پاکستان نے عالمی برادری سے بھارت کو باز رکھنے کی درخواست کردی
22 فروری 2019 (19:28) 2019-02-22

اسلا م آباد:وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوجیوں پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورت پرعالمی برادری سے بھارت کو جنگ کی آگ بڑھکانے سے باز رکھنے کی درخواست کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ درپیش صورت حال عالمی امن وسلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر انتونیو ندونگ مبا کو اپنے خط میں کہا ہے کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی سے خطے میں سیکیورٹی کی صورت حال بگڑ رہی ہے۔سلامتی کونسل کے صدر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا اپنے خط میں کہا کہ معاملے کی نوعیت کے احساس کے ساتھ آپ کو خط لکھ رہا ہوں کیونکہ درپیش صورت حال عالمی امن وسلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ میں پیش آنے والے واقعے کے فوری بعد بھارت نے بلاتحقیق پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی ہے اور بنا کسی ثبوت وشواہد کے پاکستان کودھمکیاں دینا شروع کردی ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل کے صدر سے کہا کہ بھارتی بے بنیاد الزامات کا تمام تر انحصارمشکوک مواد کی حامل سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک وڈیو ہے اور اپنی قیاس آرائیوں کو حقائق کا نام دینے کی کوشش کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی آپریشنل اور پالیسی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش میں ہے اوراپنی داخلی سیاسی وجوہات  کے باعث دانستہ طور پر پاکستان کے خلاف جارحانہ روایتی فتنہ پردازی کرکے ماحول خراب کررہا ہے۔نریندر مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم عوامی جذبات انگیخت کرنے اور بھرپور جواب کی دھمکی پر مبنی بیانات دے چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ عوام میں بہت غصہ ہے، لوگوں کا خون کھول رہا ہے، اگلا قدم ہماری فوج اٹھائے گی وقت اور مقام کیا ہونا چاہیے، کس شکل میں ہونا چاہیے، اس بارے میں فیصلے کی اجازت دے دی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی حکومت کے اعلی حکام دریاوں کے پانی روکنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جس سے قانونی طورپر طے شدہ سندھ طاس معاہدہ خطرات سے دوچار ہے۔وزیرخارجہ نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ پاکستان نے پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی الزامات کو پوری قوت سے مسترد کر دیا ہے، پاکستان نے ٹھوس شواہد کی فراہمی پر تحقیقات میں تعاون کی پیش کش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے دہشت گردی اور دیگر تنازعات پر بھارت کو بات چیت کی دعوت دی ہے تاہم پاکستان نے بھارتی جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پلوامہ واقعے کے بعد درپیش صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے پیدا کردہ ہیجان کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر تشدد کی نئی لہر مسلط کردی گئی ہے اور کشمیری عوام کو خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کا مطالبہ کرنے پر ظلم وتشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے مطابق تنازع کشمیر کا حل اور جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے انہیں استصواب رائے کا حق دینا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے کے لیے بھارت طاقت کا بے رحمانہ استعمال کررہا ہے اور بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے ان کے حق خودارادیت کو دہشت گردی قراردینے کا پروپیگنڈہ کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے حقائق کو توڑ مروڑ کر دنیا کو گمراہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کشمیری عوام کی قربانیاں اور جو مظالم انہوں نے اپنے حق کے لیے سہے ہیں وہ ان کی آزادی کی جدوجہد کا بذات خود ایک بڑا واضح ثبوت ہے۔


ای پیپر