دو پونڈ کا کیک اور ہماری مشکلات
22 فروری 2020 2020-02-22

آج میرے کالم کا موضوع دیکھ کر یقینا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر اس میں ایسی کیا بات ہے کہ جسے کالم کا عنوان ہی بنا دیا گیا۔ واقعی میں خود بھی سوچ رہی تھی کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ لیکن یقین مانیں اگر آپ کا تجربہ مجھ سے ملتا جلتا ہوا، تو آپ بھی اس موضوع سے اتفاق کریں گے اگر نہیں بھی کریں گے تو بھی میری مشکلات تو برقرار رہیں گی۔ آج میں دوپونڈ کے کیک سے پیدا ہونے والی مشکلات سے آگا ہ کروں گی اور پھر اس کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالوں گی۔ جناب ہمارے ہاں ایک روایت ہے کہ جب بھی کوئی مہمان کسی کے گھر کسی دعوت میں شریک ہونے آتا ہے تو حسب روایت کچھ نہ کچھ لے کر آتا ہے اگر تو وہ کوئی جوس ، بسکٹ یا پھل لے آئے تو ہم بہت خوش ہوتے ہیں۔ کچھ مہمان اگر زیادہ ہی سمجھدار ہوں تو جاتے ہوئے بچوں کو کچھ پیسے تھما جاتے ہیں وہ بھی ہمیں بصد خوشی قبول ہیں اب بھلا گھر آئی لکشمی کو کون ٹھکراتا ہے؟ یقین مانیں ایسے مہمانوں کے صدقے واری ہونے کو جی چاہتا ہے لیکن جب کوئی ایسا مہمان آجائے جس کے ہاتھ میں دو پونڈ کا کیک ہو تو پھر صورت حال تھوڑی پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ کیک اگر چھ ماہ میں ایک بار آجائے تو بھی قبول ہے،لیکن تہواروں پراگر ایک وقت میں آٹھ دس کریم کیک آجائیں تو پھر آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہماری کیا حالت ہوگی۔ کیک اگر سادہ ہو پھر بھی کھایا جا سکتا ہے مگر ایک فل کریم کیک نما چیز زہر قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔ ایک طرف وزن بڑھاتے شوہر کی نظریں کیک پر ہوتی ہیں تودوسری جانب بچے بھی کیک دیکھ کر فورا اس کے اوپر سجی ساری چاکلیٹ پر ہاتھ صاف کرلیتے ہیں۔

اس کے بعد ایک بار تو سب گھر والے اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں مگر پھر بھی وہ پڑا رہتا ہے۔

اس سے اگلا مرحلہ ہوتا ہے اسے قاری صاحب کے سامنے پیش کرنے کا، ان کو بھی لگاتار دو دن ہی یہ کیک دیا جا سکتا ہے مگر تیسرے دن وہ بھی اس کوکھانے سے پہلے سونگھنے لگتے ہیں اور بچے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ اس دوران حرام ہے کہ کوئی دوست احباب ملنے آجائیں تاکہ ان کو چائے کے ساتھ پیش کیا جا سکے ۔ چارو ناچار اسے کام والی کے حوالے کرنا پڑتا ہے جو اسے بہت نخروں اور احسان کے ساتھ لے جاتی ہے۔ یہ تو ایک کیک کا حال ہے۔ ارے بھئی کوئی ان مہمانوں سے پوچھے اب پوری دنیا میں صرف ایک کیک ہی رہ گیا ہے لانے کو بیکری میں کوئی اور چیز نظر نہیں اتی، بندہ تھوڑا دماغ لڑا لیتا ہے بیکری میں ہزارہا نعمتیں ہیں، ایک صرف کیک ہی کیوں!

ہم نے تو اب کوئی تہوار ہو، میلاد ہو یا دعوت قریبی رشتہ داروں کو کہنا شروع کر دیا ہے کہ کیک مت لانا ، اس سے کیک کی آمدورفت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ عیدوں پر تو علی الاعلان بتا دیا ہے کہ کوئی بوتلیں لے آئے اور کوئی نان!

اس کیک کے اور بھی بڑے قصے ہیں ایک بار عید پر ہمارے گھر اتفاق سے چار کیک آگئے۔ ہم نے ان میں سے ایک کیک اپنے برادر کے گھر پہنچا دیا، وہ بھی شائد کیک کے ڈسے ہوئے تھے شام کو وہ کیک بڑی بہن کے گھر گیا مگر کوئی اس کو تکنے کو تیار نہ تھا، اگلے دن ایک اور رشتہ دار کے گھر سے ہوتا ہوا واپس وہ کیک شام کو ہمارے گھر پہنچ گیا اور ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

کیک سے یاد آیا ایک بار ہمارے میاں کے ایک دوست نے نیا گھر بنایا تو اس خوشی میں قرآن خوانی اور پرتکلف ڈنر کا اہتمام کیا۔ ہم نے سوچا کہ ان کو کوئی تحفہ دے دیتے ہیں ہم نے انہیں ایک بہت خوبصورت سینری دی ۔ باقی سب لوگ ہاتھ میں ڈبے اٹھائے لا رہے تھے ،مجھے تجسس ہوا کہ ان میں کیا ہے، ان کے کمرے میں دیکھا تو ان ڈبوں کی تین منزلہ عمارت کھڑی تھی ، میں نے سوچا ۔ ہو نہ ہو یہ کیک ہی ہوں گے۔

میں دل ہی دل میں پریشان گھر آگئی ۔ میاں صاحب سے کہا کہ ذرا اپنے دوست سے پوچھنا تو صحیح کہ ان ڈبوں میں سے کیا نکلا! پوچھنے پر پتہ چلاکہ سو میں سے پچانوے کیک ، چار مٹھائیاں اور ایک تحفہ تھا جو مابدولت نے دیا تھا ، ہم نے پوچھا کہ پھر آپ نے ان کیکوں کا کیا کیا تو انہوں نے بتایا کہ آدھا گھر شوگر کا مریض ہے اس لیے جو مہمان جاتا تھا اس کو ایک ڈبہ پکڑا دیتے تھے پھر محلے میں بھی کیک بانٹے، مگرختم نہ ہوئے ، کام والی کو بھی تین چار دے دئیے کہ وہ بھی رشتہ داروں میں بانٹ دے غرض یہ کہ سارا دن کیک کی بندر بانٹ ہوتی رہی۔

بس ہم نے تو اب یہی حل سوچا ہے کہ ہر مہمان کو پہلے سے بتائے دیتے ہیں کہ ہم سب کو میٹھا منع ہے آپ تکلف مت کیجئے گا ! یا تو بچوں کو پیسے دے جاتے ہیں یا پھر کوئی جوس ، بسکٹ یا پھل لے آتے ہیں۔ یہ مشکلات بتانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ کسی کے گھر جائیں تو ان کے مزاج کے مطابق چیز لے کر جائیں اور خدارا کیک آخری آپشن نہیں ہے آپ کچھ بھی لے جا سکتے ہیں! کیک کے بعد ایک اور اہم چیز ، کوئی بیمار ہو تو یہ لازمی نہیں آپ پھل ہی لے کر جائیں۔ اگر ہر عیادت کرنے والا پھل لائے گا تو بیمار آخرکتنا پھل کھائے گا ؟ پھل بہت جلد خراب ہوجاتے ہیں۔ ایک بار میاں صاحب بیمار ہوئے تیس کے قریب مہان ایک ہی طرح کے پھل لے آئے جو دو دن میں ہی سڑ گئے۔ پیسے بھی ضائع ، رزق بھی ضائع۔ ہمیں کسی کے گھر کچھ لے جانا ہے تو ایسی چیز دیں جو ضرورت کی ہو استعمال ہوسکتی ہو، ان کی پسند کی چیز بھی لے جا سکتے ہیں۔ کوئی ضروت مند بیمار ہے تو ایک لفافہ میںمیں کچھ رقم بھی ڈال کر دی جا سکتی ہے۔ اس موضوع پر بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ خلوص سے کسی کے لیے رقم خرچ کر کے کچھ لے کر جائیں مگر دوسرے کے لیے وہ ایک بوجھ ہو تو اس کا کیا فائدہ؟

ایسی چیز لے جائیں جو ان کے کام آسکے۔

مہنگائی کے اس دور میں اگر اپنی خوشی سے کسی کے لیے کوئی ایسی چیز لے جائیں جو ان کے کچھ دن کام آ سکے تو یہ بھی ایک طرح کی خیر سگالی ہے۔ اس سوچ کو سامنے رکھیں گے تو میزبان خوش بھی ہوگا اور دعائیں بھی دے گا۔


ای پیپر