اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں!
22 فروری 2020 2020-02-22

(چودھویں قسط۔ گزشتہ سے پیوستہ)! اقتدار سنبھالنے سے چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان کو ون ٹو ون ایک ملاقات میں دیئے گئے مشوروں پر لکھے جانے والے کالموں کی یہ سیریز دم توڑنے والی ہے۔ اگلا کالم اس سلسلے کا آخری کالم ہو گا۔ پھر اس پر میں ایک کتاب شائع کروں گا۔ تا کہ سند رہے اپنے دوست کو صرف اور صرف قومی مفاد میں ، اور کسی حد تک اس کے ذاتی مفاد میں بھی کیا کیا مخلصانہ مشورے میں نے دیئے جن پر ایک فی صدبھی عمل نہ کر کے بے عزتی اور رسوائی کے اپنے اقتدار کے صرف ڈیڑھ برس بعد ہی وہ ایک ایسے مقام پر جا کر کھڑے ہو گیا ہے جہاں حکمران اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں جا کر ہوتے ہیں.... میں نے ان سے کہا تھا اس ملک کے ”اصل بادشاہ“ اس ملک کے بیورو کریٹس ہیں۔ ویسے تو مجھے پورا یقین ہے وزیر اعظم بننے کے بعد آپ نے بھی اس طرح ان کے چنگل میں پھنس جانا ہے جس طرح آپ سے پہلے حکمران پھنستے رہے ہیں۔.... اگر یہی کچھ ہونا ہے تو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے سے پہلے بڑے بڑے بیورو کریٹس کے خلاف جن اقدامات کے آپ دعوے کرتے رہے ہیں، ان پر عمل سے گریز فرمایئے گا۔ ورنہ یہ آپ کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں ہی آپ کے خلاف ایک محاذ بنا لیں گے۔ یہ آپ کو چلنے نہیں دیں گے.... میری بات سن کر خان صاحب ذرا ناراضگی سے بولے” ہم کوئی کرپٹ نہیں جو یہ ہمیں چلنے نہ دیں۔ ہم ان کو سیدھا کر دیں گے۔ بلکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے انہوں نے فرمایا

”ہم ان کو الٹا لٹکا دیں گے“۔ ہم کیوں ان کی طاقت سے خوف کھائیں؟۔ حسب عادت اس حوالے سے بھی انہوں نے لمبی لمبی چھوڑیں۔ فرمایا۔ ہم ان سے بڑے بڑے بنگلے چھین کر انہیں چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں شفٹ کر دیں گے۔ ہم ان سے بڑی بڑی گاڑیاں چھین لیں گے، ہم ان کے بچوں کو بڑے بڑے پرائیویٹ سکولوں سے اٹھا کر سرکاری سکولوں میں بھجوائیں گے۔ ہم سرکاری خرچ پر بیرون ملک ان کے علاج پر پابندی لگا دیں گے.... میں ان کی ساری باتیں سنتا رہا، مسکراتا رہا ، میں نے دوبارہ ذرا زور دے کر کہا ” آپ یہ نہیں کر سکیں گے، اس کے لئے ہلکی سی کوششیں آپ نے کیںیہ آپ کی حکومت کے لئے ایسے مسائل پیدا کر دیں گے، آپ بھی اس طرح ان کی ”غلامی“ پر آمادہ ہو جائیں گے جس طرح دوسرے حکمران بالآخر ان کے سامنے ہتھیار ڈالتے رہے ہیں.... میں نے اس خدشہ کا اظہار بھی کیا” آپ کے اقتدار کے حوالے سے سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ مجھے ایک پیج پر دکھائی نہیں دیتے۔ شریف بیورو کریسی میں شریف برادران کے چمچوں کی تعداد کا آپ کو شاید اندازہ نہیں۔ شریف برادران گزشتہ تیس پینتیس برسوں سے کسی نہ کسی شکل میں اقتدار میں رہے ہیں ، اس دوران سول بیورو کریسی کو انہوں نے بہت نوازا ہے۔ ان کی عادتیں بہت خراب کی ہیں۔ شاید اس لئے سول بیورو کریسی ان کی کرپشن میں کوئی رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے ان کے لئے آسانیاں پیدا کرتی رہی ہے، انہیں اس کے راستے دیکھاتی رہی ہے۔ اور اس کے بدلے میں خود بھی بے پناہ کرپشن اپنا حق سمجھ کر کرتی رہی ہے۔.... جس روز ملکی نظام واقعی ٹھیک ہو گیا ، احتساب کا عمل بلا تفریق شروع ہو گیا ، کرپشن کے معاملے میں بے چارے سیاستدان سول و غیر سول اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں بہت پیچھے کھڑے نظر آئیں گے۔.... میں نے اس ضمن میں انہیں ایک مثال دی۔ میں نے کہا ”چلیں آپ کی نظر میں شریف برادران اور زرداری کا شمار دنیا کے کرپٹ ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ ہم آپ کی یہ بات مان لیتے ہیں۔ مگر انہوں نے اربوں کھربوں کی جو کرپشن کی ہے اس میں سول بیورو کریسی ان کی مددگار ثابت نہیں ہوتی رہی؟ کیا سول بیورو کریسی نے انہیں اتنی بڑی اور بھاری کرپشن کرنے کی اجازت ”مفت“ میں دے رکھی تھی؟۔ اور سول بیورو کریسی کرپشن میں واقعی ان کی مدد گار ثابت ہوتی رہی تو ان میں کتنے افسران کو اب تک گرفتار کیا گیا ؟ نیب نے کتنوں پر کیسز بنائے؟ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ بلکہ ”نمک حرام“ کے برابر بھی نہیں۔ اسی سے آپ ان کی طاقت کا اندازہ لگا لیں۔ کچھ بیورو کریٹس بوجوہ گرفتار ہوتے بھی ہیں تو جیلوں میں ان کی ”کلاس“ ایسی ایسی سہولتیں انہیں فراہم کر دیتی ہے جو شاید انہیں اپنے گھروں میں بھی میسر نہیں ہوتیں.... ایک اور بات اس

موقع پر ان کی خدمت میں عرض کی۔ میں نے ان سے کہا ”جب ہمارے سیاسی حکمران اربوں کھربوں کی کرپشن کر کے قومی مفاد کو داﺅ پر لگا رہے ہوتے ہیں۔ اس ملک کی ”اصل قوتوں“ کو اس وقت یہ سب دیکھائی کیوں نہیں دیتا؟ وہ انہیں بروقت روکتی کیوں نہیں؟۔ ظاہر ہے وہ انہیں بروقت صرف اس لئے نہیں روکتیں بوقت ضرورت یا نظریہ ضرورت کے تحت ان کی اس کرپشن کو ان کے خلاف اور اپنے حق میں وہ استعمال کر سکیں۔ یہ عمل بھی ایک طرح کی کرپشن ہی ہے ، پر افسوس اس ملک کی اصل قوتوں کی اس کرپشن اور دیگر کرپشنوں پر انگلی اٹھانے کی کسی کو جرا¿ت نہیں ہوتی۔ بے چارے سیاستدان چونکہ “سافٹ ٹارگٹ“ ہیں سارے لٹھ لیکر ان کے پیچھے پڑے رہتے ہیں.... ”نامزد وزیر اعظم“ عمران خان سے اجازت لینے سے پہلے آخری بات میں نے ان سے میڈیا کے حوالے سے کہی۔ میں نے عرض کیا”آپ کو اقتدار میں لانے کے لئے کم از کم میرے نزدیک سب سے بڑا کردار میڈیا نے ادا کیا ہے۔ چاہے کسی کے اشارے پر ہی کیوں نہ کیا ہو پر میڈیا کا اس میں ایک بڑا حصہ ہے۔ آپ نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد میڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنانا ہے۔ مجھے پتہ ہے اپنے مزاج کے مطابق کسی صحافی یا اینکر کو آپ لفافہ نہیں دیں گے۔ ان کے دکھ سکھ میں شریک بھی نہیں ہوں گے۔ پر میری آپ سے گزارش ہے اپنے مزاج کے خلاف ہی سہی قلم کاروں اور صحافیوں کو عزت ضرور دیں۔ خصوصاً جو قلم کار جو صحافی جو اینکرز آپ کے مشکل اور آزمائش کے وقت میں آپ کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے، دوچار ماہ بعد ان کے ساتھ ایک آدھ ملاقات ضرور کر لیا کریں، یا کم از کم انہیں فون ضرور کر لیا کریں۔ گو کہ میں جانتا ہوں اس طرح کی محبت مروت کے آپ قائل نہیں ہیں، بلکہ یہ آپ کی فطرت میں ہی نہیں ہے۔ پر جس طرح اقتدار حاصل کرنے کے لئے ، یا اقتدار میں آنے کے لئے بے شمار حوالوں سے مصلحت پسندیوں کا آپ مظاہرہ کرتے رہے ہیں، ایسی ہی مصلحت پسندی میڈیا کے حوالے سے بھی آپ اختیار کر لیں گے اس کے آپ کو بے پناہ فوائد ہوں گے۔ اس موقع پر انہوں نے کچھ صحافیوں کے نام لیکر کہا ”وہ شریف برادران کے خاص چمچے ہیں، انہیں لفافوں کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ ہم ان کی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتے“....جن سینئر صحافیوں کے انہوں نے نام لئے ان میں سے ایک دو کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا۔ ان کے حوالے سے خان صاحب سے میں نے کہا ”آپ کو کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر