حاکم کا عرق جبیں، عرق معطر ہے
22 فروری 2020 2020-02-22

آخر ہم ہیں ہی کیا ’کیڑے مکوڑے‘؟ حکمران ہمارے جان و مال کے تحفظ کو کیونکر یقینی بنائیں کہ وہ تو اپنے سامان تعیش میں مگن رہتے ہیں اور انہیں تو اپنے ہی معاملات سے فرصت نہیں ہو بھی کیوں عوام اور حاکم ایک جیسے تو نہیں ہیں کہاں نازک مزاج شاہاں اور کہاں دن بھر روزگار کے ہنگاموں میں گم گشتہ ہم لوگ کہاں یہ نفاست و نزاکت کی مجسم تصویر اور کہاں ہم دن بھر پتھرتوڑنے اور محرومیوں کا زہر پھانکنے والے کہاں یہ کہ انکے اک اشارئہ ابرو پر کئی سر تسلیم خم ہوجاتے ہیں کہاں ہم لوگ کہ ہماری چیخ و پکار سننے والا کوئی نہیں انکے ماتھے پر پڑنے والی ایک شکن کام کر جاتی ہے اور مزدور جسکی پیشانی پر پڑنے والی لکیروں کا سلسلہ ہی طویل ہے اسکی فریاد سننے والا کوئی نہیں حاکم کا عرق جبیں عرق معطر ہے اور غریب کا خون بھی پسینہ ہے یہ خوبصورت اور قیمتی لباس زیب تن فرماتے ہیں اور غریب کے دریدہ پیرہن سے اسکی مفلسی جھانک رہی ہوتی ہے انکی تو دوائوں میں بھی مشک ملایا جاتا ہے اور غریب کو دووقت کا کھانا تک میسر نہیں انکے پائوں زمین پر نہیں پڑتے اور غریب تو رہتا ہی دھول مٹی میں ہے شاید ہر وقت کا حاکم سمجھتا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اسکے فرائض میں شامل نہیں بلکہ غریب کے نام پر تو انکے ماتھے پر سلوٹیں پڑ جاتی ہیں سانحہ ساہیوال ہو یا ریلوے میں جانے والی انسانی جانیں کسی کو ان سے کیا غرض وہ کیڑے مکوڑے ہی تو تھے جس طرح کیڑے مکوڑے راہ چلتے کسی کے پائوں کے نیچے کچلے جاتے ہیں کسی کو کیا پتہ ایسے ہی عوام ہیں کہ کہیں بھی مسلے جائیں حکمرانوں کو اس سے کیا پچھلے دنوں لاہورگلبرگ میں کرائے کے مکان میں رہنے والا خاندان ایک ماہ کا کرایہ اکٹھا نہ کر سکا مالک مکان تقاضوں کی برچھیاں چلاتا خاتوں خانہ اس کو منتوں درخواستوں سے ٹالتی ہوگی کہ بھائی صاحب نو ہزار کرایہ

ہے پانچ ہزار ہوگیا ہے باقی بھی چند دنوں میں ہوجائے گا لیکن مالک کے تقاضے تھمنے کا نام نہ لیتے ہونگے وہ خاتون اپنے ڈیڑھ سالہ بچہ لئے ریل گاڑی کے نیچے آکر زندگی کے جھمیلوں سے کنارا کش ہوگئی حکمرانوں کو اس قیامت سے بھی کیا غرض؟ کیماڑی میں پر اسرار زہریلی گیس 14 افراد کی جان لے گئی جب کہ پانچ سو سے زائد افراد افراد براہ راست متاثر اور باقی تمام خوف کا شکار ہیں، متاثرہ علاقوں سے لوگ نقل مکانی کرنے لگے اسے بھی سویابین کی ڈسٹ کا نام دے کر نمٹا دیا گیا حالانکہ ڈاکٹرز کہہ چکے ہیں کہ سویا بین ڈسٹ الرجی سے کوئی جان سے نہیں جا سکتا۔

امریکا سے سویابین لے کر آنے والا بحری جہاز ہرکولیس ہفتہ 15 فروری کو علی الصباح تین بج کر 45 منٹ پر کراچی بندرگاہ کی برتھ نمبر 10 اور 11 پر لنگر انداز ہوا تھا۔ ماہرین کے مطابق جہاز سے سویابین کی ان لوڈنگ کے دوران اٹھنے والی ڈسٹ سے ہوا میں زہریلی آلودگی پیدا ہوئی اور اتوار 16 فروری کی شام 6 بجے کراچی بندرگاہ سے قریب ترین علاقے ریلوے کالونی کے شہری متاثر ہونا شروع ہوگئے۔

کمشنر کراچی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی جبکہ محکمہ قرنطینہ نے امریکی سویابین کو محفوظ قرار دیتے ہوئے زہریلی گیس کے پھیلاؤ کا سبب بنانے کا امکان رد کردیا۔ ڈائریکٹر جنرل پلانٹ پروٹیکشن فلک ناز نے بتایا کہ سویا بین میں کسی قسم کے خطرات یا مضر گیس کے اثرات نہیں ملے۔ 15 فروری کو قرنطینہ حکام نے ہرکولیس جہاز پر جاکر امریکا سے درآمدی سویا بین کا تجزیہ کیا اور قرنطینہ جانچ کی۔ تاہم اس کے نمونوں میں کسی قسم کے زہریلے اثرات نہیں ملے ادھر جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ ہوا کے ذریعے سویابین کے ذرات پھیلنے سے الرجی ہوئی اور دمہ کے مریضوں پر زیادہ اثر ہوا جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔ رپورٹ کمشنر کراچی کو بھجوا دی گئی ہے۔ ڈاکٹر اقبال چوہدری کا کہنا تھا کہ ہائیڈروجن سلفائیڈگیس کی رپورٹ درست نہیں۔ سویابین کے ذرات الرجک ہوتے ہیں، جو ڈسٹ الرجی کا باعث بنتے ہیں جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کراچی میں ہوا میں مضر ذرات جانچنے والے سرکاری آلات غیر فعال نکلے ہیں جائیکا نے 2007 میں پاکستان کو 11 ملین ڈالرز کے ہوا میں مضر ذرات جانچنے والے آلات تحفے میں دیئے تھے جوکراچی میں جائیکا کی طرف سے دیئے گئے آلات میں سے 3 نصب کردیئے گئے تھے

سویا بین جنوبی ایشیا میں ہے لیکن اس کی پچپن فیصد پیداوار امریکا میں ہوتی ہے تاریخ بتاتی ہے سویا بین ان پودوں میں شمار کئے جاتے ہیں جنہیں سب سے پہلے انسان نے کاشت کیا سویا بین کا آٹا غذائی خصوصیت میں گندم سے کہیں صحت بخش ہوتا ہے سویا پروٹین دل کی بیماریوں میںمفید ہے اعصاب اور دماغ کے لئے فائدہ مند ہے۔ سویابین میں موجود Sphingolipids کولون کینسر سے تحفظ فراہم کرتی ہیں ذیابیطس معدہ خون کی کمی کے علاوہ دیگر مریضوں کے لئے اس میں خاصی صحت کے حامل اجزاء پائے جاتے ہیں ادویاتی خصوصیات میںسویا کے خمیر شدہ بیج پسینہ آور اور قوت بخش ہیںجنہیں،سردرد، بخاربے خوابی،زود حسی اور سانس میں رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ای این ٹی اسپیشلسٹ ڈاکٹر قیصر سجاد کے مطابق سویا ڈسٹ سے ایسی الرجی نہیں ہوتی کہ بندہ جان سے جائے۔

نومبر 2019کراچی سے راولپنڈی آنے والی تیزگام ایکسپریس میں آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تین بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس واقعے میں 70 سے زائد مسافر ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔کیا اس سانحہ پر کوئی وزیر مستعفی ہو ا کوئی باز پرس ہوئی ؟آج تک اسکا کچھ بنا ؟ تو پھر کراچی میںجانے والی14جانوں کی کیا اہمیت۔ حکومت اپوزیشن کو تو ایک دوسرے کو زچ کرنے سے فرصت نہیں عوام کے دکھ درد کا مداوا کون کرے گا؟


ای پیپر