حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے
22 فروری 2020 2020-02-22

ہم شاید بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ جہاں نہ تو وزیراعظم کی عزت محفوظ ہے اور نہ علما دین کو قابل عزت رہنے دیا گیا ہے۔ کامیڈی شوز کے نام سے ایک ایسا عذاب قوم پر مسلط کر دیا گیا ہے جس سے آزادی حاصل کرنا ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ آپ صرف چشم تصور میں لائیں کہ ایک انسان پہلے خواب بْنتا ہے۔ ان خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے مشقت کی چکی چلاتا ہے۔ دن اور رات کی پرواہ ختم کر دیتا ہے۔ تنکا تنکا جوڑ کر خوابوں کی تعبیر کو ممکن بناتا ہے۔دنیا اس کی بڑائی کو تسلیم کرنے لگتی ہے۔ اللہ اسے شہرت، عزت اور دولت سے نواز دیتا ہے۔ لوگ اس کے سامنے ادب سے جھکتے ہیں۔ اس کے ساتھ تصویر بنانا زندگی کی سب سے بڑی خواہش سمجھتے ہیں۔ وہ عام آدمی سے ایک ستارہ بن جاتا ہے۔ جس کو چھونے کی صرف حسرت ہی کی جاسکتی ہے۔ یہ تمام کامیابیاں سمیٹنے کے بعد ایک دن ایک کامیڈین ٹی وی میں بیٹھ کر اس کی ڈمی بنتا ہے اور اس کی نقل اتار کر لوگوں کو ہنسانے کی کوشش کرتا ہے۔ منہ بگاڑ کر عجیب سی آواز نکال کر اسے پوری دنیا کے سامنے ذلیل کرتا ہے۔ جو عزت اس نے ساری زندگی کمائی ہوتی ہے کامیڈی کے نام پر صرف پندرہ منٹ کے ایک کلپ میں اس کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی جاتی ہیں۔ طنز ومزاح کے لبادے میں ایسی باتیں اس سے منسوب کر دی جاتی ہیں جس کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ اس کے خاندان پر حسب نسب پر، رنگت پر اور آباو اجدادا پر ایسے جملے کسے جاتے ہیں کہ انسنان کو خود سے گھِن آنے لگتی ہے۔اس پر ظلم یہ ہے کہ حکومتی ادارے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتے۔ پیمرا خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ کوئی ان میڈیا ہاوسز سے پوچھنے والا نہیں ہے کہ کس اصول کے تحت آپ کسی کی عزت نیلام کر رہے ہیں۔ کیوں آپ ڈمی بنا کر اس باعزت شخص کو بے عزت کر رہے ہیں۔ یہ کام معاشرے کے کس اصول کے تحت ہو رہا ہے۔ کسی انسان کو مذاق بنا کر پیش کر دینا کس طرح تفریح کہلایا جا سکتا ہے۔ تفریح کے ہزاروں طریقے اس دنیا میں موجود ہیں جو صدیوں سے چلے آ رہے ہیں لیکن جو طریقے آجکل اپنائے جا رہے ہیں وہ نہ تو پہلے دیکھے اور نہ سنے گئے ہیں۔

انسانی تاریخ میں ایسا بہت کم ہوا ہے کہ اہل عقل و دانش، محقیقین، علما، قومی ہیروز اور کامیاب شخصیات کی نقل اتار کر لوگوں کو ہنسنایا جائے۔ کامیاب لوگوں کی شخصیت کو اس طرح ملیامیٹ کر دینا کبھی بھی حوصلہ افزا نہیں رہا۔ زمانہ جاہلیت میں بھی قبیلے کے سرداروں، امرا اور اہل عقل و دانش کی عزت کی جاتی تھی۔ کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ ان سے منصوب کر کے کوئی غلط بات کہہ سکے یا ان کی نقل اتار کر مزاح کا ماحول پیدا کر سکے۔ معاشرتی لحاظ سے بھی اسے ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج کسی طرح کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ بلکہ اہل علم اور کامیاب لوگوں کی نقل اتارنے کے لیے روز رات گیارہ سے بارہ نیشنل ٹی وی چینلز پر باقاعدہ محفل سجائی جاتی ہے۔ رنگ ونسل، ذات پات، خوبصورتی اور بدصورتی کو بنیاد بنا کر انسانوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ عمل یہ ہے کہ عوام اس بھانڈ تماشے کو پسند کرتے ہیں۔ بچے ان پروگراموں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی نقل اتارتے ہیں اور دیکھا دیکھی اپنے دوستوں اور خاندان کا حسب نسب اور رنگ ونسل کی بنیاد پر مذاق اڑاتے ہیں۔ والدین حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کر رہے ہوتے ہیں۔ نتیجتا ملک میں ادیب، محقق، اہل علم اور اہل قلم پیدا ہونے کی بجائے بھانڈ بننے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

جس معاشرے میں تمسخر اڑانے والوں کو دس لاکھ روپے اور اہل علم و قلم کو پچاس ہزار روپے تنخواہ ملے گی وہاں علم کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی جا سکتی۔ والدین بھی کنفیوز ہیں کہ بچوں کو پڑھانے لکھانے کے بعد اگر بے روزگار ہی رکھنا ہے تو کیوں نہ انھیں الٹی سیدھی حرکتیں کر کے پیسے کمانے میں مہارت ہی دلا دی جائے۔ٹک ٹاک کی مثال آپ کے سامنے ہے۔پڑھے لکھے اور عزت دار گھرانے کے بچے بچیاں ٹک ٹاک پر بے ہو دہ ویڈیوز بنا کر ہنسانے کا ماحول پیدا کرتے ہیں اور لاکھوں روپے کماتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جو کہ ذہنی پسماندگی کی معراج ہے۔

اس کے علاوہ کسی کی بات سے اختلاف کرنے کا جو طریقہ آجکل رائج ہے اس نے بھی معاشرے کی تباہی میں اہم ا کردار ادا کیا ہے۔ روز رات ٹاک شوز کے نام پر ایک ایسا تماشا لگایا جاتا ہے جس کا مقصد فاتح اور شکست کا فیصلہ کرنا ہے۔ معاشرتی اصلاح کبھی اس کا مقصد نہیں رہی۔ یہ جنگ کسی اصول کی بنیاد پر نہیں لڑی جاتی بلکہ ڈھٹائی کی بنیاد پر لڑی جاتی ہے۔ اکثر اوقات گفتگو میں دلیل نہیں ہوتی۔ الزام در الزام لگ رہے ہوتے ہیں۔ جب جواب نہ بن پڑے تو نوبت گالیوں تک آجاتی ہے۔ اگر گالیوں پر تسلی نہ ہو تو مْکوں اور گھونسوں کا بے دریغ استعمال بھی کر لیا جاتا ہے۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد عوام کا ایشو یہ نہیں ہوتا کہ اس پروگرام سے کیا سیکھا ہے۔ کیا کھویا ہے اور کیا پایا ہے۔ بلکہ اس بات پر گفتگو ہوتی ہے کہ کس نے دوسرے کو زیادہ ذلیل کیا ہے۔ اس تباہی میں میڈیا مالکان سے زیادہ عوام اور پیمرا قصوروار ہیں۔ عوام پروگرام دیکھتی ہے۔ ریٹنگ آتی ہے تو میڈیا مالک طے کرتا ہے کہ اس نے پیسہ کمانے کے لیے کونسا شوشا چھوڑنا ہے۔ اگر عوام غیر اخلاقی اور معاشرے کی تباہی کا باعث بننے والے پروگراموں کا بائیکاٹ کر دیں تو نتیجتاً پروگرام بند کرنے پڑیں گے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ پیمرا کو پابند کیا جائے کہ بے مقصد اور غیر اخلاقی پروگرامز نشر نہ ہو سکیں۔آپ سے گزارش ہے کہ میڈیا مالکان کو معاشرے کی اصلاح کا ذمہ دار نہ سمجھیں۔ یہ غلط فہمی اپنے ذہنوں سے ابھی نکال کر پھینک دیں کہ میڈیا مالکان معاشرے کی اصلاح کے لیے چینلز کھولتے ہیں۔ اربوں روپے لگا کر چینل کا کاروبار اس لیے شروع کیا جاتا ہے تا کہ منافع کمایا جا سکے۔ جو کہ ہر کاروباری کا مقصد ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ عوام کے درست اور صحیح کے معیار کو فلٹر کرے۔ انھیں ترغیب دے کہ صحت مند معاشرے میں تنقید کا کیا طریقہ ہوتا ہے۔ کس چیز کو پسند کیا جائے اور کسے ناپسند کیا جائے۔ مثبت اقدامات کرنے کے ساتھ معاشرے میں اصلاح لائی جا سکتی۔بے لگام معاشرے نہ تو قوم بن سکتے ہیں اور نہ ہی صحیح اور غلط میں تمیز کر سکتے ہیں۔ حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ اس کے بغیر مثبت نتائج حاصل ہونا عبث ہے۔


ای پیپر