شعبہ صحت تباہی کے دہانے پر!!!
22 فروری 2020 2020-02-22

پاکستان میں عام اور غریب آدمی کے صرف دو بڑے مسائل ہیں اور وہ ہیں مہنگائی اور صحت سے متعلقہ معاملات ، ہم نے اپنے کالموں کے ذریعے جناب وزیر اعظم عمران خان کو کئی دفعہ یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ تحریک انصاف جس ریاست مدینہ کا نعرہ بلند کر کے اور تبدیلی کے خواب ، لوگوں اور بالخصوص عام اور غریب لوگوں کی آنکھوں میں سجائے اقتدار میں آئی ہے ، ابھی تک حکومت اس تبدیلی اور ریاست مدینہ کے اُس منہج کو قائم کر نے میں انتہائی بُری طرح ناکام رہی ہے ۔غریب آدمی کی ان دونوں بڑی ضرورتوں کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہو سکا ۔ ہاں ! البتہ اتنا ضرور ہے کہ پچھلے کچھ دنوں میں مہنگائی کے جن کو کنٹرول کر نے کے لئے وزیر اعظم عمران کان کافی حد تک سنجیدہ نظر آئے ہیں اور مارکیٹ میں اس سنجیدگی کے خاطر خواہ مثبت نتائج بھی دیکھنے کو ملے ہیں ۔ اگر جناب وزیر اعظم اس حوالے سے مزید کسی سنجیدگی کا مظاہرہ دکھائیں تو مجھے یقین ہے کہ مصنوعی مہنگائی کر نے والے مافیاز جو ان کے آس پاس ہی بیٹھے ہیں ، جنہوں نے گذشتہ کچھ سالوں میں غریب عوام کے حق پر ڈاکہ دالتے ہوئے اربوں اور کھر بوں کے اثاثے بنائے ،اپنی اوقات میں آسکتے ہیں اور میرا قیاس ہے کہ وزیر اعظم کو ان مافیاز کے فراڈ کا ادراک بھی ہو چکا ہے اور واقفان حال اس بات کی بھی تصدیق کر رہے ہیں کہ آئندہ کچھ روز میں مہنگائی کو کنٹرول کر نے کے حوالے سے کئے جانے والے معاملات مزید بہتر ہو سکیں گے۔

میری دعا ہے کہ یہ حکومت کامیاب ہو سکے ۔ کیونکہ لوگ پہلے ہی ایسے نعروں سے اکتائے ہوئے ہیںاور اب جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانے کا دبنگ اعلان کیا ، لیکن ابھی تک حکومت سوائے ’’پناہ گاہوں ‘‘ کے علاوہ مزید کوئی ایسا فلاحی منصوبے پر کام نہ کر سکی ہے جسکی وجہ سے لوگوں کا ایسے نعروں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے اور اب مستقبل میں کوئی شخص یا سیاسی جماعت ،خلوص نیت کے ساتھ بھی اس طرح کے کسی نعرے کو اپنا منشور بنائے گی تو عوام اس پر اعتماد کر نے سے قاصر ہو نگے ۔

قارئین! جہاں تک شعبہ صحت کا معاملہ ہے تو مجھے یہ بات لکھتے ہوئے انتہائی افسوس ہو رہا ہے کہ پنجاب کا شعبہ صحت تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یہاں خاتون کو وزیر صحت بنایا ہے۔ہر گزرتے دن کے ساتھ شعبہ صحت کے معاملات خراب ہوتے جا رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے پاکستان کا عا م اور غریب شہری جس اذیت میں مبتلا ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اسے اپنے اور بچوں کے علاج کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں ، جلاد نما افسروں کی گالیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور آخر میں رسوائی اس کا مقدر ٹہرتی ہے ۔ یہاں میں بالخصوص ذکر کر نا چاہوں گا لاہور کے سر کاری ہسپتالوں کی حالت زار کا کہ یہاں کس طرح معاملات چل رہے ہیں ۔ لوگوں کو کیسے نت نئے طریقوں سے ذلیل کیا جاتا ہے اور پھر ان کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے افسران انجوائے کرتے ہیں ۔

قارئین محترم !تبدیلی سر کار میں بجائے ہسپتالوں کے معاملات بہتر بنائے جاتے ، پہلے سے بھی زیادہ بد تر ہو گئے ہیں اور ان حالات پر ایکشن لینے والا کوئی نہیں ۔ جب کسی کا دل چاہتا ہے معاملات مزید خراب کر کے بیٹھ جاتا ہے جس کا ثبوت نوجوان صحافی بلال چوہدری کی رپورٹ ہے جس کے مطابق لاہور کے چھ بڑے ہسپتالوں میں اہم تشخیصی مشینوں کی شدید کمی ہے ۔ تقریباََ سوا کروڑ آبادی والے شہر کے ہسپتالوں میں صرف چھ ایم۔آر۔آئی اور نو سی۔ٹی سکین مشینیں موجود ہیں ۔ اس میں سے دو ایم۔آر۔آئی اور دو سی۔ٹی سکین مشینیں خراب ہیں ۔ آپ حالات کی نزاکت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جناح ہسپتال کی واحد ایم۔ آر۔آئی مشین پچھلے تین مہینوں سے خراب جبکہ جناح ہسپتال کی ایمرجنسی کی سی۔ٹی سکین مشین اور انجیو گرافی مشینیں بھی خراب پڑی ہیں ۔ لاہور جنرل ہسپتال جس میں سب سے زیادہ ایمرجنسی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور جو لاہور کا سب سے بڑا دماغی امراض کے علاج کا ادارہ ہے وہاں کی انتہائی اہم، ایم۔آر۔آئی مشین بھی خراب پڑی ہے ۔ جبکہ مئیو ہسپتال جو کسی دور میں ایشیا ء کا سب سے بڑا ہسپتال سمجھا جاتا تھا،یہاں بھی ایک سی۔ٹی سکین مشین ، دو وینٹی لیٹرز اور تین اینستھزیا مشینیں ناکار ہ حالت میں موجود ہیں ۔ گائنی سے متعلقہ معاملات کی سب سے زیادہ سہولیات دینے والے شہر لاہور کے واحد گنگا رام ہسپتال دو وینٹی لیٹرز اور دواینستھزیا مشینیںخراب پڑی ہیں ۔ ایسے ہی بچوں کے علاج کے لئے بنائے جانے والے چلڈرن ہسپتال میں ویینٹی لیٹر خراب اور انتہائی نگہداشت اور سیریس مریض بچوں کے ایم۔آر۔آئی اور سی۔ٹی سکین ٹیسٹوں کے لئے کئی کئی دن کا وقت دیا جا رہا ہے ۔ سر وسز ہسپتال میں تین اینستھزیا مشینیںناکارہ حالت میں موجود ہیں ۔ یہ صرف لاہور کے سر کاری ہسپتالوں کی صورتحال ہے ، باقی پنجاب میں کیا حالات ہونگے آپ بخوبی جان سکتے ہیں ۔ یہی وہ معاملات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کا غریب اور عام آدمی ذلیل ہوتا ہے اور قرضے لیکر اور سود پر رقم حاصل کر کے اپنے پیاروں کا علاج پرائیویٹ ہسپتالوں اور لیبارٹریوں سے کروانے پر مجبور ہو جا تا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیرا عظم جناب عمران خان تباہی کے دہانے پر کھڑے پنجاب کے شعبہ صحت پر بھی خصوصی توجہ دیں اور جیسے مہنگائی کو کنٹرول کر نے کے حوالے سے جامع حکمت عملی مرتب کی گئی ہے صحت کے شعبے پر توجہ دیتے ہوئے لوگوں کو آسانیاں فراہم کر نے کی مربوط پالیسی بنائی جائے۔


ای پیپر