Image Source : ISPR

پلوامہ حملے کی ساز ش پاک فو ج نے بے نقاب کر دی
22 فروری 2019 (17:10) 2019-02-22

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی فوج ہمیں حیران نہیں کرسکتی ہم آپ کو حیران کریں گے۔ اس بار فوجی ردعمل مختلف قسم کا ہوگا۔ ہم جنگ کی تیاری نہیں کر رہے، دفاع کرنا ہمارا حق ہے۔ جنگ اور بدلے کی دھمکی بھارت کی طرف سے آئی ہے۔ بھارت میں یہ بات چیت ہو رہی ہے پاکستان جنگی تیاریاں کر رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے کے فوری بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات کی بارش کر دی۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو الزامات کا جواب دیا۔ پاکستان نے اپنے طور پر واقعے کی تحقیقات کیں، اسلیے جواب دینے میں تھوڑا وقت لگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے وزیراعظم نے بھارت کو وہ پیش کش کی جو پہلے نہیں کی گئی۔ ہم خطے میں امن کی کوشش کر رہے ہیں، معاشی استحکام کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے پاکستان کی طرف سے کوئی ایل او سی کراس کرے۔ پاکستان بدل رہا ہے، ایک نیا مائنڈ سیٹ آرہا ہے۔

پلوامہ واقعہ اس علاقے میں ہوا جہاں مقامی آبادی سے زیادہ فوج بیٹھی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کا لیئر ڈیفنس ہے۔ حملہ جس نے کیا وہ مقبوضہ کشمیر کا مقامی نوجوان تھا۔ بھارت میں بھی آج کل الیکشن کا سیزن چل رہا ہے۔ جو ویڈیو ریلیز کی گئی اس کا تجزیہ بھی بہت سے اشارے دے گا۔

آنیوالی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کی سوچ پاکستان میں پنپ رہی ہے۔ ہم خطے میں امن کی کوششیں کر رہے ہیں۔ فوج اور عوام نے خون کے سمندر سے گزر کر ملک کو جلا بخشی۔

پاکستان میں 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بھارت کی جانب سے نوجوان نسل کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ 1947 میں پاکستان آزاد ہوا، اس حقیقت کو بھارت آج تک تسلیم نہیں کرسکا۔ 1965 میں ایل او سی پر کشیدگی ہوئی، بھارت اسے بارڈر پر لے آیا، 65 کی جنگ کے ہمارے ملک پر اثرات ہوئے۔ بھارت نے کشمیر پر حملہ بھی کیا اور 70 سالوں سے کشمیر پر قابض ہے۔ 1971 میں بھارت نے سازش سے پاکستان کو دولخت کیا۔ 2001 میں انٹرنیشنل فورسز نے طالبان کیخلاف افغانستان میں کارروائی شروع کی۔ 2008 میں ہمیں کامیابیاں مل رہی تھیں کہ بھارت اپنی فوجیں سرحد پر لے آیا۔ 1998 میں ہم نے جوہری طاقت اپنے دفاع کیلئے حاصل کی۔ 2 جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ کا واقعہ ہوا۔ پاکستان نے بھارت کو ہمیشہ امن کی پیش کش کی۔

سائبر وار چل رہی ہے جسے ہائبرڈ وار بھی کہا جاتا ہے۔ 2008 میں ہم دہشتگردی کیخلاف بھرپور جنگ لڑ رہے تھے اور بھر پور کامیابیاں مل رہی تھیں۔ اس وقت بھارت اپنی افواج کو بارڈر پر لے آیا، پاکستان میں حالات بہتر ہوں تو بھارت انہیں خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

پاکستان میں کوئی اہم ایونٹ ہونا ہو یا ملک مستحکم ہو رہا ہو تو مقبوضہ کشمیر یا بھارت میں کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے۔ جیسے سعودی ولی عہد کا پاکستان کا دورہ تھا، کانفرنس ہو رہی تھی۔ ممبئی حملے کے وقت بھی بھارت میں عام انتخابات ہونے تھے۔ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کا کیس چل رہا تھا۔ افغان امن عمل کا پراسس اسی ماہ چل رہا تھا۔ کرتارپور بارڈر پر دونوں ملکوں کی میٹنگ ہونا تھی۔ 8 ایسے ایونٹس تھے جو پاکستان میں ہونے تھے۔ ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ پر ڈسکشن ہونی تھی اور ایک اہم فیصلہ ہونا تھا۔ لائن آف کنٹرول پر ہم نے 5 کراسنگ پوائنٹ بھی قائم کیے۔ بھارت میں متعدد افراد اس حملے کی پیشگوئی کر رہے تھے۔


ای پیپر