پاکستان کی خواتین سفیر کون کون سی؟
22 فروری 2018 (19:00) 2018-02-22

مقبول خان

دنیا میں حکمرانی کے تصور کے ساتھ ہی سفارتکاری کا سلسلہ شروع ہوا ہے، تا ہم مختلف ادوار میں سفارتکاری مختلف ناموں کے ساتھ مروج رہی،وقت گزرنے کے ساتھ اس کے تقاضے بدلتے رہے اور سفارتکاری کی ضرورت اور اس کا دائرہ کار وسعت اختیار کرتا گیا۔جدید سفارتکاری کا آغاز اٹھارہویںصدی میں ہوتا ہے اور اسے حکومت کا اہم شعبہ قرار دیا گیا اور حکومتیں اپنا مؤقف اور نقطہ نظر دوسرے ممالک تک پہنچانے کیلئے اور اسے فروغ دینے کیلئے بیرون ملک دفاتر قائم کئے گئے۔ جنہیں سفارت خانوں اور قونصل خانوں کا نام دیا گیااور وہاں متعین افسر کو سفیر ، قونصل جنرل،سفارتکار اور اتاشی کا نام دیا گیا۔وقت گزرنے کے ساتھ اس میں مزید وسعت آتی رہی اور سفارتخانہ کے مختلف شہروں میں ذیلی دفاتر بھی قائم ہوتے گئے ۔جنہیں قونصلیٹ کا نام دیا گیا۔ ابتدا میں سفارتکاری کے شعبے میںصرف مرد ہی کام کرتے تھے۔کافی عرصے تک خارجہ امور اور سفارتکاری کا شعبہ خواتین کیلئے شجر ممنوعہ رہالیکن بعد ازاں اس شعبے میں خواتین بھی شامل ہوتی رہیںلیکن خواتین کی سفارتکاری کے حوالے سے 72سال قبل برطانوی ڈپلومیٹک سروس سے خواتین کو یہ کہہ کر نکال دیا گیاکہ وہ دیگر ممالک کے ساتھ خارجہ امور اور سفارتکاری کے معاملات اور انتظامی امور کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتی ہیںاور انہیں ان امور کو نمٹانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے لیکن موجودہ دور میں سفارتکاری کے شعبے میں خواتین کا کردار موثر اور قائدانہ ہوتا جارہا ہے جب کہ بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں دور جدید میں بھی خواتین کو خارجہ امور اور سفارتکاری کی ذمہ داریوںسے محروم رکھا گیا ہے، دوسری طرف جہاں سفارتکاری کے جدید رجحانات کو پذیرائی حاصل ہے ،وہاں میرٹ کی بنیاد پر خواتین کو بھی خارجہ امور اور سفارتکاری کی ذمہ داریاں تفویض کی جارہی ہیں۔21ویں صدی کو سماجی اور معاشی طور پر خواتین کو با اختیار بنانے کی صدی کہا جارہا ہے،اس میں خواتین کو سفارتکاری اور خارجہ امور سے دور رکھنے کے تصورات اور نظریات کو بتدریج نا قابل قبول قرار دیا جارہا ہے۔ پاکستان میں ابتدا ء ہی سے خواتین کو محدود پیمانے پر سفارتکاری اور خارجہ امور میں ذمہ داریاں تفویض کی جاتی رہی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شعبے میں بھی خواتین کا عمل دخل بڑھتا چلا گیا۔ پاکستان میں جن خواتین نے سفارتکاری کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ان خواتین میں بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم شائستہ اکرام اللہ، سیدہ عابدہ حسین، شیری رحمن ،حنا ربانی کھر، ملیحہ لودھی اور تہمینہ جنجوعہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں حنا ربانی کھر کو پاکستان کی پہلی وزیر خارجہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔یہاں ہم اہم خاتون سفارتکاروں اور بیرن ملک پاکستان کی خواتین سفیروں کا جائزہ لیتے ہیں:۔

بیگم رعنا لیاقت علی خان

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں قائد اعظمؒ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان سمیت تحریک پاکستان کے دیگر قائدین کے ساتھ جدوجہد کی ۔انہیں پاکستان کی پہلی خاتونِ اوّل اور پاکستان کی پہلی خاتون گورنر اور پہلی خاتون سفیر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، بیگم رعنا لیاقت علی خان نہ صرف سفارتکاری کے میدان سے وابستہ رہی ہیںبلکہ پاکستان کے عوام باالخصوص خواتین کیلئے ان کی تعلیمی ،سیاسی اور سماجی خدمات قابل ذکر ہیں۔لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد 1954ء میں انہیں ہالینڈ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ ہالینڈ میں 7سال تک سفیر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔ اس سے قبل وہ اقوام متحدہ میں مسلمان پاکستانی خواتین کے وفد کی سربراہی بھی کرچکی تھیں۔ پاکستان کے پہلے فوجی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور حکومت میں انہیں ہالینڈ کے سفیر کے منصب سے سبکدوش کیا گیا۔ جس کے بعد خواتین کی فلاح بہبود کیلئے اپنی قائم کردہ تنظیم آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن المعروف اپوا کے پلیٹ سے خواتین کی بہبود کیلئے خدمات انجام دیتی رہیں۔انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ فوجی حکومت کیخلاف جدوجہد میں بھی نمایا ں کردار ادا کیا، جمہوریت کی بحالی کی جدجہد کو بیگم رعنا لیاقت علی جدوجہداور خدمات کے اعتراف میں انہیں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید نے سندھ کاگورنرنامزد کیا۔اس طرح انہیں پاکستان کی پہلی خاتون گورنر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، انہوں نے سندھ کے 10ویں گورنر کی حیثیت سے 15فروری 1973ء کو گورنر کے منصب کا حلف اٹھایااور 28فروری 1976ء تک اس منصب پر فائز رہیں۔ان کا انتقال 13جون 1990ء کو ہوا تھا۔

بیگم شائستہ اکرام اللہ

بیگم شائستہ اکرام اللہ کو پاکستان کی دوسری خاتون سفیر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، یہ 1964ء سے1967ء تک مراکو میں پاکستان کی سفیر رہی ہیں۔یہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی پہلی خاتون مندوب بھی رہی ہیں۔22 جولائی 1915ء کو غیرمنقسم ہندوستان کے شہر کلکتہ میں پیدا ہونے والی بیگم شائستہ اکرام اللہ کا نام شائستہ اختر بانو سہروردی ہے۔ وہ لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر حسن سہروردی کی اکلوتی صاحبزادی تھیں۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم حسین شہید سہروردی ان کے فرسٹ کزن تھے۔ان کی شادی غیر منقسم ہندوستان میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر اکرام اللہ سے ہوئی تھی۔ اکرام اللہ کو پاکستان کا پہلا سیکریٹری خارجہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ان کی ایک صاحبزادی اردن کی شہزادی ثروت ہیں، جواردن کے ولی عہد کی اہلیہ ہیں۔بیگم شائستہ اکرام اللہ تمام عمر انسانی حقوق کی مکمل بحالی کیلئے جدوجہد کرتی رہیں۔انہوں تحریک پاکستان میں بھی سرگرم کردار کیا،اور مادر ملت فاطمہ جناح کے مسلم ویمن سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی تھی اور بر صغیر کی مسلمان خواتین میں بیداری پیدا کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

سیدہ عابدہ حسین

معروف سیاستدان سیدہ عابدہ حسین کو امریکا میں پاکستان کی پہلی خاتون سفیر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔وہ 26نومبر 1991ء سے 24جنوری 1997ء تک امریکا میں سفیر رہیں۔یہ جنوبی پنجاب کے جاگیردار خاندان سے تعلق رکھنے والے سید عابد حسین کی صاحبزادی ہیں۔ سید عابد حسین غیر منقسم ہندوستان میں قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے ۔عابدہ حسین نے پاکستان اور بیرون ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ۔ سیدہ عابدہ حسین کی شادی ان کے کزن فخر امام کے ساتھ ہوئی تھی۔ فخر امام غیر جماعتی بنیاد پر 1985ء میں ہونے والے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے تھے جبکہ سیدہ عابدہ حسین ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی جنرل نشست پر منتخب ہونے والی پہلی خاتون بھی ہیں ۔یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے بھی وابستہ رہی ہیں۔شہید بے نظیر بھٹو اور شہزادہ ڈیانا کے ساتھ ان کے ذاتی مراسم رہے ہیں۔سیدہ عابدہ حسین ایک ایسے وقت میں امریکا کی سفیر مقرر کی گئی تھیںجب امریکا نے پہلی مرتبہ شدت کے ساتھ پاکستان کے جوہری پروگرام کو ’’رول بیک‘‘ کرنے کا مطالبہ کیا تھااور ایف 16فیلکن طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔ایسے نازک موقع پر سیدہ عابدہ حسین نے مؤثرسفارتکاری کا مظاہرہ کیا، اور پاک امریکی تعلقات معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیاتھا۔اس وقت وہ کسی سیاسی جماعت سے عملی طور پر وابستہ نہیں ہیں۔

شیری رحمن

21دسمبر1960ء کو کراچی میں حسن علی رحمن کے گھر پیدا ہونے والی شیری رحمن کی والدہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نائب گورنر بھی رہی ہیں۔ شیری رحمن اس وقت سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی رکن ہیں۔ صحافت سے کیریئر کا آغاز کرنے والی شیری رحمن نے سیاست اور سفارتکاری کے شعبوں میں بھی نمایا ں خدمات انجام دی ہیں۔وہ 2002ء میں پہلی بار پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیںاور سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کے دور میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کی گئی تھیں۔میمو اسکینڈل کے نتیجے میں حسین حقانی کو امریکا میں پاکستان کے سفیر کے طور پر مستعفی کرایا گیا۔ان کی جگہ پر نومبر2011ء میں شیری رحمن امریکا میں سفیر کے منصب پر فرائض انجام دیتی رہیں۔انہیں مئی2013ء میں اس منصب سے سبکدوش کیا گیا۔ جس کے بعد وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹ کی رکن منتخب کی گئیںاور اب تک وہ سینیٹر کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔

نائلہ چوہان

نائلہ چوہان بھی پاکستان کی خواتین سفارتکاروں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔6مئی1958ء کو پیدا ہونے والی نائلہ چوہان نے پاکستان کی قائداعظم یونیورسٹی اور فرانس کے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے حصول علم کیا۔وہ انگریزی،فرنچ،فارسی،بنگالی ،اردو اور پنجابی سمیت 7زبانوں میں روانی کے ساتھ گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔نائلہ چوہان نے اپنے کیریئر کا آغاز پاکستانی دفتر خارجہ میں پاک چائنا ڈیسک سے کیا تھا۔ یہ اب تک 5مختلف ممالک بشمول ملائشیا، مشرق وسطیٰ، ارجنٹائن اور ایران میں سفارتکاری کے 8مختلف مناصب پر فرائض انجام دے چکی ہیں۔جن میں آسٹریلیا میں ہائی کمشنر کا منصب بھی شامل ہے۔نائلہ چوہان حقوق نسواں کی بڑی علمبردار ہیں اور صنفی امتایزاور انسانی حقوق کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔اس کے علاوہ دیگر خواتین نے بھی سفارتکاری اور خارجہ امور کے مختلف مناصب پر خدمات انجام دی ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ میں اس وقت 39خواتین ہیں ،جن میں 19خواتین افسران اسلام آباد ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہیں جبکہ 20خواتین بیرون ملک خدمات انجام دے رہی ہیں، اگرچہ اس اہم شعبے میں صنفی توازن کے اعتبار سے خواتین کی تعداد کم ہے لیکن پاکستان کے مرد بالا دست معاشرے میں خواتین کی یہ تعداد حوصلہ افزا ہے۔ سفارتکاری اورخارجہ امورکے شعبے میں خواتین کی تعداد میں مزید اضافہ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈاکٹرملیحہ لودھی

ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا شمار نہ صرف پاکستان کی معروف اور تجربہ کارسفارتکار وں میں ہوتا ہے بلکہ اقتصادیات ، سماجی سیاست ، صحافت کے شعبوں سمیت تدریس کے میدان میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔عملی سیاست سے دور رہنے والی ملیحہ لودھی نے شہید بے نظیر بھٹو، میاں محمد نوازشریف اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار حکومت میں سفارتی اور اقتصادی شعبوں کے اہم مناصب پرذمہ داریاں نبھائی ہیں۔15نومبر 1952ء کو لاہور کے اپر مڈل کلاس خاندان میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے لندن اسکول آف اکنامکس سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی ۔بعد ازاں اسی تعلیمی ادارے میں کچھ عرصے تک تدریس کے فرائض انجام دیتی رہی ہیں۔یہ نہ صرف امریکا میں پاکستان کی سفیر رہیںبلکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب بھی رہی ہیں۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں تخفیف اسلحہ کی ایڈوائزری بورڈ کی رکن بھی رہی ہیں۔

تہمینہ جنجوعہ

سفارتکاری اور خارجہ امور کا تجربہ رکھنے والی تہمینہ جنجوعہ کو پاکستان کی پہلی سکریٹری خارجہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔انہوں نے مارچ 2017ء میں پاکستان کے 29ویں سکریٹری خارجہ کا چارج سنبھالا تھا۔2011ء میں دفتر وزارت خارجہ کی ترجمان مقرر کی گئی تھیں۔ 1984ء میں وزارت خارجہ جوائن کرنے والی تہمینہ جنجوعہ نے پاکستان کی قائد اعظم یونیورسٹی اور امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔تہمینہ کو اٹلی میں اقوام متحدہ کے سفیر کے طور پر بھی کام کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔تہمینہ جنجوعہ نے سکریٹری خارجہ نامزد ہونے کے بعد اپنے امریکی ہم منصب ایلس ویلز سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیاتھا کہ باہمی احترام اور عزت پر مبنی پاک امریکی تعلقات کے فروغ اور خطے میں پائدار امن اور استحکام کیلئے کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیاتھا۔توقع ہے کہ تہمینہ جنجوعہ موجودہ عالمی صورتحال کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کشیدگی سے پاک،امریکا اور پاکستان کے تعلقات کو فروغ دینے میں اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تجربہ کو بروئے کار لائیں گی۔

٭٭٭

ڈیک:

خواتین کی سفارتکاری کے حوالے سے 72سال قبل برطانوی ڈپلومیٹک سروس سے خواتین کو یہ کہہ کر نکال دیا گیاتھاکہ وہ دیگر ممالک کے ساتھ خارجہ امور اور سفارتکاری کے معاملات اور انتظامی امور کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتی ہیںاور انہیں ان امور کونبٹانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے

تہمینہ جنجوعہ کو پاکستان کی پہلی سکریٹری خارجہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔انہوں نے مارچ 2017ء میں پاکستان کے 29ویں سکریٹری خارجہ کا چارج سنبھالا تھا

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے شہید بے نظیر بھٹو، میاں محمد نوازشریف اور جنرل پرویز مشرف کے ادوارِ حکومت میں سفارتی و اقتصادی شعبوں کے اہم مناصب پرذمہ داریاں نبھائیں


ای پیپر