فیصلے کی سنجیدہ گھڑی میں قوم کو جمہوری خوابوں کی حقیقی تعبیر دلائیں
22 فروری 2020 2020-02-22

گزشتہ سات دہائیوں سے عوام کو ایک بحران کے بعد دوسرے بحران کا سامنا رہا اور ہر بار اہلِ اقتدار کا یہی کہنا تھا کہ ملک ایک بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ آنے والے جانے والوں کا ماتم کرتے ہوئے خزانہ خالی ہونے کی دہائی دیتے رہے، بحرانوں کی آکاش بیل عوام کا لہو چوستی رہی۔ میرے 40 فیصد ہم وطن خطِ غربت کی بھیانک لکیر کے نیچے سانس لینے کے اذیت ناک عمل سے گزر تے رہے، مگر حیرت یہ کہ حکمران حیلے بہانوں سے اپنے اقتدار کا جواز پیدا کرتے رہے۔ اس پیچیدہ صورتحال میں غریب ضرورت مند تھکن آلود ہے مگر صاحبِ اقتدار ویسے ہی شاداب و خوشحال ہے۔ اربابِ اختیار اقتدار کی مسند پر براجمان ہے یا پھر اپنی باری کے انتظار میں۔ وہ وطن میں ہو یا جلا وطن، اس کے مسئلے ہی اور ہیں۔ ڈیل یا ڈھیل، اسے تو کسی بھی راستے سے اقتدار تک پہنچنا ہے۔ عوام کو بحرانوں میں الجھا کر وہ خود اقتدار کے کھیل کے مزے لیتے رہے۔ سیاست دانوں نے الیکشن لڑے، تقریریں کیں جو کچھ کہا وہ سب جھوٹ اور ایک فریب ثابت ہوا۔ فوجی حکمرانوں نے عزیز ہم وطنو کے ساتھ جو وعدے کئے وہ بھی سب جھوٹے بلکہ خوفناک حد تک فریب ثابت ہوئے۔ اس جمہوریہ میں جب بھی احتساب کی بات ہوتی ہے تو تمام لوگ حقیقتاً دکھاوے کے طور پر سونے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ جب تک حکومت برقرار رہے تو جمہوریت بہترین انتقام ہے لیکن جیسے ہی اس حکومت کو اپنے اعمال و افعال کے لئے جمہوریت کو باقی رکھنے والے ایک بڑے عامل، احتسابی نظام کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ اصول ختم ہو جاتا ہے۔ سیاسی حکمرانوں اور سیاست دانوں کے وعدے محض کاغذ کی ناؤ کاغذ کی کشتی ہوتے ہیں جو مفادات کی طغیانی میں بہہ جاتے ہیں، افسران ایمانداری سے فرائض کی سر انجام دہی کا حلف اٹھا کر ایمانداری کو بے ایمانی سے بدل دیتے ہیں، سرکاری اہلکار رزقِ حلال کھانے کا وعدہ کر کے رزقِ حرام پر لگ جاتے ہیں، اراکینِ اسمبلی آئین کی پاسداری اور ملک وقوم کے مفادات کا حلف اٹھا کر آئین کا حلیہ بگاڑتے، منہ چڑاتے اور اپنے مفادات کا کھیل کھیلتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کلچر، وباء اور روایت نے ساری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

انہی چیرہ دستیوں کی ستائی عوام نے عمراں خان کو اپنا مسیحا جان کر وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر براجمان کرایا لیکن لگتا ایسے ہے کہ عمراں خان بھی مافیاز اور کارٹلز کے اسی چنگل میں پھنس گئے ہیں جو دہائیوں سے اس ملک کے غریب عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ ملک میں ہر حکومت نے ہمیشہ اپنی کرسی بچانے اور اقتدار کو طول دینے کے لئے اسی طبقے کو تقویت دی اور اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے ایک دوسرے پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کیا اور بجائے قانون پر عملدرآمد کرنے کے اس کو اپنے لئے بار گیننگ چپ کے طور پر استعمال کیا۔ اگر آپ نے بھی ایسا ہی کیا تو پھر الیکشن مہم کے دوران آپ کی جانب سے کئے گئے بلند و بانگ دعوے صرف زبانی جمع خرچ ثابت ہوں گے۔ آپ سے قوم توقع رکھتی ہے کہ اپنی جماعت کی جگ ہنسائی سے بچنے کے لئے ملکی مفاد کو قربان نہیں کریں گے۔ آپ نے ملک کو بد عنوانی کے عفریت سے نکالنے کے لئے جہاد کی ٹھانی تھی ، اتنی جلدی ہمت نہ ہاریں بلکہ اس جنگ میں انتہائی کٹھن اور مشکل فیصلے کرنے سے گبھرائیں نہیں۔ مسائل زدہ عوام نے آپ سے بہت سی امیدیں قائم کی تھیں خدارا انہیں ٹھیس نہ پہنچائیے گا۔ جناب وزیرِ اعظم آپ اپنے وعدے کا پاس کریں ورنہ اس سے قبل یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ وعدہ کوئی قرآن حدیث نہیں ہے۔وعدوں کے بارے میں خراب تاثر ابھرا ہے، خدا کو گواہ ٹھہرا کر اٹھائے ہوئے حلف اپنی خواہشات، ہوس اور مفادات کے پاؤں تلے کچل دیتے ہیں کہ ہوس اور مفادات کے نہ صرف ہاتھ لمبے ہوتے بلکہ ان کے پاؤں بھی بھاری ہوتے ہیں۔

معروضی سچائی یہ ہے کہ ملک کے فرسودہ اور اشرافیائی نظام کے خاتمہ پر کوئی دو رائے نہیں ہے جب کہ عوامی امنگوں اور گراں بار مسائل کے حل کی ٹھوس ضمانتوں سے ہم آہنگ ایک ایسے شفاف، منصفانہ اور انصاف و مساوات سے مشروط سیاسی، سماجی و معاشی نظام کی ضرورت ہے جسے عوام کی اکثریت اپنی محرومیوں اور جمہوری ثمرات کا ناگزیر نتیجہ اور متبادل قرار دے۔ سیاسی و معاشی مسائل کے حل کے لئے کسی کو تو طبلِ جنگ بجانا ہی تھا آپ نے اگر یہ طبل بجا کر عوام کے دلوں میں امید کی جوت جگائی تھی تو اب فیصلے کی سنجیدہ گھڑی میں آپ نے قوم کو جو نئے پاکستان کی بشارت دی ہے اس کے جمہوری خوابوں کی حقیقی تعبیر دلائیں ۔


ای پیپر