کشمیر دھماکہ: سفارتی محاذ پر پاکستان کی پہلی فتح
22 فروری 2019 2019-02-22

وقت ایک سا نہیں رہتا۔ آج سے بیس سال پہلے ہونے والے 9/11 کا واقعہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک benchmark کی حیثیت رکھتاہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی جہاں عراق اور افغانستان پر حملہ کر کے انہیں کھنڈرات میں تبدیل کیا گیا وہاں پاکستان کو بھی پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی تاریخ کا حصہ ہے۔

اس موقع سے ساؤتھ ایشیاء میں انڈیا نے بطور خاص فائدہ اٹھایا اور دہشت گردی کے الزامات لگا کر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا اور الگ تھلگ کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا۔ 2001ء کے انڈین پارلیمنٹ پر حملے کا واقعہ ہو یا 2008ء کے ممبئی حملوں کی بات ہو اسی طرح پٹھانکوٹ میں انڈین فوجی کیمپ پر حملے ہوں یا اُڑی حملہ ہو ہر دفعہ اس کا الزام پاکستان پر لگا کر انڈیا نے ہماری ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور پاکستان کو دنیا کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنا پڑا جس میں ہماری سفارتکاری ہمیشہ شدید دباؤ میں رہ کر اپنی بقاء کی جنگ لڑتی رہی۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری بھارت کی سفارتی یلغار کا خاتمہ ہو گیا ہے اور پہلی دفعہ گزشتہ 20 سالہ سفارتی تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ سفارتی محاذ پر انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔ اگر پہلے والے حالات ہوتے تو مقبوضہ کشمیر میں 44 انڈین فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اب تک ایک تو اقوام متحدہ میں پاکستان پر پابندیوں کی قرار داد پیش ہو چکی ہوتی اور دوسرا اب تک امریکہ کی جانب سے ہمیں کب کا چارج شیٹ کیا جا چکا ہوتا مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس واقعہ کے بعد چند گھنٹے میں جس طرح بغیر ثبوت اور بغیر تحقیقات کے پاکستان کا نام لیا جانے لگا اس بات کا شدید خطرہ تھا کہ انڈیا کی جانب سے کوئی فوجی ایڈونچر کیا جائے گا مگر جب 72 گھنٹے گزر گئے تو واضح ہونے لگا کہ انڈیا ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ انڈیا کے اندر آوازیں اٹھنے لگیں کہ نریندر مودی اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لیے اپریل کے انتخابات میں come back کرنے کے لیے ایسا سوچ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو آنے والے الیکشن میں شکست کا سامنا ہے اور کانگریس کے آئندہ 5 سال اقتدار میں آنے کے امکانات واضح ہیں مودی حکومت پر اسلحہ اور جنگی جہازوں کی خریداری میں کمیشن خوری، قومی فی کس آمدنی میں کمی اور انتہاء پسندی کے فروغ جیسے ٹھوس الزامات کی وجہ سے ان کی شکست یقینی ہے۔

واقعہ ٹائمنگ بہت اہمیت کی حامل ہے اس کے دو

دن بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے تھے یہ دورہ پاکستان کے لیے اس واسطے بھی خصوصی اہمیت کا حامل تھا کہ یمن جنگ میں سعودی درخواست کے باوجود پاکستان کا سعودی عرب کا ساتھ دینے سے گریز کی بنا پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی گرم جوشی ختم ہو چکی تھی بلکہ موقع غنیمت جان کر انڈیانے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کر دیا تھا۔ عمران خان کی حکومت برسراقتدار آتے ہی ان دونوں ممالک کے تعلقات میں اصلاح احوال کا بیڑا ٹھایا گیا اور پاکستان نے دیکھتے ہی دیکھتے یہ دونوں مضبوط سفارتی محاذ انڈیا سے واپس چھین لیے۔ ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ پاکستان نے انڈیا کے مقابلے میں بہتر سفارتکاری کی بنیاد پر اچھا کھیل پیش کیا۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس دورے میں سعودی عرب کی طرف سے 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان اس تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ سعودیہ نے اس طرح کی 40 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری انڈیا میں کر رکھی ہے۔ ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ انڈیا میں یہ سرمایہ کاری سعودی عرب نے پاکستان سے مایوس ہو کر کی تھی جو (ن) لیگ کی حکومت کے دور کی بات ہے۔ لیکن اس کو دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں جب پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک میں سعودی سرمایہ کاری کے stakes اتنے زیادہ ہیں تو سعودیہ کبھی نہیں چاہے گا کہ دونوں ملکوں میں جنگ کی نوبت آئے۔ اس کا عملی مظاہرہ آپ نے دیکھ لیا ہے۔ سعودی ولی عہد کا پلان یہ تھا کہ اس نے پاکستان سے ملائیشیا جانا تھا مگر آخری وقت پر وہ دورہ منسوخ کر کے انہوں نے انڈیا جانے کو ترجیح دی تا کہ خاموش سفارتکاری کے ذریعے انڈیا کو باور کیا جائے کہ وہ پاکستان کے نقصان کا نہ سوچے۔ سعودیہ کی یہ پالیسی آئندہ بھی جاری رہے گی۔ یہ وہ بات ہے جو میڈیا میں نہیں آئی اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی پالیسیاں میڈیا میں نہیں بنتیں ان کا معاملات کو ڈیل کرنے کا اپنا مخصوص طریقہ ہے۔

بات سفارتکاری کی ہو رہی ہے کہ کس طرح پاکستان نے حالیہ مہینوں میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کیا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تعلقات کے نئے دور کے آغاز کے ساتھ ہی سپرپاور امریکہ کو باور کروایا گیا کہ افغانستان میں امن عمل پاکستان کے کردار کے بغیر ممکن نہیں ہے اس بات کا امریکہ نے برملا اعتراف کیا ہے۔ پاکستان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے امریکہ اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھا کر دونوں طرف سے اپنے آپ کو منوایا ہے۔ افغانستان امور پر امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اس بات کے گواہ ہیں۔

اس کے بعد خطے کی سب سے بڑی طاقت چائنا ہے۔ آنے والے دنوں میں ترک صدر طیب اردگان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد پاکستان کے سرکاری دوروں پر آنے والے ہیں تاریخو ں کا تعین ہو چکا ہے۔ ترکی اور ملائیشیا کی جانب سے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے پراجیکٹ پر دستاویزی کام مکمل ہے جس کا اعلان مذکورہ سربراہان کی آمد پر ہو گا۔

جو ایک یہ تاثر تھا کہ انڈیا نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کر دیا ہے وہ ہوا میں تحلیل ہو چکا ہے حکومت کی داخلی یا اقتصادی پالیسیوں پر آپ جتنی چاہے تنقید کریں مگر سفارتی میدان میں انہوں نے انڈیا کو پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے۔ نریندر مودی کے مذاکرات سے فرار پر عمران خان کا بیان small minds occupying big offices انڈین اشرافیہ بھی سن کر دنگ رہ گئی تھی۔ یاد رہے کہ مودی نے اپنے کیریئر کا آغاز ریلوے اسٹیشن پرچائے والا کے طور پر کیا تھا۔ انگریزی محاورہ ہے کہ "Once a PM, always a PM"

جسے ہم تھوڑی سی توسیع کے ساتھ یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں۔"once a tea boy always a tea boy"۔ یہ ساؤتھ ایشیائی خطے کی بدقسمتی ہے۔


ای پیپر