام شائستہ کلام،پیارا سا نام،عجوبہء کائنات،رفیقہء حیات درکار ہے ورنہ زندگی بیکار ہے۔مسہری یا چارپائی،روئی بھری رضائی،چند زیور طلائی،کچھ کرسیاں اور میز،بس اس قدر جہیز،لڑکا گو اناڑی ہے مگر کاروباری ہے،ایک چھوٹی سی دوکان اور منہ میں زبان رکھتا ہے۔مزید بات چیت بلمشافہ ،یا بذریعہ لفافہ،خط و کتابت پابندی صیغہء راز ہے۔دوستو یہ آرزو دل کی آواز ہے۔

آپ نے بھارتی لڑکے کی فرمائش تو سنی، ہم نے لاہوری فیملی کا ایک اشتہار کچھ عرصہ پہلے کسی اخبار میں پڑھا تھا ، اشتہار کے مطابق لاہور کی ویل سٹیلڈ فیملی کو اپنے اکلوتے 35 سالہ سمارٹ فارن کوالیفائیڈ بیٹے کے لیے باپردہ ،بااخلاق اور خوش شکل لڑکی کا رشتہ درکار ہے۔۔ جو فیس بک اور واٹس ایپ کا استعمال نہ کرتی ہو۔۔ ذات پات، عمر اور مالی حیثیت کی کوئی قید نہیں۔۔نیچے متوقع دولہا کی والدہ کا نمبر بھی درج تھا۔

اس اشتہار سے معلوم پڑاکہ لوگوں کو ہر وقت فیس بک اور واٹس ایپ استعمال کرنے والی لڑکیاں کتنی زہر لگتی ہیں۔۔یہ اشتہار دیکھ کر مزید فرمائشی پروگرام بھی ممکنہ طور پر سامنے آسکتے ہیں۔۔مثال کے طور پر لڑکی کبھی بیوٹی پارلر نہ گئی ہو۔۔ مونچھیں درمیانی سی ہوں تو ٹھیک ہے، زیادہ مونچھوں والی لڑکی کے والدین رابطہ کرنے کی زحمت نہ کریں۔۔ یا پھرمیڈیکل پڑھنے والی بے شرم لڑکیوں سے معذرت۔۔ کچھ ایسے بھی اشتہار ہو سکتے ہیں ایسی لڑکیوں کا رشتہ درکار ہے جو نقاب کرکے گاڑی چلانے کا تجربہ رکھتی ہوں۔اکثر ضرورت رشتہ کے اشتہارات میں یہ جملہ تواتر سے ملتا ہے کہ ۔۔ کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی کے لیے ڈاکٹر یا انجینئر یاسرکاری ملازم کا رشتہ درکار ہے۔یہ نہیں لکھا ہوتا کہ لڑکی کا باپ کتنا ’’کھاتاپیتا‘‘ ہے،کس گریڈ کا ملازم ہے یا کرتا کیا ہے؟کئی اشتہاروں میں لکھا ہوتا ہے کہ دوسری شادی اور بچوں والے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں ہر شاد ی کامیاب ہوتی ہے۔ناکام تو بعد میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہوتا ہے۔ایک سترسالہ خاتون نے ضرورت رشتہ کا اشتہار دیا ساتھ ہی ایڈریس بھی لکھ دیا، تین دن بعد انہیں ایک خط موصول ہوا جس میں لکھاتھا۔۔محترمہ آپ ’’ف‘‘ لکھنا بھول گئیں،اس عمر میں رشتہ کی نہیں فرشتہ کی ضرورت ہوتی ہے۔۔

اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ایک گلوکارہ بہت ہی بے سُرا گارہی تھی،ایک خان صاحب کافی دیر برداشت کرتے رہے،پھر پستول لے کر اسٹیج پر چڑھ گئے۔گلوکارہ گھبراگئی۔۔خان صاحب بولے۔۔ڈرو نہیں، تم گاؤ ،تم ہمارا بہن ہے۔ہم اسے گولی مارے گا جو تم کو لے کے یہاں آیا۔۔واقعہ کی دُم: پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کا مزہ میزبان نے خراب کردیا۔۔خوش رہیں اورخوشیاں بانٹیں۔


ای پیپر