افغانستان میں امن معاہدہ
22 فروری 2020 2020-02-22

دونوں فریقین امریکا اور افغانستان طالبان نے تصدیق کر دی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے دونوں کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے۔ افغانستان کے صدر کے ترجمان نے بھی معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔دونوں فریقین کے درمیان مجوزہ معاہدے کی دستاویز ابھی تک منظرعام پر آئی نہیں ہے ،لیکن متعلقہ فریقین نے کہا ہے کہ معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل چند عبوری دن ہونگے جس میں جنگ بندی ہو گی۔ دونوں طرف سے پرتشدد کارروائیاں نہیں ہو نگی، اگر ان عبوری دنوں میں دونوں فریقین نے جنگ بندی کی پاسداری کی تو پھر بنیادی معاہدے پر اس مہینے کے آخر میں یا مارچ کے ابتدائی دنوں میں دستخط ہو نگے۔جب تک معاہدے کا اصل مسودہ سامنے نہیں آتا اس وقت تک کچھ کہنا ممکن نہیں ہے کہ آیا اس معاہدے کے بعد افغانستان میں فوری طور پر امن کا قیام ممکن ہوسکے گا کہ نہیں ؟لیکن اس وقت افغانستان کی جو داخلی صورت حال ہے اس سے لگ رہا ہے کہ امن معاہدہ ہوجانے کے بعد بھی قیام امن کے لئے بہت کچھ کرنا ہو گا۔اگلے چند مہینوں میں افغانستان میں امن معاہدہ اور وہاں سے فوجی انخلاء کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی ضرورت ہے، اس لئے کہ گزشتہ انتخابات میں انھوں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس غیر ضروری جنگ کو ختم کر یں گے۔چند مہینے بعد امریکا میں دوبارہ صدارتی انتخابات کے لئے انتخابی مہم شروع ہونے والی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں امن معاہدے اور وہاں سے فوجی انخلاء کو اس مہم کا بنیادی اور مرکزی نقطہ بناکر عوام سے دوسری مدت کے لئے ووٹ لینے کے لئے اپیل کر یں گے، اس لئے یہ معاہدہ افغانستان میں قیام امن سے زیادہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی ضرورت ہے جس کے لئے وہ ہر ممکنہ حد تک جانے کی کوشش کریں گے۔

فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ یہ معاہدہ افغانستا ن کی سیاسی اور امن و امان کی صورت حال اور مستقبل کو مد نظر رکھ کر نہیں کیا جارہا ہے بلکہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم اپنی سیاسی ضرورت اور صدارتی انتخابات میں کامیابی کو سامنے رکھتے ہوئے افغان طالبان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔گزشتہ بر س جب افغان طالبان کے ساتھ معاہدے کا مسودہ تیار ہو گیا تھا۔ نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد مسودے پر حتمی بات چیت اور دستخط کرنے کے معاملے پر کابل کے دورے پر تھے تو صدر ٹرمپ نے ان کو اعتماد میں لئے بغیر افغانستان طالبان کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر دستخط کرنے اور مزید مذاکرات معطل کر دئیے تھے۔امریکی وزیر خارجہ پمپیو نے بھی مجوزہ معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔اب سوال یہ ہے کہ امریکا دوبارہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر کیوں مجبور ہو ا؟ وہی معاہدہ کہ جس پر چھ مہینے قبل انھوں نے دستخط کرنے سے انکار کیا تھا اب اس پر دستخط کرنے پر راضی کیوں ہوا؟حالانکہ طالبان کی پرتشدد کارروائیاںاسی طر ح جاری ہے۔

اس تمام صورت حال کو سامنے رکھتے ہو ئے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو احساس ہو گیا ہے کہ صدارتی انتخابات میں افغانستان کا مسئلہ ان کی کامیابی کی ضمانت ہے ، اس لئے انھوں نے نہ صرف افغانستان طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کئے بلکہ پرانے معاہدے پر ان کے ساتھ دستخط کرنے پر راضی بھی ہو گئے۔امریکا کا افغان طالبان کے ساتھ مجوزہ معاہدہ مکمل طور پر بدنیتی اور ذاتی مفادات پر مبنی ہے۔اس معاہدے سے صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کا مقصد ہر گز افغانستان میں قیام امن نہیں بلکہ

افغانستان کے مسئلے کو اپنے سیاسی مقاصد اور صدارتی انتخابات میں کامیابی کے لئے استعمال کرنا ہے۔ اس بات کی فی الحال کوئی ضمانت نہیں کہ صدارتی انتخابات کے بعد واشنگٹن اس معاہدے کی پاسداری کر یگا؟ابھی تک جو اطلاعات سامنے آئی ہیں اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ امریکا نے صدر ڈاکٹر اشرف غنی ،افغان طالبان اور حزب اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ معاہدے کے بعد طالبان ،ڈاکٹر اشرف غنی کو صدر تسلیم کرلیں گے؟ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ افغانستان کے مختلف سیاسی دھڑوں ، افغانستان کی حکومت اور افغانستان طالبان کے درمیان مذاکرات کس کی ذمہ داری ہوگی؟اس بارے میں ابھی تک کوئی حل سامنے نہیں آیا ہے۔ڈاکٹر اشرف غنی چونکہ باضابطہ طورپر دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہو گئے ہیں ،اگر افغانستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور افغانستان کے طالبان اس بات پر متفق ہو جاتے ہیں کہ ملک میں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت تشکیل دی جائے اور ان کی نگرانی میں دوبارہ صدارتی انتخابات ہوں ،تو کیا ڈاکٹر اشرف غنی صدارت سے دستبردار ہو کر قومی حکومت کے تشکیل پر راضی ہو جائیں گے ؟ میرے خیال میں ڈاکٹر اشرف غنی ہرگز اس کے لئے تیار نہیں ہو نگے ،اس لئے کہ وہ عوام سے رائے لے کر منتخب ہو ئے ہیں ۔وہ اور ان کی ٹیم کبھی بھی اس پر تیار نہیں ہوگی کہ وہ حکومت کو دوسرے لوگوں کے حوالے کریں۔

اگر صورت حال یہی ہے تو پھر امن معاہدے کے بعد افغانستان کا مستقبل کیا ہوسکتا ہے؟میرے خیال میں دو صورتیں ممکن ہے ۔ ایک یہ کہ امریکا افغانستان کو تنہا چھوڑ کر واپس چلا جائے اور کابل کو علاقائی ریاستوں ، پاکستان ، روس اورچین کے حوالے کر دیں کہ وہ ہاں پر امن کے قیام کو ممکن بنائے۔ امریکا یہ فیصلہ انتہائی صورت حال میں کریگا ، اس لئے کہ ان کی کوشش ہے کہ افغانستان سے چین اور روس کو دور ہی رکھا جائے۔دوسرا ،ممکن ہے کہ صدارتی انتخابات کے بعد امریکا دوبارہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے۔یہ بھی امکانات ہیں کہ جس طرح ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر معاہدے کے بعد انھوں نے اس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیاتھا ،اس طرح طالبان کے ساتھ معاہدے سے بھی انکار کردیں ۔بہرحال ہونا جو بھی ہے امریکا اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریگا ۔ موجودہ معاہدہ بھی اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر ،کررہا ہے اور مستقبل میں بھی جو کچھ وہ کریگا اپنے مفادات کو ہی سامنے رکھ کر، کریگا، اگر امریکا ، افغانستان میںامن میں سنجیدہ ہوتا تو وہ صدارتی انتخابات سے قبل معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرتا ۔ افغانستان میںصدارتی انتخابات کے بعد امن معاہدہ کابل میں امن کے لئے نہیں بلکہ وائٹ ہائوس پر دوبارہ قبضے کے لئے ہے ، اس لئے اسلام آباد کو بھی اپنے پتے سوچ سمجھ کر کھیلنے ہو نگے۔


ای پیپر