مصلحتوں سے پاک انصاف کی ضرورت
22 فروری 2019 2019-02-22

پیغمبر اعظم، ریاست مدینہ کے والی، اصحاب صفہ کے معلم قدس نبی آخر الزماںؐ عید کی نماز کے بعد گھر واپس تشریف لا رہے تھے کہ راستے میں ایک بچہ ملا۔ جو زار و قطار رو رہا تھا۔ آپ رحمت العالمین نے بچے سے رونے کی وجہ پوچھی، بچے نے کہا میں یتیم ہوں۔ میرے والدین نہیں ہیں۔ آپؐ نے اس سے محبت فرمائی۔ اس کے آنسو صاف کیے اور اسے ساتھ لے کر گھر تشریف لے آئے اور بچے سے کہا کہ آج سے میں آپ کا باپ ہوں۔ عائشہؓ آپ کی اماں ہیں اور فاطمہؓ آپ کی بہن ہیں۔ بچے کے بالغ ہونے تک اسے نبیؐ کے گھر آنے جانے میں کوئی ممانعت نہ تھی جب بچہ بالغ ہوا تو وہ بچہ اصحاف صفہ پر آپ کے زیر سایہ تربیت پانے لگا۔ یہ ایک سبق تھا۔ یہ ایک کردار تھا۔ یہ ایک واقع تھا۔ یہ ایک قول و فعل کی عمدہ و اعلیٰ مثال تھی جسے تاریخ نے اپنے سنہری حروف میں سمو لیا۔ یہ ایک واقعہ نہیں ہے۔ پوری سنت ایسے لاتعداد اور بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ان واقعات کا تعلق صرف بنی نوح انسان سے ہی نہیں تھا بلکہ آپ کی رحمت، شفقت، محنت سے چرند ، پرند، حیوانات تک یعنی مستفید ہوتے رہے ہیں۔

بقول عظیم نعت گو شاعر رضاء اللہ حیدر (سیرت ایوارڈ یافتہ)

مقدر جن کے رفعت میں سرِ افلاک پہنچتے ہیں

وہی بے کل تمنائی مدینے پاک پہنچتے ہیں

تخیل بھی کسی کا اُس جگہ پہنچا نہیں ہو گا

سرِ عرش علیٰ جس جا شہِ لولاک پہنچتے ہیں

ملی ہے روشنی آیات قرآن سے انساں کو

کہاں فہم و فراست، سوچ اور ادراک پہنچتے ہیں

یہاں تک میرا خیال ہے کہ ریاست مدینہ کی بات کرنے والوں نے تاریخ اسلام، بالخصوص تاریخ مدینہ اور نبیؐ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔

ہمارے ایک دوست پر نسپل شپ کے لیے انٹرویو

دینے گئے۔ پینل کے چیئرمین نے موصوف نے پوچھا یہ ’’پیڈا‘‘ کونسی اصطلاح ہے۔ (یہ گورنمنٹ ملازم کے لیے ایک قانون ہے جس کے تحت اس ملازم پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس ایکٹ کے تحت سروس سے برخاست کر دیا جاتا ہے) موصوف نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور فوراً جواب دیا یہ جواب تو وہ شخص ہی بتا سکتا ہے جس پر ’’پیڈا‘‘ لگا ہوا ہو۔ یتیمی وہ پیڈا ایکٹ ہے جو جس معصوم پر لگتا ہے وہ ہی بہتر جانتا ہے۔ یتیمی وہ اژدہا ہے جو ساری عمر یتیم کو ڈستا رہتا ہے۔۔۔ یہ وہ زخم ہے جو یتیم کی حیات کے لیے ناسور بن جاتا ہے۔۔۔ ہمارے ہاں یتیم سے پہلے اس کے عزیز و اقارب پہلو تہی کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ اس کے دور و نزدیک کے رشتہ دار بھی اپنا تعلق قطع کر لیتے ہیں۔پھر لے دے کے معاشرہ رہ جاتا ہے جو اس یتیم کے لیے بہت بڑا ظالم بن جاتا ہے۔ یہی وہ نفسیاتی اور معاشرتی پہلو ہیں جو اچھے خاصے بچے کو معاشرے کا ناکارہ ترین انسان بنا دیتے ہیں۔ اگر ہم جرائم کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو ہمیں بہت سی ایسی مثالیں ملیں گی جن میں اکثر و بیشتر مجرم یتیم بچے ہی ہوتے۔ ان بچوں کے سر پر باپ یا ماں کا سایہ نہیں ہوتا اور انہیں معاشرے کی اونچ نیچ سکھانے والا ان کے سر پر کوئی اور سرپرست نہیں ہوتا۔ جس کی بنا پر بچے خود سری کا شکار ہو جاتے ہیں اور جو جی میں آیا کر گزرتے ہیں۔ پھر ایک ایسی سٹیج آتی ہے جہاں اُنہیں سماج بھی قبول نہیں کرتااور وہ جرم اور گناہ کے گھناؤنے جنگل میں نکل جاتے ہیں۔ قارئین ایسا ہی ایک دلخراش واقعہ لاہور میں رونما ہوا ہے جس کو پڑھ کر انسان خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

احمدکب یتیم ہوااسے خودبھی معلوم نہیں۔کہتا ہے یاد نہیں باباکیسے ہوتے ہیں۔لاہورگرین ٹاؤن میں ماں کے ساتھ رہتا ہے۔

16فروری کو نامعلوم نوجوان 9 سالہ شہزادے کو کسی بہانے بائیک پربٹھاکر موبائل کی دکان پرلے گیا۔ دکاندار سے ایک موبائل لیا۔ احمد کو چھوٹا بھائی بتایا اور موبائل گھر دِکھانے کے بہانے چلا گیا۔ دکاندار نے نوجوان کے واپس نہ آنے پر پولیس بلائی جو احمد کو تھانہ چوہنگ کی شیر شاہ چوکی لے گئی۔

احمد کے لاپتہ ہونے پر ماں تڑپتی رہی۔ تھانہ گرین ٹاؤن میں گمشدگی کی رپورٹ کرائی اور تین دن سڑکوں پربھٹکتی رہی۔

19 فروری کو پولیس اسٹیشن سے کال آئی کہ اپنا بچہ لے جائیں لیکن اس سے پہلے قیامت ٹوٹ چکی تھی۔

پولیس اہلکاروں نے احمد کوجلتے ہیٹرپربٹھاکرتفتیش مکمل کر لی تھی۔

کہتا ہے ’’پولیس انکل ہیٹر پر بٹھا کر پوچھتے رہے بتاؤ تمہارا ساتھی کہاں ہے؟ وہ روتا رہا۔ قسمیں کھاتا رہا کہ وہ اسے نہیں جانتا لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔۔۔اب یوں ہو گا۔۔۔

نوٹس لیا جا چکا۔ اہلکار معطل اور گرفتار کر لئے گئے۔ ضمانت پر رہائی ہو گی۔بیوہ خاتون پر دباؤ ڈالاجائے گا۔ صلح پر مقدمہ ختم ہو گا اور یہی ذہنی مریض اہلکار کسی اور تھانے میں ایک اور احمد کو گرم ہیٹر پر بٹھا کر تفتیش کر رہے ہوں گے۔

اورایسا اس لئے ہو گا کیونکہ کراچی میں اہلکاروں نے دن دیہاڑے سرفرازکو مار دیا۔ صدرمملکت نے سزائے موت معاف کر دی۔۔۔

سانحہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی نے بچوں کے سامنے ماں باپ اور بہن سمیت چار افراد سرعام قتل کر دیئے تفتیش جاری ہے۔12مئی کو کراچی میں قتل عام ہوا۔تفتیش جاری ہے۔۔۔ایس ایس پی راؤ انوار نے نقیب اللہ کو بیگناہ مار دیا۔۔تفتیش جاری ہے۔

اسی طرح احمد پر ظلم کی تفتیش بھی ہمیشہ جاری رہے گی۔۔۔اور۔۔۔

جب تک مصلحتوں سے پاک انصاف نہ ہوا،یوں ہی ہوتا رہے گا۔


ای پیپر