بھیڑیں اور بھیڑئیے ۔۔۔بھیک اور بھوک
22 فروری 2019 2019-02-22

ہر دو الفاظ میں اگرچہ ’’بھیڑ‘‘ مشترک ہے لیکن دونوں میں چھُری اور خربوزے جیسا تعلق ہے۔ چھُری خربوزے کے اُوپر گِرے یا خربوزہ چھُری پر نقصان ہمیشہ خربوزے کا ہی ہوتا ہے۔ بچپن میں ابتدائی جماعتوں کے نصاب میں ایک کہانی پڑھی تھی کہ ایک ندی میں بھیڑ یا پانی پی رہا تھا کہ ایک بھیڑ کا بچہ بھی ندی کی اُس سمت سے جس سمت کو پانی بہہ رہا تھا ‘ بھیڑئیے سے کچھ دور نیچے سے پانی پینے لگا۔ بھیڑئیے سے برداشت نہ ہوا اور غصے میں آکر کہنے لگا کہ تمہیں نظر نہیں آتا میں پانی پی رہا ہوں اور تم پانی گندہ کر رہے ہو۔ بھیڑ کے بچے نے عاجزی اور انکساری کے ساتھ عرض کیا کہ حضور والا میں تو ادھر سے پانی پی رہا ہوں جدھر سے عزت مآب کی طرف پانی جا نہیں رہا بلکہ اُدھر سے نیچے آ رہا ہے۔ جواب سن کر بھیڑیا بپھر گیا اور بولا کہ ایک تو تم پانی گندہ کر رہے اور دوسرا مجھے جھوٹا بھی کہہ رہے ہو۔ قصہ مختصر بھیڑ کا بچہ پانی بھیڑئیے سے اُوپر کی جانب سے پئیے یا نیچے کی طرف سے قصور بھیڑ کے بچے کا ہی ہو گا کیونکہ وہ ایک ناتواں مخلوق اور بھیڑیا خونخوار درندہ۔

اب بات کرتے ہیں ان انسان نما بھیڑوں کی جنہیں عرف عام میں عوام کہا جاتا ہے اور جنہیں چھیر پھاڑ کر کھانے کے لیے انسان نما بھیڑئیے ہر جائز و ناجائز طریقے سے اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔ یہ بھیڑئیے بلی کی طرح 9 سو چوہے بھی کھاتے ہیں اور حج بھی کرآتے ہیں۔ یہ اربوں لوٹیں تو لاکھوں دے کر پاک صاف ہو جاتے ہیں۔ غریب عوام کے خون پسینے، کمیشنوں، رشوت اور ناجائز حرام کی کمائی سے یہ بیرون ملک علاج کے لئے بھی جاتے ہیں، حج اور عمرے کرتے ہیں اور باقاعدہ صدقات و خیرات کرتے ہیں، ماہانہ محفلوں اور کھانوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ لوگوں کے ضمیر خریدنے کا فن بھی انہیں خوب آتا ہے۔ بھوکے ننگے غریبوں کے خون سے ان کی صنعتیں تو چلتی ہیں مگر غریب کا چولہا نہیں جلتا۔

صد افسوس کہ پاکستان کا مطلب کیا ‘ لاالہ الا اللہ والی کوئی لیگ رہی نہ لیگی۔ ان سب کا نظریہ سوچ اور عمل یہ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا ‘ دن رات لوٹ کر کھا۔ جھوٹ ان کی مادری زبان ہے اور یہ منافقت ، جھوٹ اور چالاکیوں کوہی سیاست سمجھتے ہیں اور اب تو اعلانیہ کہتے بھی ہیں۔ سیاسی مراتب کو ماپنے کا پیمانہ بھی جھوٹ عیاری و مکاری ہے۔ جو جتنا بڑا جھوٹا‘ بدیانت اور مکار ہو گا اُسے اتنا ہی بڑا عہدہ اور پروٹوکول ملے گا۔ غریب ٹریفک کا اشارہ کسی غلطی یا مجبوری میں بھی توڑ دے تو ناقابل معافی جرم ٹھہرتا ہے اور سخت سے سخت قانونی کاروائی ہو تی ہے اور یہ بادشاہ لوگ ملک توڑیں یا آئین پامال کریں انھیں گارڈ آف آنر اور کلین چِٹ ہی ملتی ہے۔

اس دھرتی دیس سے ان کو اتنا پیار ہے کہ خدا کے فضل و کرم سے یہ اور ان کی اولادیں یہاں رہنا اور یہاں کاروبار کرنا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی یہاں پڑھنا ان کے معیار کے مطابق ہے۔ ان کے بچے بیمارہوں تو علاج لندن میں ہوتا ہے یا امریکہ میں۔ یہ بڑے سخی اور حاتم ہیں‘ عوامی بھیڑوں کے لئے انھوں نے ایسے ہسپتال قائم کئے ہیں جو علاج گاہوں سے زیادہ بیمار یوں کی پناہ گاہیں ہیں۔ جہاں کا رُخ کرنے سے بیمار تو بیمار اس کا وارث جیتے جی بے موت مر جاتا ہے۔

قصور پھر بھی بھیڑیوں کا نہیں بلکہ بھیڑوں کا ہے کیونکہ ان کا دین، اخلاقیات ، فکرو دانش اور سب کچھ پیٹ اور صرف پیٹ ہے جبکہ بھوک انسان سے ساری صلاحیتیں چھین لیتی ہے اور جن کے گھر دانے ہوتے ہیں ان کے کملے بھی سیانے ہوتے ہیں۔ مقتدر بھیڑیوں نے ایک سوچی سمجھی ساز ش کے تحت اپنے وطن دھرتی میں بھوک اور افلاس کی فصلیں بو رکھی ہیں تاکہ بھیڑوں کی سوچیں مفلوج ہی رہیں اور ان کی اراضی و ریاضی ہمیشہ 2 + 2 = چار روٹیاں ہی رہے۔ دنیا کا کوئی سماج کوئی نظریہ و مذہب اور کوئی دین و آئین بھوکے سے قانون کی پاسداری کی ضمانت نہیں مانگتا بلکہ اُس کی بھوک مٹانے کا اہتمام کیا جاتا ہے پھر بعد میں قوانین و ضوابط کا احترام سکھایا جاتا ہے۔

بھوک پھرتی ہے میرے دیس میں ننگے پاؤں

رزق ظالم کی تجوری میں چھُپا بیٹھا ہے

تبدیلی سرکار نے 50 لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے و عہد فرما کر ووٹ لیے لیکن نئے پاکستان میں کہیں کوئی بھرتیاں ہو رہی ہیں نہ نئی آسامیاں سامنے آ رہی ہیں۔ بس بھیک ہے اور بھوک ہے‘ ساتھ ساتھ تبدیلی کی تان ہے اور نئے پاکستان کی گردان ہے۔ بڑے بڑے محلات بنگلوں میں گھوڑے اور کتے بھی سونے کے نوالے لیتے ہیں اور ایک عام انسان دو وقت کی روٹی کو ترستا ہے۔

گندم امیرِ شہر کی ہوتی رہی خراب

بیٹی کسی غریب کی فاقوں سے مر گئی

اور اب اگر بات کریں بھاری بیرونی سودی قرضوں کی تو میں نے نواز دور میں ہی لکھ دیا تھا کہ ’’گزشتہ سولہ سالوں کے دوران قرضوں میں ساڑھے سولہ ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ موجودہ حکمرانوں نے اڑھائی سالوں میں پانچ ہزار ارب روپے کے قرضے لیے ہیں اور آثار یہ نظر آ رہے ہیں کہ آئندہ آنے والے حکمرانوں کا انحصار بھی بھاری قرضوں پہ ہی ہو گا‘ وہ ان سے بھی زیادہ قرضے لیں گے بلکہ حکومتی اخراجات پورے کرنے کی خاطر ’’بسمہ اللہ‘‘ آغاز ہی قرضوں سے ہو گا‘‘۔ اور آج کے حالات و معاملات آپ سب کے سامنے ہیں۔

ہم بھی کیا عجیب ہیں کڑی دھوپ کے تلے

صحرا خرید لائے ہیں برسات بیچ کر


ای پیپر