بھارت کیا چاہتا ہے۔۔۔؟
22 فروری 2019 2019-02-22

مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ واقعہ کے بعد بھارتی حکومت اور بھارتی میڈیا نے پاکستان کو اِس کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے پاکستان کے خلاف نفرت اور جنگی جُنون کو ہوا دینے اور آئے روز پاکستان کو الزامات اور دھمکیوں کا نشانہ بنانے کاجو سِلسلہ شروع کر رکھا ہے ضروری تھا کہ پاکستان کی طرف سے اِس کا مضبوط اورمسکت جواب دیا جاتا ۔وزیراعظم عمران خان کا اِس حوالے سے قوم سے خطاب بلاشبہ بڑا جاندار تھا اور اِس میں بھارت کو ہوش کے ناخن لینے اورپلوامہ واقعے کی تحقیقات کی ہر طرح کی مدد دینے کی پیشکش کے ساتھ یہ کہنا بڑا اہم تھا کہ بھارتی حملہ پر سوچیں گے نہیں جواب دیں گے۔تاہم اگلے روز منعقدہ قومی اسلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کی طرف سے کسی ممکنہ جارحیت اوربھارتی دھمکیوں کے جواب میں پاکستان کے جس موقف کا اظہار سامنے آیا ہے اِس سے بلاشبہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مضبوط موقف کی عکاسی نہیں ہوتی بلکہ اِس سے بھارت کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ پاکستان کے خلاف کسی طرح کی جارحیت کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہوتا ہے تو اِس کا مسکت جواب دینے کے لیے پاکستانی فوج کو فیصلہ کُن اختیارات دے دیے گئے ہیں۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کیا جانے والا علامیہ بلاشبہ بڑا تسلی بخش اور چشم کشا ہے ۔اِس میں جہاں بھارتی الزامات کے جواب میں پاکستانی موقف کو بڑی صراحت کے ساتھ اُجاگر کیا گیا ہے وہاں بھارتی الزامات کو مُسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی طور پر پلوامہ واقعے میں ملوث نہیں ۔پلوامہ حملہ بھارت کے اندر مقامی سطح پر پلان ہوا اورکرایا گیا ۔ بھارت کو سوچنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں تشدد کی کاروائیوں کا یہ ردِ عمل سامنے آرہا ہے ۔پاکستان نے مخلصانہ طور پر بھارت کو واقعہ میں تحقیقات میں مدد کی پیشکش کی۔پاکستان اب بھی دہشت گردی سمیت دیگر متنازع امور پر بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے اوراُمید کرتا ہے کہ بھارت پاکستان کی طرف سے تحقیقات کے حوالے سے پیشکش کا مثبت جواب دے گا۔اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے اِس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سر زمین استعمال کر نے میں کوئی ملوث پایا گیا تو سخت ترین ایکشن لیں گے ۔وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی سے اپنے خطاب میں بطورِ خاص کہا کہ دہشت گردی او رانتہا پسندی پاکستان اور پورے خطے کا مسئلہ ہیں۔پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے بڑا نقصان اُٹھایا۔پاکستان ستر ہزارقیمتی جانوں کی قُربانی اور بھاری مالی نقصانات برداشت کر چُکا ہے ۔ وزیراعظم عمران کے خان نے مزید کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت نے 2014ء میں دہشت گردی اور اِنتہا پسندی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان شروع کیاجس کا مقصد اپنی سر زمین سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑوں سے اُکھاڑ پھینکنا تھا۔ہم اِس پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہیں اور پاکستان کی ریاست کو کسی

صورت انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ریاست عوام کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اور کسی بھی قسم کی طاقت کاا ستعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے ۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا پلوامہ حملے میں ملوث نہیں ہے ۔ بھارت کے پاس حملے کے ثبوت ہیں تو پیش کرے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے کے تمام ہی نکات اہم ہیں اور ان سے بھارتی الزامات کے جواب میں پاکستان کے موقف کی ہی عکاسی نہیں ہوتی بلکہ پاکستان کے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑوں سے اُکھاڑ دینے کے عزم کی نشاندہی بھی ہوتی ہے ۔تاہم علامیے کا یہ نکتہ بلاشبہ ہر لحاظ سے اہم اور قابلِ غور ہے کہ پاکستانی فوج کو بھارتی جارحیت پر فیصلہ کُن جواب کا اختیار دے دیا گیا ہے ۔اِس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ بھارت اگر جنگی جنُون کو ہوا دے رہا ہے اوراُس کے دماغ میں پاکستان کے خلاف کسی طرح کی جارحیت کا سودا سمایا ہو ا ہے تو اِسے نکال دینا چاہیے کہ اُسے آگے سے ایسا جواب ملے گا کہ اُس کے لیے اِسے سنبھالنا شاید اُس کے بس کی بات نہ ہو۔اِس سے قبل وزیر اعظم عمران خان بھی جو یہ کہہ چُکے ہیں کہ بھارتی حملہ پر سوچیں گے نہیں جواب دیں گے اور جنگ شروع کرنا آسان لیکن ختم کرنا کسی کے ہاتھ میں نہیں ہوتا وہ بھی تقریباً اِسی موقف کی عکاسی ہے ۔پاکستان نے برسوں سے قومی سیاست میں متحرک مشہو ر تنظیم جماعت جماعتہ الدعوۃ اور اِس کی ذیلی رفاعی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ بھی پاکستان کی نیک نیتی کا ایک ثبوت ہے کہ بھارت مبینہ طور پر عرصے سے جماعتہ الدعوۃ کو کشمیر میں جہادی کاروائیوں میں ملوث قرار دیتا رہا ہے ۔ حالانکہ جماعتہ الدعوۃ اور اِس کی ذیلی رفاعی تنظیم فلاح انسانیت کی سر گرمیوں کا جہاں تک تعلق ہے پاکستان کا بچہ بچہ اِس سے آگاہ ہے کہ پاکستان کو جب بھی کسی طرح کی قُدرتی آفات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا توجماعتہ الدعوۃ اور فلاح انسانیت خدمت خلق میں پیش پیش رہی ہیں۔

بھارت کو ضرور ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور جان لینا چاہیے کہ پاکستان اُس کے ساتھ اپنے تنازعات کو طے کرنے کے لیے انتہائی مخلص ہے ۔ بھارت کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان کے خلاف کسی طرح کی جارحیت کا ارتکاب ایک تباہ کُن جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر مُنتج ہو سکتی ہے ۔اِس سے خطے کو جس تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اُس کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے ۔یقیناًیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے ہونے والی جنگ کا تصور ہی تھا جس نے 1987ء کے اوائل میں اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو اپنی فوجیں پاکستان کی سرحدوں سے واپس بُلا لینے پر مجبور کیا تھا۔ 1987ء کے اوائل میں بھارت نے "براس ٹیک"فوجی مشقوں کے نام پر دو لاکھ بھارتی فوج کو تباہ کُن اسلحے سمیت پاکستان کی سرحد پر لا کھڑ ا کیا تھا جس سے خطے بالخصوص پاکستان اور بھارت میں سخت کشیدگی پیدا ہو گئی تھی ۔اِس پر پاکستان کے اُس وقت کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے بھارت میں جاری پاک بھارت ون ڈے کرکٹ سریز کے جے پور میچ کو دیکھنے کا فیصلہ کیا ۔جنرل ضیاء الحق مرحوم کے اِس فیصلے کو مُلک میں پسند نہ کیا گیا اور بھارتی حکومت نے بھی اِس حوالے سے سرد میری کا اظہار کیا تاہم ضیاء الحق اپنے فیصلے پر قائم رہے اور دہلی کے ہوائی اڈے پر جا پہنچے ۔بھارتی وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی نے اُنکا بے دِلی سے استقبال کیا ضیاء الحق دہلی سے ایک روزہ میچ دیکھنے جے پور چلے گے ۔واپسی پر دہلی کے ہوائی اڈے پر اُن کی راجیو سے ملاقات ہوئی ۔وہ راجیو کو ایک طرف لے گئے اور اُس سے کہا مِسٹر راجیو آپ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں لیکن سوچ لیں کہ اِس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ میں اسلام آباد پہنچ کر فائر کا حکم دوں گا تو جنگ چھڑ جائے گی اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے وہ تباہی مچے گی کہ بھارت میں ایک ہندو بھی سلامت نہیں رہے گا ۔مسلمان اگر پاکستان میں ختم بھی ہو گئے تو پھر بھی دُنیا میں موجود رہیں گے کہ عالمِ اسلام میں بے شُمار ممالک شامل ہیں۔ضیاء الحق یہ کہہ کر پاکستان چلے آئے اور راجیو گاندھی نے اگلے ہی دن بھارتی فوجوں کو سرحد سے واپسی کے احکامات جاری کر دئیے۔جنرل ضیاء الحق کا یہ مکالمہ فرضی اور خیالی نہیں ہے ۔ راجیو گاندھی کے سیکرٹری(جس کا نام اِس وقت یاد نہیں آرہا ہے )نے چند سال قبل چھپنے والی اپنی کتاب میں بھی اِس کا ذکر کیا ہے ۔

بھارت اور پاکستان قریبی ہمسایہ ممالک ضرور ہیں لیکن یہ دونوں مُلکوں کی بدنصیبی ہے کہ اِن کے آپس کے تعلقات شروع سے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔اِس کی وجہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے وجود کو دِل سے قبول نہ کرنا ہے تواِس کے ساتھ بھارت کا کشمیر پر غاصبا نہ قبضہ جماناہے جو تمام تنازعات کی جڑ ہے ۔ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کے تحت وہ اِس بات کا پابند ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے اور وہ اِس بات کا فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت شروع میں ان قرارردادوں کو مانتا رہا رہے لیکن اب وہ ان سے مُکر چُکا ہے اور وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کر اُس پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے ۔کشمیری بھارت کے غاصبانہ قبضے کو کسی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں بھارت نے کشمیریوں کو دبانے کے لیے اپنی سات لاکھ فوج کشمیر میں بھیج رکھی ہے جو کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہی ہے ۔کشمیری اِس کے خلاف آواز ہی نہیں بلند کرتے بلکہ موقعہ ملے تو مسلح جوابی کاروائیاں بھی کرتے ہیں ۔پلوامہ واقعہ بھی اسی طرح کی ایک کاروائی ہے لیکن بھارت اِس کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں اُلٹا وہ پاکستان کو موردالزام ٹہرائے جا رہا ہے ۔پاکستان کے لیے بھی یہ بات ضرور سوچنے کی ہے کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اِتنی قُربانیاں دے چُکا ہے لیکن بڑ ی عالمی طاقتیں پاکستان کے موقف پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتی رہتی ہیں اور امریکہ جیسے ممالک پاکستان سے ڈومور (Do More) کاتقاضا کرتے رہتے ہیں۔آخر ایسا کیوں ہے ؟


ای پیپر