بھارت انجام پر نظر رکھے
22 فروری 2019 2019-02-22

پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جارحانہ عزائم اور خطے کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر کردار ادا کرنے کا کہا اور یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر بھارت نے جارحیت کی تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دیگا۔وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو پلوامہ حملے میں بھارتی فوجیوں کے ہونیوالے جانی نقصان پر بھارت کی جانب سے پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشی پر قابل اعتماد انٹیلی جنس فراہم کرنے کی صورت میں تحقیقات کرنے کی پیشکش کی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ بھارت میں جب بھی دہشتگردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کے حکمران پاکستان دشمنی میں بغیر تحقیق کئے بلا تامل پاکستان پر الزامات کے نشتر چلانا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔نریندر مودی جس انداز میں جنگی دھمکیوں کے ذریعے پاکستان کو ڈرانے ‘دھمکانے کی کوشش کرتے ہیں شائد انہیں جنگ ہونے کی صورت میں انجام کا ادراک نہیں کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو کس پیمانے کی تباہی ہوگی مودی شائد اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے یہ تک بھول جاتے ہیں کہ پاکستان بھی ایٹمی قوت ہے۔بین الااقوامی ماہرین جنگ پاک بھارت جنگ کی صورت میں جو ہولناک پشین گوئیاں کر رہے ہیں اگر مودی سرکار اس تباہی کی عملی تصویر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو پھر شائد انہیں ادراک ہو کہ جنگوں میں نہ کبھی انا اور مفادات کی جیت ہوتی ہے اور نہ ہی بقاء سلامت رہتی ہے۔ماہرین جنگ کے دعوے پاک بھارت جنگ کی صورت میں جودہشت و وحشت اور ہولناک تباہی کا زائچہ کھولے بیٹھے ہیں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ ہونیوالی جوہری جنگ کے آغاز میں ہی دو کروڑ انسان لقمہ اجل بن جائیں گے یہی نہیں ہمسایہ ملک چین میں بسنے والے ایک ارب تیس کروڑ انسانوں کو یہ جوہری جنگ نگل جا ئے گی۔جوہری جنگ کے اثرات کے سبب غذائی اشیاء اور فصلات پر زہریلے ذرات اسے ناقابل استعمال بنا دینگے اور مستقبل قریب میں غذائی قلت کے باعث پاکستان اور بھارت سمیت ہمسایہ ممالک میں بسنے والے تقریبا دو ارب انسان بھوک کے ہاتھوں جان گنوا دینگے۔دنیا بھر میں زراعت کی پیداوار دس فیصد کم ہو جائیگی ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے دس لاکھ ٹن وزنی دھواں پچاس کلو میٹر بلندی تک

پھیل کر پوری دنیا پر سیاہ چادر بن کر چھا جائے گا۔کرہ ارض کے گرد اوزان کی ستر فیصد تک تہہ ٹوٹ جائے گی جس کے جان لیوا اثرات کے باعث بے شمار انسان اور حیوان مر جائیں گے پوری دنیا کا درجہ حرارت متاثر ہو گا۔اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے دوران ہیرو شیما جیسے ایٹمی دھماکے ہوئے تو نوے لاکھ سے ایک کروڑ بھارتی شہری اور پینسٹھ لاکھ سے نوے لاکھ تک پاکستان کے شہری زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جنگ کی صورت میں یہ وہ زمینی حقائق ہیں جن میں سامان عبرت اور امن کا پیغام پوشیدہ ہے۔ بھارت کو انجام پر نظر رکھتے ہوئے ہوش کے ناخن لینے چاہیے نریندر مودی کو بے بنیاد الزامات لگانے اور جنگی جنونیت سے نکل کر دو طرفہ متنازع معاملات کے حل کے لئے مذاکرات کا بند دروازہ کھولنے کی ضرورت ہے بارود کی زبان میں بات کرنے سے نہ سرحدیں محفوظ رہیں گی نہ بھارت کی زمین پر امن کی فاختہ چہچہائے گی پاکستان ترنوالہ نہیں جو بھارت کی گیدڑ بھبھکیوں سے ڈر جائے گا۔جنگ انسانی حیات میں موت بانٹتی ہے بھوک اور قحط کو جنم دیتی ہے مودی کو شدت پسندی سے گریز کرنا چاہیے دونوں ممالک کو چاہیےے کہ اپنا دفاعی بجٹ خط غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گذارنے والی عوام کی بہبود پر خرچ کرے تا کہ مفلوک الحال طبقہ آسودہ حال ہو ۔جنگ مسائل کا حل نہیں جنگوں کی تاریخ عبرت ناک سبق لئے ہوئے ہے ۔ایک سو سال قبل یورپ کے سیاستدانوں نے اپنے مفادات اور اقتدار کی خاطر وہاں کے لوگوں کو جنگ میں جھونک دیا تھا انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس کا انجام کتنا خطرناک ہوگا ۔جرمن کے ایک جنرل نے کہا تھا کہ ہم دو ہفتوں میں فرانس کو فتح کر لیں گے کسی کو اس بات کا گمان تک نہ تھا کہ اس جنگ میں کروڑوں فوجی سالوں تک تنگ مورچوں میں محصور ہو کر لڑتے رہیں گے۔دنیا کی پہلی عالمی جنگ سے لیکر اس کرہ ارض پر ہونیوالی جنگوں پر نظر دوڑا لیں امن کے لئے لڑی گئی جنگوں نے بھی انسانوں کے ہی گلے کاٹے جنگوں نے انسانی نادانیوں کے عوض راکھ اور خاک کے ڈھیر دئیے۔ بھارت کو چاہیے کہ امن کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر دور رس اور مؤثر ترین معاہدے تشکیل دے بھارت کی متعدد ریاستوں کے شہری علیحدگی کی خواہش دل میں لئے بیٹھے ہیں ان حالات میں بھارت کے لئے اور بھی ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کے فوری حل کے لئے مل بیٹھے کشمیریوں پر ریاستی جبر اور دہشتگردی کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد میں کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتاوقت اور اس کے تقاضے بدل چکے ہیں کسی پر اپنی مرضی مسلط کر کے اسے یرغمال نہیں بنایا جا سکتا بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ کشمیر پاکستان کے لئے شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے پاکستان کبھی بھی کشمیر کی اخلاقی اور سفارتی حمایت سے دستبردار نہیں ہو سکتا ۔پلوامہ حملہ کے بعد نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف متعدد بار زہر افشانی کی ان کا کہنا ہے کہ پلوامہ حملہ کے بعد بات چیت کا وقت ختم ہو گیا ہے اب کارروائی کا وقت ہے۔ پاکستان نے ان حالات میں ہمیشہ امن کی زبان میں بات کی اور بھارت کو مل بیٹھ کر معاملات سلجھانے کی دعوت دی لیکن بھارت نے پاکستان کے اس رویے کو ہمیشہ کمزوری سمجھا اور اپنی ہٹ دھرم‘انا‘تکبر کی پالیسی کو اپنائے رکھا اور پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ انڈیا سے تعلق رکھنے والی امن کی علمبردار بیس سالہ گر مہر کور کے والد انڈین فوج میں میجر تھے جو کارگل کی جنگ میں مارے گئے گر مہر کی دوسری کتاب ’’دی ینگ اینڈ دی ریسٹلس‘‘چند ہفتوں کے بعد شائع ہونے جا رہی ہے برطانوی نشریاتی ادارے نے پلوامہ حملہ کے بعد گر مہر سے بات کی تو اس کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت بدلہ لینے کی بات کرے تو کیا ہوگا؟بہت ہو گئیں بدلے کی باتیں بدلے سے کیا ملتا ہے کیا ہوتا ہے کیا پیدا ہوتا ہے؟میرے جیسے اور بچے جو اپنے ابو کے بغیر بڑے ہونے پر مجبور ہوتے ہیں ۔میں اپنے جیسے اور بچے نہیں دیکھنا چاہتی صرف اپنی سیاست چمکانے کے لئے اپنے فائدے کے لئے سینکڑوں بچوں کو جنگ کے منہ میں پھینک کر یتیم نہ کریں بس بہت ہو گیا۔ہم نے اوڑی پر فلم بھی بنا لی قوم پرستی اور حب الوطنی کے نعرے بھی لگا لئے لیکن بدلا کیا فائدہ کسے ہوا؟ٖفلم بنانے والی ایک کمپنی کو سیاستدانوں کو جو جوان اوڑی میں مارے گئے ان کے خاندانوں کو بچوں کو کیا ملا کبھی نہ ختم ہونیوالا درد۔۔۔مودی کے لئے بھارت کی زمین سے اٹھنے والی امن کی آواز غور و فکر کی متقاضی ہے مودی سرکار کو اپنے ملک اور سرحد پار ممالک میں امن کو تقویت دینے کے لئے پاکستان اور دنیا کے ساتھ مل بیٹھ کر دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے اور پاکستان کیساتھ جو متنازع مسائل دونوں ملکوں اور خطے کے امن کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنے کی سعی کرے تاکہ دونوں ممالک کے حکمران راکھ اور خاک کے ڈھیر پر بیٹھ کر نہ پچھتائیں۔


ای پیپر