” ایک تھا ہندوستان“
22 فروری 2019 2019-02-22

پلواما حملے کے بعد بھارت جو کچھ کر رہا ہے وہ اوسط فہم رکھنے والوں کی سمجھ میںبھی آنے والا ہے کہ نریندر مودی کو انتخابات میں جانا ہے اور ان انتخابات سے پہلے بی جے پی کی قیادت نے جن اچھے دنوں کا وعدہ کیا تھا وہ نہیں آئے ،بھارتی حکومت نے سرمایہ کاروں اور سرمایہ داروں کو اسی طرح مایوس کیا ہے جس طرح غریبوں کی زندگیوں میں انقلاب لانے کے دعووں سے اقتدار میں آنے والی کسی بھی ترقی پذیر ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت کی نااہل حکومت کر سکتی ہے۔ اب ان کے پاس صرف وہی جنونیت سے بھرا ہندوتوا کا نعرہ ہے جو گجرات میں لگایا گیا تھا ۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے بھارتی گیڈر بھبکیوں کے جواب میں مختصر مگر جامع خطاب نے عقل ،دانش اور منطق رکھنے والے ہر شخص کو متاثر کیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ فوج کے بھرپوراعتماد کی حامل نئی پاکستانی حکومت ہندوستان کی بڑی اقلیت سکھوں کے لئے کرتار پور بارڈر کو کھول رہی ہے، وہ بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کی پیش کشیں کر رہی ہے، وہ ملک کی معاشی حالت کو پرانی ڈگر پر لانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کرتے ہوئے سعودی ولی عہد کے دورے پر شاداں و فرحاں ہے تو ایسے میں کوئی مہم جوئی کیسے کی جاسکتی ہے۔ کسی بھی واردات کے مجرم کو پکڑنے کے لئے ’ فائدے‘ اور ’حالات ‘کے اصولوں کوتفتیش کا بنیادی طریقہ کار ہے جو بعض اوقات نوے فیصد تک درست کام کرتا ہے اور دس فیصد کمی بیشی فرانزک اور چشم دید شہادتوںسے پوری ہوجاتی ہے۔ فائدے کے اصول میں دیکھنا یہ ہے کہ کسی بھی جرم سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے اور نقصان کس کوہو رہا ہے۔ اگر آپ پلواما میں ہونے والی دہشت گردی کی حقیقت تک پہنچنا چاہتے ہیں تو آپ کو ان لوگوں کو ضرور شامل تفتیش کرنا ہو گا جو اس سے سیاسی و انتخابی فائدہ اٹھا رہے ہیں، یہ نریندر مودی اور اس کی جماعت ہیں، ان کی اس وقت حکومت ہے اور” را“ جیسی بدنام زمانہ ایجنسی ان کے اشاروں پر ناچ رہی ہے جبکہ نقصان سراسر پاکستان کا ہے کہ اسے اہم ترین سفارتی موقعے پر دفاعی پوزیشن میں آنا پڑ رہا ہے۔

فائدے کے بعد تفتیش کا دوسرا اصول حالات و واقعات کی گواہی ہے اور اگر آپ اس حملے میں پاکستان کو ملوث کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو بتانا پڑے گا کہ کوئی بھی شخص مقبوضہ کشمیر میں پلواما کے مقام پر ڈیڑھ سو کلومیٹر اندر تک تین سو بیالیس کلو گرام باردوی مواد کیسے لے جا سکتا ہے جب آپ نے مقبوضہ کشمیر میں ہر سات سے دس کلومیٹر کے بعد بھارتی فوج کی ایک چھوٹی یا بڑی چیک پوسٹ بنا رکھی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ جب تک آپ کوئی نہ کوئی سہولت کاری نہ کریں، یہ امر ممکن ہی نہیں ہے اور سہولت کاری کرنے والے یقینی طور پرمجاہدین نہیں ہوسکتے، بھارت کی فوج اور ایجنسیاں ہی ہو سکتی ہیں۔ آپ کو اس سوال کا بھی جواب دینا ہوگا کہ کیا آپ کا سیکورٹی کا نظام اتنا کمزور ہے جو اڑھائی ہزار جوانوں پر مشتمل کانوائے کی نقل و حرکت کو بھی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے اوراس کے بعد اگلا سوال اس سے بھی زیادہ خوفناک اور حقائق کو واضح کرنے والا ہے کہ بھارت مرنے والوں کی مذہبی اورنسلی وابستگیوں کی تفصیل جاری نہیں کر رہا اور کیا یہ امر ایک حقیقت نہیں کہ خود کش حملہ آور نے ایک ایسی وین کو نشانہ بنایا جس میں اکثریت ہنندووں کی بجائے سکھوں کی تھی،کیا یہ محض اتفاق تھا یا ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ تھا ، میں مرنے والوں میں سکھوںکی بڑی تعداد کے ہونے کو محض اتفاق نہیں سمجھتا۔

میں بھارتیوں کو سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارموں پر دیکھتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کس طرح ایک ’ پرسیشن ‘یعنی تاثریا تصور قائم کرکے اپنے شہریوں کو بے وقوف بنا رہی ہے۔ یہ ایک آزمودہ طریقہ کار ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ وہ سچ لگنے لگے۔ گوئبلز کو فالو کرنے والے جھوٹ کی سائنس میں اتنا آگے بڑھ گئے ہیں کہ وہ ایک جھوٹ کو دوسرے جھوٹ کی دلیل بناتے ہیں اور یوں جھوٹ کا ایک محل کھڑا کر دیتے ہیں۔ یہ کام ہماری سیاست میں بھی ہوا ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے مخالفین کی کرپشن کی اتنے تسلسل اور شدت کے ساتھ کہانیاں بیان کیں کہ ان کے حامی انہیں سچ سمجھنے لگے۔ جس وقت ان کہانیوں کو سچ ثابت کرنے کا وقت آیا تو اب عدالتوں سمیت پر جگہ آئیں بائیں شائیں ہورہی ہے۔ میں اس موضوع پر داخلی سیاست اور مسائل کو بوجوہ زیر بحث نہیں لاناچاہتا لہذا واپس اسی بات پر آتا ہوں کہ بھارتیوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آگے ہونے کی بنیاد پردنیا کے سامنے پاکستان کا ایک بے بنیاد تصور بنادیا ہے اور معذرت کے ساتھ ہم اس کا مقابلہ کرنے میں پوری طرح کامیاب نظر نہیں آ رہے۔حالات یہ ہو گئے ہیں کہ بااثر بھارتی کلبھوشن کیس میں ہمارے حقائق بیان کرنے پر ہمارے دفتر خارجہ کے ترجمان کا ٹوئیٹر اکاونٹ تک معطل کروا دیتے ہیں جبکہ ہمارے سوشل میڈیا کے گرو اور ایکسپرٹس داخلی محاذ پر جعلی ٹوئیٹس اور خبروں کی بھرمار کو ہی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں بطور قوم اپنی توانائیوں کے استعمال کی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی طرح حقیقی جنگ میں بھی کامیابی حاصل کر سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ پاکستان کی فرسٹ لائن آف ڈیفنس کا دورہ کیا۔ واہگہ ٹاون میں ویسیمیہ ، بھسین اور دیگردیہات کے رہنے الوں سے ملاقاتیں کیں۔ یقین کریں وہ لوگ بھارتی دھمکیوں سے ہرگز مرعوب نہیں، وہاں معمول کی زندگی ہے، فصلیں کاٹی جار ہی ہیں، سکول کھلے ہوئے ہیں، دکانیں چل رہی ہیں۔ چئیرمین سلمان بٹ اور وائس چئیرمین محمد جاوید کے ساتھ ان دیہات کا وزٹ انتہائی خوشگوار تھا جب میں نے دیکھا کہ محفلوں میں رونقیں ہیں، تاش کی بازیاں لگ رہی ہیں۔ خواتین کہہ رہی ہیں کہ وہ بھارتیوں کا ڈنڈوں، پتھروں اورجوتوں سے مقابلہ کرنے کے لئے بھی تیار ہیں اور دوسری طرف بھارت ہے جس میں اس وقت ساٹھ سے زیادہ علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو میرے مہربان دوست کرنل ریٹائرڈ سیف قریشی کے مطابق ہم تو اکہتر کا بدلہ لینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ انڈیا کی فوج میں موجودہ ہائی کمان کے پاس کوئی فوجی تجربہ نہیں مگر ہم نے گذشتہ چالیس برسوں میں دہشت گردی کے خلاف ایک باقاعدہ جنگ لڑی ہے۔ دشمن یہ سمجھتا تھا کہ ہم کمزور ہو رہے ہیں مگر اب وہی کمزوری تجربہ، کمٹ منٹ اور طاقت بن کے سامنے آ رہی ہے۔ سکواڈرن لیڈر محمد عبدالنعیم نے گپ شپ لگاتے ہوئے کہا کہ یہ جو آپ بھارتیوں کی دھمکیوں کے باوجود پاکستانیوں کو بے فکرا دیکھ رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اپنی فوج پر اعتماد ہے کہ وہ ان کا دفاع کر سکتی ہے اور یہ بات درست ہے کہ تمام پاکستانی چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں پاکستانی فوج کے پروفیشنل ازم کو سراہتے ہیں۔ کرنل ریٹائرڈ فرخ چیمہ نے درست کہا کہ بھارت نے کوئی حماقت کر سکتا ہے کیونکہ حماقت کی کوئی حد نہیں ہوتی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا ۔تھوڑی سی تحقیق کیجئے تو آپ کو علم ہوجائے گا کہ بھارت ایک ٹائم بم پر بیٹھا ہوا ہے۔ آسام، ناگالینڈ، میزو رام، تری پورہ، منی پورہ، اروناچل پردیش، مغربی بنگال، اڑیسہ، مہاراشٹر، مشرقی پنجاب سمیت پینسٹھ مقامات پر ہی یہ ٹائم بم مسلسل ٹک ٹک نہیں کر رہا بلکہ ایک دوسری تقسیم بھی باردوی لکیر کی طرح پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ اس وقت ہندوستان میں کشمیری مسلمان ہی تنگ اور پریشان نہیں بلکہ سکھ، عیسائی اور دلت بھی ظلم و ستم کا شکار ہیں اور ہندوستان سےالگ ہونا چاہتے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ چین، نیپال اور بنگلہ دیش سمیت اس کے تمام ہمسائیوں کو اس سے مسائل ہیں۔ ہندوستان نے یہاں اگر کوئی حماقت کی تو ان بہت سارے بموں کی پنیں ایک ساتھ نکل جائیں گی اورنریندرمودی انتخابات میں کامیابی کے سودے میں کثیر النسلی اور کثیر المذہبی بھارت کو سوویت یونین کی طرح محض کتابوں میں موجود داستان بنا دیں گے۔


ای پیپر