’’حاسدین … بڑے لوگوں کے پیچھے … ؟‘‘
22 فروری 2018 (18:34) 2018-02-22

’’میں بھی اکثر خواب دیکھتا ہوں ‘‘ …
دوسرے لکھاریوں کی طرح … ہم ہوائی قلعے بنانے والوں کی دنیا کے لوگ ہیں، جو پھٹیچر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے مرسیڈیز گاڑی کا مزہ لے رہے ہوتے ہیں۔ ویسے بطورِ لکھاری میں خود پر فخر کر سکتا ہوں کہ ہم بھی بڑے لوگوں کی صف میں شامل ہیں، میری مراد مرزا غالبؔ، افلاطون، بابا بلھے شاہ وغیرہ … ان سب لوگوں نے بھی خواب دیکھے اور ساری زندگی ان سہانے خوابوں کے سہارے ہی بسر کر دی … غالبؔ نے خود کو یقینا کسی مغل بادشاہ کی جگہ کھڑا دیکھا ہو گا حالانکہ اُس وقت مغل بادشاہ اٹھارہویں سکیل کے آفیسر سے زیادہ اختیارات کا مالک نہ تھا۔ اُس کے پاس زخمی گھوڑوں اور بڑی عمر کے ہاتھیوں پر مشتمل شاہی سواری ہوتی تھی جو دس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی تھی … اٹھارہویں سکیل کا بھی وہ آفیسر جس کے NAB میں تین چار کیس چل رہے ہوں … اور جس نے ساری جائیداد پکڑے جانے کے خوف سے اپنی بیوی کے نام کر رکھی ہو …؟! اور خواہش کے باوجود عمرہ کرنے نہ گیا ہو … ممکن ہے اُس کی جگہ عمرہ کے سفر کے دوران کسی اور کی Posting اُس کی جگہ ہو جائے؟ … رہی بات مرزا غالب کی تو اُس نے سنا ہے شوگر کے باوجود جی بھر کر ’’آم‘‘ کھائے اور دیکھنے والے اُن کو ’’آم‘‘ کھاتا دیکھ کر حسد کا شکار ہوتے رہے… مرزا غالب اگر آج کے دور میں زندہ ہوتے اور لاہور کے PAK TEA ہائوس میں بیٹھتے تو ناصر زیدی انہیں بھی کہہ ڈالتے ’’مرزا اپنی شاعری پر توجہ دو‘‘ …
بڑے خواب دیکھنے والوں میں سقراط بھی تھا مگر وہ بھی شاید اپنے کسی بھی خواب کو عملی جامہ نہ پہنا سکا اور زہر کا پیالہ پی کر دنیا والوں کو یہ بتا گیا کہ سچ بولنا مشکل کام ہے۔ مگر ایک صدی میں مجھے لگتا ہے کہ ایک آدھ سچ بولنے والا دنیا میں ضرور پیدا ہوتا ہے ورنہ ہر روز لاکھوں کی تعداد میں چھ فٹ سات انچ کے مرد پیدا ہوتے ہیں مگر اکثر کی بیویاں بتاتی ہیں کہ وہ مرد نہ تھے، کیونکہ بیوی ایک بار چیخ کے بولے … وہ پل بھر میں سارے برتن دھو ڈالتے ہیں؟ (ہمارے دوست شاہد جاوید صاحب جب کوئی ایسی بات ہو تو محترم مدثر بھٹی صاحب کی وہ مثالیں پیش کر ڈالتے ہیں جن کا ابھی تک وہ کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے) … اور کبھی بھی بیوی کو یہ کہہ کر نہیں ڈراتے کہ ’’اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے؟‘‘ … ویسے عورتوں کو مان لینا چاہیے کہ ہر مرد کی چار خفیہ کہانیاں ہوتی ضرور ہیں؟ بابا بلھے شاہ نے بھی خواب دیکھے ہوں گے گیت کافیاں لکھی ہوں گی۔ سچ اگلا ہو گا، کسی چوہدری کو چوک میں کہا ہو گا … ’’چوہدری جی تہاڈا نالہ لمکدا پیا جے‘‘ … یا غصے میں ڈرایا ہو گا ’’چوہدری اگلے الیکشن وچ میں وی تیرے مقابلے تے الیکشن لڑاں گا‘‘ … ویسے سنا ہے کہ بابا بلھے شاہ سے قصور کے بڑے چوہدری ویسے ہی ڈرتے تھے …
بلھے شاہ نے عالی شان سچائی پر مبنی شاعری بھی کی ہو گی، مگر جب بابا بلھے شاہ فوت ہوا تو اہل محلہ، اہل شہر بلکہ دنیا والے اُسے کئی بار کافر قرار دے چکے تھے۔ اس لیے جب بابا بلھے شاہ فوت ہوئے تو اُن کی لاش شہر سے دو کلو میٹر دور ویرانے میں پڑی تھی اور ایک کھسرے نے بابا بلھے شاہ کو دفن کرنے کا فریضہ سر انجام دیا۔ قصور شہر کو کھسروں پر فخر کرنا چاہیے (یہ میری ذاتی رائے ہے) … آج پورا قصور شہر بابا بلھے شاہ کے گرد گھومتا ہے اور دنیا بھر میں لوگ قصور کو اندرسوں اور لذیز حلوے کی وجہ سے نہیں جانتے بلکہ بابا بلھے شاہ اور ملکہ ترنم نور جہاں کی وجہ سے پہچانتے ہیں … ویسے میں نے قصور کی چار پانچ مسجدوں میں حاضری دی جہاں وہ کمرے اور غربت سے لبریز سامان بطورِ یادگار موجود ہے جہاں بابا بلھے شاہ نے چلے کاٹے۔ اللہ رسولؐ کا محبت سے رات کی تاریکی میں نام لیا …
میں اکثر خواب دیکھتا ہوں جن پر میں پریشان ہوتا ہوں … شکر ہے خواب ایک وقت میں ایک ہی آدمی دیکھ سکتا ہے، اس کام میں آپ کسی کو شریک نہیں کر سکتے۔ میرے نوے فیصد خواب ایسے ہوتے ہیں جن کی تفصیل اگر میں اپنے کالم میں لکھ دوں تو میرے لیے نوویں سکیل کے سٹاف پر مشتمل اُسی طرح کی JIT بن جائے جو میاں نواز شریف کے لیے بنی تھی … اور تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی …؟ اور جس کے ’’منفی‘‘ اثرات ابھی تک قوم محسوس کر رہی ہے … اور اب تو معاملہ لگتا ہے پارلیمنٹ میں بھی ہلچل مچائے گا …
خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں چند سال پہلے میرے مرد دوستوں کو نہیں پتا تھا کہ ’’کانفرنس کال‘‘ بھی ہوتی ہے اور ’’کانفرنس کال‘‘ اس قدر خطرناک ہوتی ہے مجھے رضوانہ نے بتایا تھا کہ کل جب تم نے ’’لہر‘‘ میں آ کر موبائل فون پر مجھے با آواز بلند ہمت کر کے نہایت عاجزی سے کہا …
I Love You … تو اُس وقت دردانہ، فرزانہ، نسیم اور شائستہ میرے ساتھ ’’کانفرنس کال‘‘ پر تھیں اور تمہارا مجھے یہ ’’I Love You‘‘ کہنا اُنہوں نے لائیو ایک ساتھ سنا تھا … اور خوب تمہیں اُنہوں نے برا بھلا بھی کہا اور گالیاں بھی دیں …؟! امید ہے جس شدت سے وہ گالیاں دی گئی تھیں وہ تمہیں بھی ٹیلی پیتھی کے ذریعے پہنچ گئی ہوں گی … اور اُن کی درد بھی تم نے محسوس کی ہو گی …؟!؟ (حیرت ہے کہ بقول استاد کمر کمانی گالیوں کی انسان کو درد بھی محسوس ہوتی ہے اسی لیے اکثر لوگ تھانے سے ’’اوئی اوئی‘‘ کرتے باہر نکلتے ہیں۔ اُدھر عابد باکسر جو اوئی اوئی کرتا دبئی بھاگ گیا تھا اب ’’ہائے ہائے‘‘ کرتا پاکستان واپس آ رہا ہے اپنے جرموں کا حساب دینے) …
’’بہت افسوس ہوا کہ اُنہوں نے میرا تمہیں … ’’I Love You‘‘ کہنا ایک ساتھ سنایا حالانکہ میں اُن سب کو علیحدہ علیحدہ اُسی انداز میں ’’I Love You‘‘ کہنا چاہتا تھا ‘‘ … میں بڑ بڑایا …!
’’چلو … پھر کبھی اپنی یہ بے ہودہ خواہش بھی پوری کر لینا … ابھی کون سا تم نے ’’شرافت کی زندگی‘‘ گزارنے کا عہد کر لیا ہے‘‘ … رضوانہ غصے سے، پسینہ پونچھتے ہوئے بولی …
ویسے اُس دن کے بعد میں نے فون پر کسی کو غلطی سے بھی ’’I Love You‘‘ نہیں کہا … کیونکہ جس طرح ہر تعلیمی میدان میں آجکل لڑکیاں جھنڈے گاڑ رہی ہیں ایسے ہی جدید ٹیکنالوجی میں بھی وہ مردوں سے آگے ہیں … ممکن ہے ’’کانفرنس کال‘‘ سے بھی زیادہ جدید کوئی ٹیکنالوجی آ چکی ہو اور مرد اس سے بے خبر ہوں … میرا تازہ قطعہ ملاحظہ فرمائیں …؎
دئیے جاتا ہوں دھوکے اور خوش ہوں
ابھی اٹھا ہوں سو کے اور خوش ہوں
وہ پھر وعدہ کرے گا، جھوٹا وعدہ
تھکا ہوں خُوب رو کے اور خوش ہوں
ادھر ہمارے استاد جناب عطاء الحق قاسمی صاحب کا ایک بیان آج اخبارات میں شائع ہوا ہے جس میں اُنہوں نے وضاحت کی ہے کہ ’’مخالفین‘‘ نے اُن پر بے تحاشہ الزامات کی بوچھاڑ کر ڈالی جن میں بہت سے الزامات عام آدمی کو سمجھنے میں ممکن ہے ڈیڑھ دو سال لگ جائیں سنا ہے کوئی ’’طاقتور‘‘ خاتون اس ’’کھیل‘‘ میں اُن کے مد مقابل کھڑی ہے …
تاریخ گواہ ہے کہ اہل دانش صدیوں سے ’’ حاسدین ‘‘ کی ’’ضرب کاری‘‘ کا شکار رہے ہیں میں اور بہت سے دوست قاسمی صاحب کی تیمار داری کرنے گئے جہاں وہ اپنی ’’پلستر شدہ‘‘ ٹانگ کے ساتھ لیٹے ہوئے تھے لیکن خوشی کی بات ہے کہ نئے لطیفوں کی بارش ہوتی چلی جا رہی تھی …


ای پیپر