رقص میں ہے سارا جہاں…
22 فروری 2020 2020-02-22

کہا جاتا ہے کہ ایک ڈرائیور نے گاڑی کے نیچے دیکر بارات کے 50 بندے کچل دیئے،

پولیس نے پوچھا کہ کیسے کچلے گئے اتنے سارے بندے

ڈرائیور:میں گاڑی چلا رہا تھا بریک فیل ہوگئی ایک طرف دو بھائی تھے دوسری طرف بارات

بتائیں میں کس طرف گاڑی موڑتا؟

پولیس:ظاہر ہے دو آدمیوں کی طرف!

ڈرائیور: بادشاہو یہی کیا تھامیں نے،لیکن ؟

پولیس: لیکن کیا

ڈرائیور: وہ دونوں بھائی بھاگ کر بارات میں گھس گئے

وزیر اعظم عمران خان نے بھی دو بھائیوں کے چکر میں پوری قوم کو گڈی پرچڑھاکر ملکی وقارکو بھی دائوپر لگا دیا ہے،قارئین پاکستان کو دنیا کے نقشے پر آئے ہوئے 73 سال ہونے کو ہیں آج بھی ملکی حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم لٹے پٹے قافلے کے مسافر ہیں جنہوں نے نئی بستی آباد کرنے کیلئے تن من اور دھن قربان کر دیاپھر کہیں جا کر آزادفضائوں میں سانس ملی، پھر کیا ہواجن کا پاکستان بنانے میں معمولی کردار بھی نہیں تھاکے ہاتھ میں ماچس آگئی جوآج ملک کا تیا پانچا کر رہے ہیں۔

مہنگائی کی ماری عوام روز حکومت کا سیاپا کر رہی ہے اورریاست مدینہ بنانے کے دعویداروں نے کانوں میں روئی ٹھونس رکھی ہے تاکہ آہوں اورسسکیوں کی گونج ان تک نہ پہنچ سکے،مسائل کا کسی کو احساس نہیں تمام توانائیاں اپوزیشن کونیچا دکھانے کیلئے صرف کی جا رہی ہیں جب نواز شریف تیسری بار اقتدار میں آئے تومشرف کے پیچھے پڑ گئے،مقدمات پہ مقدمات بنائے گئے،باہر جانے میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں یار دوستوں نے بڑا سمجھایا کہ بندے کا پتر بن ،نہ مانے آخر کارتعلقات خراب کر بیٹھے اور پھرمشرف کو باہر بھجوایا ؟

اب بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں نواز شریف کو ہزار بار روکا گیا باہر جانے سے آخرکاروہ چلے گئے احتساب کے نعرے کو پائوں تلے روندتے ہوئے،اب مریم نواز رہ گئی ہیں وہ بھی چلی ہی جائیں گی۔ اب وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ پولیس کے محکمہ کو بہتر بنارہے ہیں، وہ قومیں تباہ ہوجاتی ہیں جہاں بڑے چور ایوانوں میں پھریں، لندن چلے جائیں اور بڑے بڑے گھروں میں رہیں لیکن چھوٹے چورپکڑے جائیں، میں نے آئی جی پنجاب پولیس کو چھوٹے بدمعاشوں کی بجائے بڑے بدمعاشوں کو پکڑنے کا حکم دیا ہے، پولیس بڑے ڈاکوؤں کو جیل میں ڈالے چھوٹے خود ٹھیک ہوجائیں گے،کیا وزیر اعظم بتانا پسند کریں گے کہ نواز شریف اور شہبازشریف کو بیرون ملک کس نے اور کیوں بھجوایا کس نے وزیراعظم پر دبائو ڈالا کہ انہیں لندن بھیجاجائے،سوچنے والی بات یہ کہ ملک اور قوم کا کسی کو درد نہیں حکومت کو نہ اپوزیشن کو سب اپنی رنگ رلیوں میں مصروف ہیں،سکیورٹی کے نام پرملک بندشہری گھروں میں قید ہیں پی ایس ایل کے نام پرملک میں جنگل کا قانون ہے جگہ جگہ ناکے ساری پولیس کرکٹ ٹیموں کی سیکورٹی پر لگی ہے ایسے چورڈاکوجو پہلے ہی بے لگام تھے اور تیز ہو گئے۔

بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی پچھلے دنوں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے پہلی بار سرکاری سطح پر تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار کی تصدیق کر دی ، پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فرمایا کہا کہ احسان اللہ احسان کے

فرار ہونے کی خبر درست ہے،وزیر داخلہ سے پوچھا گیا کہ احسان اللہ احسان کے فرار کی خبریں آرہی ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ خبر درست ہے، انھوں نے کہا کہ ریاست کو پتا ہے کہ وہ چلا گیا ہے تو ہی اس کے فرار کی خبر کو درست کہہ رہے ہیں، اس حوالے سے مزید کام بھی ہو رہا ہے اور آپ جلد خوش خبری بھی سنیں گے،کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو 2017 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا تھا،گذشتہ ماہ انڈین اخبار نے دعوی کیا تھا کہ احسان اللہ احسان جیل سے فرار ہوگئے ہیں،اس کے ایک ماہ بعد سوشل میڈیا پر ایک مبینہ آڈیو پیغام میں احسان اللہ احسان نے کہا کہ ان کے ساتھ پاکستانی اداروں نے وعدے پورے نہیں کیے جس کی وجہ سے وہ 11 جنوری 2020 کو سکیورٹی اداروں کی تحویل سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے،کالعدم تنظیم کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ وہ بہت جلد ان باتوں سے بھی پردہ اٹھائیں گے کہ ان کا ضامن کون تھا اور ان کے ساتھ کیا وعدے کیے گئے تھے؟

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ احسان اللہ احسان ان دنوں ترکی میں موجود ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی سرکاری شخصیت نے ان کے فرار کی باضابطہ تصدیق کی ہے،کتنے دکھ کی بات ہے کہ دشمن ملک کے اخبار نے ایک دہشتگرد کے فرار ہونے کی اطلاع کردی لیکن ہمارے سکیورٹی اداروں کو پتہ ہی نہیں ۔ہم نے ساری توانائیاں مخالفین کو کچلنے کیلئے صرف کیں ملک کا سوچا نہ ملک کے باسیوں کا،لوٹ مار کا بازارآج بھی رقص کناں ہے قتل وغارت گری رک نہ سکی،حق دار حق سے آج بھی محروم ہیں،عدالتیں کچہریاں اور تھانے آج بھی نوٹ بنانے والی مشنیں بنی ہو ئی ہیں اور وہ تبدیلی سرکار کا منہ چڑا رہی ہے کہ روک سکو تو روک لوروکے کون سارے مامے چاچے اور تائے تواپنی تنخواہیں بڑھانے میں لگے ہیں اپنی جائیدادیں بنانے میں لگے ہیں میڈیا میں وزیر اعظم کو امیرالمومینین بنانے کیلئے دن رات قصیدے پڑھ رہے ہیں ملک وہی عوام وہی فرق ہے تو صرف چہروں کا پہلے والے گئے نئے آ گئے کوئی بتائے کہ احسان اللہ احسان کس طرح فرار ہو گیا اور پھر پکڑا کیوں نہ گیا کون سی خوشخبری ہے جو وزیر داخلہ دینا چاہتے ہیں قوم کو،کون سے وعدے تھے جو حکومت نے ایک ملک دشمن سے کیے تھے ہے کوئی جو ان سوالوں کا جواب دے؟مگرکس میں جرآت ہے کہ کوئی سچ بولے،عام آدمی ایڑیاں رگڑرگڑ کر جیل ہی میں مر جاتا ہے طاقتورجیل توڑ کر بھاگ جاتا ہے کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا،اب وزیراعظم نے فرمایا ہے کہ پولیس کے محکمہ کو بہتر بنارہے ہیں۔

دوسری طرف گورنرسٹیٹ بینک رضا باقرکی رپورٹ ہماری انکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کم ترین ایکسپورٹ کے ساتھ افغانستان، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ایتھوپیا کے ساتھ کھڑا ہے اور ملک ایسے نہیں چلا کرتے،گورنرسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ملک کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن خواتین کی نمائندگی 5 فیصد سے بھی کم ہے، ملک کی بالغ آبادی میں خواتین اکاؤنٹ ہولڈرزکی تعداد 15 فیصد ہے، دنیا میں یہ تناسب 55 فیصد سے زائد ہے،رضا باقرکے مطابق معاشی نمو کے لیے ایکسپورٹ میں اضافہ ناگزیرہے ، ہماری ایکسپورث دگنی ہونی چاہیے تھی، ہمیں اپنی پیداوار کو بڑھانے اور جدت لانے پر توجہ دینا ہوگی،گڈ گورنس کے نام پرعوام کو بے وقوف بنانے والوں کی آنکھیں سٹیٹ بینک کے ہوشربا انکشاف کے بعد کھل جانی چاہیں تو پھر کیوں نہ ہر کوئی کہے کہ رقص میں ساراجہاں؟؟؟


ای پیپر