خانہ آبادی: ’میرے جینے پہ اعتراض نہ کر‘
22 فروری 2018 (18:36) 2018-02-22

برصغیر میں جمہوریت کی پیدائش سے بہت پہلے 1632ء میں مغل بادشاہ شاہجہاں نے ملکہ ممتاز محل جسے وہ پیار سے تاج کہا کرتا تھا اُس کی یاد میں آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے ایک بہت بڑا محل تعمیر کرایا جسے دنیا کا ساتواں عجوبہ کہا جاتا ہے۔ اسے بھی صدیوں تک محبت کا شاہکار کہا جاتا رہا مگر پھر تاریخ نے انگڑائی لی اور انڈیا اور پاکستان آزاد ہو کر جمہوریت کا حصہ بنے تو تاج محل کو محبت کا نہیں دولت کا شاہکار قرار دیا گیا ۔ ساحر لدھیانوی جیسے ثقہ بند شاعر نے اس پر مشہور نظم تاج محل میں لکھا کہ
اَن گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
تاج محل کے بارے میں موجودہ جمہوری نظریہ یہ بن چکا ہے کہ یہ کوئی قابل ذکر یادگار اس لیے نہیں ہے کہ یہ ایک بادشاہ نے عوام کی جیبوں سے نکالے ہوئے پیسے سے بنایا تھا گویا یہ نہ محبت کا شاہکار ہے نہ دولت کا بلکہ یہ تو ریاستی کرپشن اور بدعنوانی کی ایک زندہ مثال ہے۔
عمران خان کی شادی پر جس قدر تنقید اور طوفانی ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ شاید اس نے پختونخوا حکومت کے سرکاری فنڈ سے اسلام آباد کی شاہراہ کشمیر سے لے کر بنی گالہ تک سونے چاندی کی سڑکیں بنا دی ہیں تاکہ اپنی نئی دلہن کو باور کرا سکے کہ میرے گھر کے راستے میں بنائی جانے والی یہ کہکشاں فقط تیرے لیے ہے۔ جب ایسا نہیں ہے تو پھر کسی کی نجی زندگی پر اتنا واویلا کیوں۔ پاکستان میں ایسے حکمران موجود ہیں جنہیں نئی نویلی دلہن کے گھر جانے میں دقت پیش آنے لگی تو انہوں نے وہاں سرکاری خرچے سے فلائی اوور تعمیر کروا دیا لیکن اس سیاق و سباق میں ان کا کوئی نام نہیں لیتا مگر عمران خان پر بات کرنا آسان ہے اس لیے وہ ہر ایک کا سوفٹ ٹارگٹ بنے رہتے ہیں۔ اگر تنقید جائز ہو تو مزہ دیتی ہے لیکن خان کی نفرت میں دھت ہو کر ایک ذاتی، غیر سیاسی اور جائز فیصلے کو گلیوں میں گھسیٹنا سیاسی اور اخلاقی فاؤل پلے کی بدترین مثال ہے۔
اس وقت پوری دنیا میں دو عالمی سطح کے سیاستدان ہیں جو اللہ کے فضل سے چار چار بیویوں کے بیک وقت شوہر ہیں ایک تو ساؤتھ افریقہ کے صدر
جیکب زوما ہیں اور دوسرا نمبر ہمارے خادم اعلیٰ پنجاب کا ہے مگر آج تک کسی نے ان کی نجی زندگی کی طرف تنقید تو کیا آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا جبکہ عمران خان کو اسی بات پر فٹ بال بنا دیا گیا ہے۔
عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ مخالفین اس کی سیاست پر کوئی معروضی اعتراض یا قائل کرنے والی بات ڈھونڈ نہیں پاتے تو پھر ذاتیات پر اتر آتے ہیں ہمیں پاکستان کی حالیہ سیاست کا متنازع ترین کیریکٹر بنا کا پیش کیا جاتا ہے۔ نپولین بونا پارٹ نے سچ کہا تھا کہ
"There are no friends in politics, just enemies and lovers"
سیاست میں کوئی دوست نہیںہوتا۔ یا دشمن ہوتے ہیں یا پھر چاہنے والے۔ عمران خان کے ساتھ یہ دونوں چیزیں کچھ زیادہ ہی ہیں اور یہ ان کی ہمت ہے کہ وہ ان دونوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ ہمارا آج کا راوی اور مؤرخ جانبدار ہے لیکن آنے والے وقت میں جب عمران ماضی بن جائے گا تو اس وقت آج کی جو تاریخ لکھی جائے گی تو جو زندہ ہوں گے وہ یہ ضرور پڑھیں گے ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اگر پاکستان میں کوئی لیڈر پیدا ہوا ہے تو وہ عمران خان ہے جس نے طویل سیاسی جدوجہد کے بعد ایک سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی اور ملک میں status quo کے خلاف ایک جرأتمندانہ سٹینڈ لیا۔ تاریخ کا یہ عمل ابھی جاری ہے جس میں فتح اور شکست ہی معیار نہیں ہوتا۔ وہ اور اس کی پارٹی اگر اقتدار میں نہیں بھی آتے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی جدوجہد رائیگاں ہے انہیں یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے سیاست کو گلی کوچے تک devolveکیا ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح اور نیلسن منڈیلا ہی کی لیڈر شپ کوالٹی میں جہاں بہت سی قدریں مشترک ہیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ سیاست کی وجہ سے ان کی ازدواجی زندگیاں متاثر ہوئیں کیوںکہ یہ اپنی فیملی کے حصے کا وقت بھی اپنے عوام کی نذر کرتے رہے۔ عمران خان کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے۔ ان کی پہلی بیوی سے بریک اپ کی وجہ سیاسی مصروفیات تھیں۔ ان کی دوسری بیوی نے بھی شادی کے بعد بتایا تھا کہ وہ سیاسی مصروفیات میں اتنے committed ہیں کہ نہ تو اپنے لباس کا خیال رکھتے ہیں اور نہ ہی خوراک کا۔ ریحام خان کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ وہ اکثر اوقات دوپہر کا کھانا تک نہیں کھاتے تھے۔ آج وہی ریحام خان ان کے مخالفین سے کروڑوں ڈالر لے کر عمران خان کی کردار کشی پر مبنی کتاب لکھ چکی ہے اور اب کتاب کی لانچنگ محض اس لیے نہیں کی جا رہی کہ الیکشن ذرا اور قریب آجائے ۔ ریحام خان نے عمران خان کا نام بیچ کر جتنی دولت کمائی ہے، وہ عمر بھر کے لیے اس کے لیے کافی ہے۔ عمران خان کی پارٹی کی سابق لیڈر عائشہ گلالئی سے بھاری بھر کم معاوضے پر اس کے خلاف زہر افشانی کرائی گئی۔ آج وہی عائشہ گلا لئی اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کرتی پھر رہی ہے اور کہتے ہے کہ نواز شریف ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے ۔ اگر عائشہ کی عمران کے بارے میں باتوں کو سچ کہنا ہے تو پھر نواز شریف کے بارے میں اس کے بیان کو بھی سچ مانا جائے۔
امریکہ میں یہ روایت ہے کہ ہر صدارتی الیکشن مہم کے اختتام پر دونوں صدارتی امیدوار ایک ہی پلیٹ فارم پر آ کر ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں جسے دنیا بھر میں لائیو دکھایا جاتا ہے۔ عمران خان کے سیاسی calibre یا قدو قامت کا اندازہ لگانا ہے تو یہ روایت پاکستان میں شروع کر دیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ 2018ء کے الیکشن میں یہ اگر ہو جائے تو یہ جمہوریت کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کی خدمات کی معترف ہے جو گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکیوں کو قانونی و عدالتی جنگوں میں تحفظ فراہم کرتی تھیں اور حقوق نسواں کی علم بردار تھیں۔ عمران خان کی شادی پر اس جماعت کی طرف سے جو منظم پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے یہ خواتین کی بھی توہین اور تذلیل ہے اور شادی جیسے مقدس سماجی ادارے کو سکینڈ لائنر کرنے کی ایک سازش ہے جس پر خواتین تنظیموں کو نوٹس لینا چاہیے۔ اگر عاصم جہانگیر آج زندہ ہوتیں تو یقینا ن لیگ کی اس پالیسی کی مخالفت کرتیں۔
1990ء کے دور میں پاکستان میں ہونے والی انتخابی معرکہ آرائیوں کو یاد کریں تو بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی کردار کشی کے لیے جو مہم چلائی گئی تھی ، آج وہی حربہ عمران خان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے پیچھے بھی وہی سیاسی عناصر ہیں جو سابقہ دور میں تھے۔ یہ ملک کے قومی سیاسی دھارے کو آلودہ کرنے کی سازش ہے جسے ملک کے دانشور طبقون کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔ عمران خان کو جس طریقے سے بیک فٹ پر لانے کی غیر اخلاقی کوشش کی جا رہی ہے اُسے اتنا کہنے کا حق ضرور حاصل ہے کہ
میرے جینے پہ اعتراض نہ کر
یہ زمانہ تیرا زمانہ سہی


ای پیپر